امیتابھ بچن کی موت کو شکست دینے کی 38 سال پرانی کہانی

فلم قلی

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, پردیپ سردانا
    • عہدہ, سینیئر صحافی، انڈیا

'لمبی عمر ہو، امیتابھ کی حالت میں کافی حد تک بہتری آئی ہے، لیکن انھیں ابھی انتہائی نگہداشت یونٹ میں ہی رکھا جارہا ہے اور شاید مزید 15 دنوں تک رکھا جائے گا۔ معمول پر آنے میں شاید مہینوں لگیں گے۔ تشویش، نیک تمناؤں، دعاؤں کے لیے شکرگزار۔‘

یہ سطریں آنجہانی ہری ونش رائے ’بچن‘ کے اس خط کی ہیں جو انھوں نے 10 اگست سنہ 1982 کو مجھے بھیجا تھا جب ان کے بیٹے امیتابھ بچن 38 سال قبل ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔

امیتابھ بچن نے اپنی 77 سال کی زندگی میں بیماری کی وجہ سے کئی بار مشکل وقت دیکھا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ وہ اپنی بیماری پر ہمیشہ فتح حاصل کرتے رہے ہیں۔

ان دنوں وہ ایک بار پھر دنیا کے خوفناک ترین مرض کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ 12 جولائی کو 11 بجتے بجتے جب امیتابھ بچن کو ممبئی کے ناناوتی ہسپتال میں داخل کرنے اور پھر ان کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت ہونے کی خبر آئی تو سب حیران رہ گئے کہ امیتابھ جیسے شخص کو کورونا کیسے ہو گیا؟

یہ بھی پڑھیے

امیتابھ بچن کی خبر کے فوراً بعد ان کے بیٹے ابھیشیک اور دوسرے دن ان کی بہو ایشوریا اور پوتی ارادھیا کو بھی کورونا انفیکشن ہونے کی خبر کے بعد گھبراہٹ مزید بڑھ گئی۔

امیتابھ کے بارے میں زیادہ تشویش ہے کیونکہ ان کی عمر 77 سال ہے اور وہ چند دوسری بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے جگر کا صرف 25 فیصد حصہ ہی کام کرتا ہے۔

امیتابھ

،تصویر کا ذریعہPRADEEP SARDANA

،تصویر کا کیپشنیہ سطریں آنجہانی ہری ونش رائے 'بچن' کے اس خط کی ہیں جو انھوں نے 10 اگست سنہ 1982 کو مجھے بھیجا تھا جب ان کے بیٹے امیتابھ بچن 38 سال قبل ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے

آج ملک بھر میں امیتابھ کی صحت کے بارے میں بے چینی ہے، میڈیا ان کی صحت کے بارے میں پل پل کی خبریں صبح صبح حاصل کرتا ہے۔

ملک کے بیشتر علاقوں میں گھروں اور مندروں میں ان کی جلد صحتیابی کے لیے پوجا اور دعائیں کی جا رہی ہیں۔

امیتابھ

،تصویر کا ذریعہEPA / DIVYAKANT SOLANKI

،تصویر کا کیپشناس وقت ملک میں نہ آج کی طرح نیوز چینلز تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا، ان سب کے باوجود ملک گیر سطح پر اس قسم کی تشویش کی مثال نہ اس سے قبل ملتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد

38 سال پہلے بھی

آج سے ٹھیک 38 سال پہلے جولائی سنہ 1982 میں بھی پورا ملک امیتابھ بچن کی صحت کے متعلق آج سے زیادہ پریشان تھا۔

کوئی ان کی لمبی عمر کے لیے پوجا پاٹ کر رہا تھا تو کوئی نئے سیارے کی پوجا کر رہا تھا، کوئی گرودوارے میں اردس کر رہے تھے، کوئی کسی پیر فقیر کے مزار پر جا کر ان کے لیے دعا مانگ رہا تھا، تو کوئی چرچ میں دعا مانگ رہا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب 26 جولائی سنہ 1982 کو بنگلورو میں فلم ’قلی‘ کی شوٹنگ کے دوران امیتابھ بچن زخمی ہوئے تھے، بڑے بڑے ڈاکٹروں نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے تھے۔ ملک بھر میں ان کی حالت ’نازک‘ ہونے کی خبر آنے کے بعد ہر ایک کی سانسیں رک سی گئیں۔

اس وقت ملک میں نہ آج کی طرح نیوز چینلز تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا، ان سب کے باوجود ملک گیر سطح پر اس قسم کی تشویش کی مثال نہ اس سے قبل ملتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد۔

امیتابھ کے ساتھ ’قُلی‘ کی شوٹنگ کے دوران جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت وہ 40 سال کے تھے۔

جن کی عمر ابھی 40 سال سے کم ہے انھیں پتا نہیں کہ 38 سال قبل جب امیتابھ بچن زخمی ہوئے تھے تو ملک میں کیسی مایوسی چھائی تھی۔ اس وقت جو مناظر تھے ان کا تصور کرنا آسان نہیں۔

میں تقریبا 43 سالوں سے امیتابھ بچن کو قریب سے دیکھتا آیا ہوں۔ ان کے والد اور معروف شاعر اور ادیب ڈاکٹر ہریونش رائے بچن میرے گائڈ رہے ہیں۔

'بچن' جی کے ساتھ قربت کی وجہ سے مجھے سنہ 1976-1977 سے ہی امیتابھ بچن سے ملنے کا موقع ان کے گھر پر ہی ملنا شروع ہوا۔

اگرچہ اس وقت نہ تو موبائل تھے اور نہ ہی فون لیکن بات کرنا آسان تھا۔ خطوط کے ذریعے بچن جی سے باقاعدہ بات چیت ہو جاتی تھی۔

چنانچہ جب امیتابھ بچن کی حالت بنگلورو میں بہت سنگین ہو گئی تو انھیں وہاں سے ممبئی کے بریچ کینڈی میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران خطوط کے ذریعے بچن جی سے بات ہوتی رہی۔ اسی طرح کبھی کبھار فون پر بچن جی سے امیتابھ کی حالت کے بارے میں پوچھ لیتا۔

امیتابھ

،تصویر کا ذریعہDIBYANGSHU SARKAR / AFP VIA GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنلڑائی کے ایک منظر میں فلم میں ولن کا کردار ادا کرنے والے اداکار پنیت اسّر کو امیتابھ کے پیٹ میں گھونسنا مارنا تھا

قلی کا وہ حادثہ کیا تھا

امیتابھ بچن جولائی سنہ 1982 میں چند دنوں تک مسلسل بنگلور میں فلم 'قلی' کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ بنگلور میں شوٹنگ کی خاص وجہ وہاں کا ریلوے اسٹیشن تھا۔

دراصل ممبئی میں ایسے سٹیشن پر شوٹنگ کی اجازت نہیں ملی تھی لیکن جب بنگلورو اسٹیشن پر شوٹنگ کی اجازت ملی تو منموہن دیسائی اپنی پوری یونٹ کے ساتھ بنگلور پہنچ گئے۔

شوٹنگ کے کچھ دن گزر چکے تھے۔ کچھ دن بعد 24 جولائی کو امیتابھ نے ممبئی سے اپنی اہلیہ جیا بچن اور بچوں شویتا اور ابھیشک کو بھی بنگلور بلا لیا۔

امیتابھ بنگلور کے ریس کورس روڈ پر واقع برطانوی دور کے ایک پرانے اور مشہور فائیو سٹار ہوٹل ’ویسٹ اینڈ‘ میں ٹھہرے تھے۔

ہر دن کی طرح 26 جولائی کو بھی جب امیتابھ شوٹنگ کے لیے باہر آئے تو کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آج کا دن امیتابھ بچن کی دنیا بدل دے گا۔ یہ دن ان کے لیے ایک نئی تاریخ لکھے گا۔

اس دن شوٹنگ کا سیٹ بنگلور یونیورسٹی کے گیان بھارتی کیمپس میں لگا تھا۔ امیتابھ سیٹ پر پہنچ کر قلی کے لباس میں آ گئے تھے۔

لڑائی کے ایک منظر میں فلم میں ولن کا کردار ادا کرنے والے اداکار پنیت اسّر کو امیتابھ کے پیٹ میں گھونسنا مارنا تھا۔

کرشمہ تنا

،تصویر کا ذریعہCOLORS

ریہرسل میں یہ مرحلہ بہ آسانی طے پا گیا۔ لیکن شوٹنگ کے آخری حصے میں کچھ ایسا ہوا کہ امیتابھ کے پیچھے ایک بورڈ آ گیا اور امیتابھ اس سے ٹکرا گئے اور دوسری جانب امیتابھ کے پیٹ میں پنیت اسر کا مکا اتنا تیز لگا کہ وہ درد سے تڑپ اٹھے۔

سین اوکے ہو گیا لیکن امیتابھ کو اتنا درد ہو رہا تھا کہ وہ کسی طرح جھک کر کرسی تک پہنچے۔ جب درد کم نہ ہوا تو وہ وہاں جاکر لیٹ گئے۔ اس وقت کسی کو محسوس نہیں ہوا کہ امیتابھ کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے۔

امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ پر تین یا چار بار اس واقعہ کا مختلف طریقے سے ذکر کیا ہے۔

اگست 2009 میں بھی امیتابھ نے بلاگ پر اس کے بارے میں لکھا تھا۔ امیتابھ لکھتے ہیں: ’اس منظر کے کٹ ہوتے ہی مجھے بہت شدید درد ہوا۔ حالانکہ سکول میں باکسنگ کے دوران میں نے کئی بار گھونسے کھائے تھے اور اس کا درد کچھ دیر بعد ہی ٹھیک ہو جاتا تھا لیکن یہ درد برداشت نہیں کیا جا رہا تھا۔ جب درد ٹھیک نہیں ہوا تو پھر میں نے من جی (منموہن دیسائی) سے کہا کہ میں ٹھیک محسوس نہیں کر رہا ہوں۔ مجھے آج کے لیے رخصت دے دو۔ پھر میں وہاں سے گاڑی لے کر ہوٹل کے لیے روانہ ہوا۔ نا ہموار راستہ بھی بہت تکلیف دہ تھا۔‘

ہوٹل پہنچتے ہی میں بیڈ پر گر گیا۔ میرے اندر اتنی سکت بچ گئی تھی کہ میں جیا سے صرف یہ کہہ پایا کہ وہ میرے ذاتی معالج ڈاکٹر شاہ کو ممبئی سے فوری طور پر فون کر کے بلائیں اور بچوں کو گھر واپس بھیج دیں۔‘

امیتابھ کی خراب حالت دیکھ کر جیا بچن پریشان ہو گئیں۔ جیا نے اپنے عملے کے ہمراہ بچوں کو ممبئی بھیجا اور ممبئی میں اپنے دیور اجیتابھ کو فون پر ساری بات بتائی اور ڈاکٹر سے صبح بنگلور آنے کے لیے کہا۔

ادھر رات کے وقت منموہن دیسائی نے دو ڈاکٹروں کو بلاکر امیتابھ کو دکھایا۔ ڈاکٹر درد کی گولیاں اور انجیکشن دے کر چلے گئے کہ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ درد ٹھیک ہو جائے گا لیکن امیتابھ رات بھر بے ہوشی کی حالت میں درد سے کراہتے رہے۔

امیتابھ

،تصویر کا ذریعہTwitter/SrBachchan

،تصویر کا کیپشنتب تک یہ خبر پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔ یہ خبر پہلے ملک کے دوپہر اور شام کے اخبارات اور پھر اگلے دن تمام اخبارات میں شہ سرخیوں میں آئی اور ریڈیو پر بھی نشر ہوئی

بیماری کی تشخیص نہیں ہو پا رہی تھی

27 جولائی کی صبح اجیتابھ ممبئی سے ڈاکٹر شاہ کے ساتھ بنگلور پہنچے۔ وہ اپنے ساتھ ایک پورٹیبل ایکس رے مشین بھی لے کر آئے تھے۔ انھوں نے ایکسرے لیا۔

لیکن امیتابھ کے لیے ہلنا بھی مشکل تھا۔ پھر ڈاکٹر شاہ نے مقامی ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد امیتابھ کو وہاں کے سینٹ فلومینا ہسپتال میں داخل کروایا۔

تب تک یہ خبر پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔ یہ خبر پہلے ملک کے دوپہر اور شام کے اخبارات اور پھر اگلے دن تمام اخبارات میں شہ سرخیوں میں آئی اور ریڈیو پر بھی نشر ہوئی۔

فلومینا ہسپتال میں امیتابھ بچن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر جوزف انتھونی نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے سنہ 2012 میں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا: ’میں امیتابھ کو نہیں پہچانتا تھا لیکن جب میں نے ہسپتال کے باہر ایک بڑے ہجوم کو ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک بڑے فلمی سٹار ہیں۔ پھر جہاں امیتابھ داخل تھے اس پوری راہداری کو ہم نے صرف امیتابھ کے لیے مخصوص کر دیا۔

جایا بچن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنان کے کمرے کے باہر بیٹھی جایا، اجیتابھ اور امیتابھ کے ایک دوست حبیب ناڈیاڈ والا پریشان تھے کہ اب کیا کریں؟

یہ سب تو ہوا لیکن کسی کو امیتابھ کی بیماری پوری طرح سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اگلے دن تک امیتابھ بچن کے حادثے کی خبر اتنی پھیل گئی کہ ان کے مداح بے چین ہو گئے۔ کوئی امیتابھ کا یہ حادثہ سن کر صدمے میں آ گیا تو کوئی زاروقطار رونے لگا۔

جولائی سنہ 1982 تک امیتابھ بچن فلم زنجیر، ابھیمان، چپکے چپکے، ہیرا پھیری، دیوار، شعلے، دو اجنبی، کبھی کبھی، امر اکبر انتھونی، پرواریش، ڈان، ترشول، مقدر کا سکندر، لاوارث، نصیب، ستے پہ ستا اور نمک حلال جیسی بہت سی سپرہٹ فلموں کی وجہ سے ملک کے سپر سٹار بن چکے تھے۔

ادھر فلومینا ہسپتال میں امیتابھ کی بگڑتی حالت کو دیکھ کر سب پریشان ہو گئے۔ ہسپتال کے کمرے نمبر سات میں امیتابھ بے ہوشی کی حالت میں تکلیف میں مبتلا تھے۔ انھیں سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی بھی وقت وہ کوما میں جا سکتے ہیں۔

ان کے کمرے کے باہر بیٹھی جایا، اجیتابھ اور امیتابھ کے ایک دوست حبیب ناڈیاڈ والا پریشان تھے کہ اب کیا کریں؟ امیتابھ کے اس مشکل وقت میں ان کے خاندانی دوست اور فلمساز یش جوہر بھی پہنچ گئے تھے۔

اسی دوران سب نے فیصلہ کیا کہ شام کی پرواز سے امیتابھ کو ممبئی لے جایا جائے۔ اسی وقت پتا چلا کہ معروف یورولوجسٹ ڈاکٹر ہتنگڑی ششی دھر بھٹ کسی سرجری کے لیے ہسپتال آئے ہوئے ہیں۔

وہ اتنے مشہور اور معزز تھے کہ انھیں ’انڈیا کا فادر آف یورولوجی‘ بھی کہا جاتا تھا۔

بھٹ کسی دوسرے مریض کے لیے آپریشن تھیٹر جاتے اس سے پہلے جیا بچن ان کے پاس پہنچ گئيں، اور امیتابھ کو بھی دیکھنے کی التجا کی۔ وہ راضی ہوگئے۔ چوٹ کی جگہ سوجن، امیتابھ کی حالت اور ایکسرے دیکھنے کے بعد ان کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔

امیتابھ بچن نے ایک بار اس واقعے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ڈاکٹر بھٹ میرے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہو کر اونچی آواز میں بولے 'ابھی انھیں آپریٹنگ ٹیبل پر لے آؤ نہیں تو شام کی پرواز سے آپ ان کی میت لے جائيں گے۔‘

دراصل امیتابھ کی اس پہلی سرجری کے بعد پتا چلا کہ ان کی آنت پھٹ گئی ہے، زہر پورے پیٹ میں پھیل چکا ہے اور اب وہ جسم کے دوسرے حصوں پر حملہ آور ہے۔

اس آپریشن سے اتنا ہو گیا کہ امیتابھ کے سر پر موت کا خطرہ کچھ عرصے کے لیے رک گیا لیکن فلومینا کی محدود سہولیات تھیں لہٰذا ڈاکٹر بھٹ، ڈاکٹر انتھونی اور ڈاکٹر شاہ نے امیتابھ کو ممبئی کے بریچ کینڈیہ ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری طرف امیتابھ کی حالت کے پیش نظر ممبئی شفٹ کرنا بھی خطرناک تھا۔ اس وقت ایئر ایمبولینس کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ چارٹرڈ ہوائی جہاز میں بھی دشواری تھی۔

اسی لیے یش جوہر اور جیا بچن نے انڈین ایئر لائنز اور حتیٰ کہ وزارت کے اعلیٰ عہدیداروں سے بات کی۔

اس کے بعد انڈین ایئر لائنز نے طیارے کے اگلے حصے سے بزنس کلاس کی نشستوں کی تین قطاریں ہٹا دیں اور وہاں منی آئی سی یو جیسے انتظامات کیے۔ پھر امیتابھ نے سٹریچر پر پڑے ہوئے سفر کیا۔

طیارے میں جایا بچن، اجیتابھ، حبیب، منموہن دیسائی اور یش جوہر کے ہمراہ ڈاکٹر شاہ اور کمانڈنگ نرس عماریہ بھی اپنی ٹیم کے ساتھ تھیں۔ جاوید اختر اور ان کی پہلی اہلیہ ہنی ایرانی بھی وہاں تھیں۔

امیتابھ اور بیٹے

،تصویر کا ذریعہEPA / DIVYAKANT SOLANKI

،تصویر کا کیپشنجب میں نے ایک دن بچن جی کو فون پر بتایا کہ دہلی، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان، پنجاب، ہماچل سب جگہ امیتابھ کی صحت یابی کے لیے مستقل پوجا اور دعا ہو رہی ہے تو وہ جذباتی ہو گئے

امیتابھ کی صحت کے لیے ملک بھر میں دعائیں

جب طیارہ 31 جولائی کی رات ایک بجے پرواز کر کے تقریبا تین بجے ممبئی پہنچا تو وہاں تیز بارش ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود لوگ امیتابھ کی ایک جھلک کے لیے وہاں کھڑے تھے۔

ایئرپورٹ پر ہجوم کے پیش نظر امیتابھ بچن کے اسٹریچر فوڈ سروس کے کیریئر میں ڈال کر خاموشی سے باہر لے جایا گیا۔ پھر ایک ایمبولینس صبح تڑکے امیتابھ کو لے کر بریچ کینڈی ہسپتال پہنچی۔

امیتابھ بچن کی علالت کے دنوں میں پورے ملک میں سوگ کا ماحول تھا۔ میں نے اس دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس وقت بہت سے لوگوں سے امیتابھ کے بارے میں بات کی ہے۔

جو لوگ جانتے تھے کہ میں بچن خاندان کو اچھی طرح جانتا ہوں، ان سے رابطہ میں ہوں تو ان میں سے کچھ مجھے کارڈ دیتا، کبھی کوئی پھول یا کوئی تعویذ دیتا کہ اسے امیتابھ جی یا ان کے والد کو پہنچا دیں، امیت جی ٹھیک ہو جائیں گے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک دن محلے کے چار بچے روتے ہوئے میرے پاس آئے اور کہا: ’ہمیں سچ بتاؤ، امیتابھ انکل ٹھیک ہوجائیں گے نا۔۔۔‘

جب میں نے ایک دن بچن جی کو فون پر بتایا کہ دہلی، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان، پنجاب، ہماچل سب جگہ امیتابھ کی صحت یابی کے لیے مستقل پوجا اور دعا ہو رہی ہے تو وہ جذباتی ہو گئے۔

انھوں نے کہا: ’ہمارے گھر روزانہ سیکڑوں خطوط آ رہے ہیں۔ ہر کوئی ان کے لیے دعاگو ہے۔ یہاں تک کہ ’پرتیکشا‘ کے باہر بھی اور ہسپتال میں بھی لوگ پھول، دھاگے، تعویذ باندھ کر چلے جاتے ہیں۔

اس وقت کی صورتحال پر ہفتہ روزہ انڈیا ٹوڈے نے اپنے 31 اگست 1982 کے شمارے میں لکھا تھا: ’پورا ممبئی ایسے پوسٹروں اور بینروں سے بھر گیا تھا جس میں امیتابھ کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ لوگ اخبارات میں جلد صحت کے اشتہار دے رہے تھے۔ کتنے ہی لوگ آئے دن سدھی ونائیک مندر جاکر امیتابھ کے لیے پوجا کرتے۔

امیتابھ کی رہائشگاہ

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنبہر حال ہسپتال کے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے امیتابھ کو وہاں ملنے والے اپنے دو تحائف ہمیشہ یاد رہتے ہیں

بریچ کینڈی میں بھی موت منڈلا رہی تھی

امیتابھ کے بریچ کینڈی پہنچنے پر ان کی والدہ تیجی بچن اور والد ہریونش رائے بچن بھی اپنے 'منّا' کو دیکھنے گھبراتے ہوئے ہسپتال پہنچے۔

ساتھ ہی یش چوپڑا، پرکاش مہرہ، رمیش سیپی، موسیقار کلیان جیتو امیتابھ کو دیکھنے کے لیے مستقل ہسپتال میں ہی رہے۔ جبکہ منموہن دیسائی اور یش جوہر بنگلور سے بھی ان کے پاس جاتے رہے۔ یہاں تک کہ بہت سارے ستارے انھیں دیکھنے ہسپتال پہنچے۔

امیتابھ آئی سی یو میں انتہائی تشویشناک حالت میں تھے۔ ایسی صورتحال میں تیجی بچن بہت سارے لوگوں کی مسلسل آمد سے ایک بار اس قدر ناراض ہوگئیں کہ انھوں نے دلیپ کمار تک سے کہہ دیا کہ 'ساری، ان کو دیکھنے کے لیے اندر نہ جائيں۔' اس کے بعد وزیرٹرز وہاں کم ہوئے۔

بہرحال ہسپتال کے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے امیتابھ کو وہاں ملنے والے اپنے دو تحائف ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ ایک ایم ایف حسین نے ان کے لیے ایک پینٹنگ تیار کی تھی جس میں ہنومان جی سنجیونی بوٹی لا رہے ہیں۔ دوسری بالاصاحب ٹھاکرے کا کارٹون جس میں امیتابھ یمراج کو پیٹ رہے ہیں۔

دوسری طرف بنگلور میں امیتابھ کی جو سرجری کی گئی تھی اس جگہ سے خون رس رہا تھا۔ اس کے بعد بریچ کینڈی میں ڈاکٹر ایف اُڑوا دیا اور ان کی ٹیم نے امیتابھ کی ایک اور سرجری کی۔ لیکن امیتابھ کے آنتوں سے خون بہنے کا عمل جاری رہا، جس کی وجہ سے ان کے جسم میں خون کی بے حد کمی ہو گئی تھی۔

صورتحال ایسی ہو گئی کہ بریچ کینڈی میں داخل ہوتے وقت انھیں تقریبا 60 یونٹ خون دیا گیا۔

بال ٹھاکرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب ڈاکٹروں کی بہترین کوششوں کے باوجود دو اگست کو امیتابھ کا بی پی اور پلس صفر ہوگیا۔

یہ دیکھ کر ڈاکٹروں نے امید چھوڑ دی۔ یہاں تک کہ جیا سے کہا کہ 'اب کوئی امید نہیں ہے۔ آخری بار امیتابھ کو جاکر دیکھ لیں۔'

دیکھتے دیکھتے وہ 'طبی طور پر مردہ' ہو گئے تھے۔ یہ دیکھ کر افراتفری پھیل گئی۔ لیکن پھر ڈاکٹر اُڑواڈیا نے امیتابھ کو آخری امید کے طور پر ادویات کے زیادہ مقدار کی شکل میں چند انجیکشن دیئے۔

کچھ دیر بعد جیا نے امیتابھ کے پیر میں کچھ ہوتا ہوا دیکھا۔ وہ یہ دیکھ کر خوشی سے چیخ اٹھی۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹروں کی پوری ٹیم جوش میں آگئی۔

امیتابھ کو ہوش میں لانے کے لیے سب زور زور سے چیخنے لگے۔ چند لمحوں کے بعد امیتابھ نے آنکھیں کھولیں۔ وہ حیرت سے سب کی طرف دیکھنے لگے۔ اس سے سب کے مرجھائے اور روتے ہوئے چہرے کھل اٹھے۔

امیتابھ

،تصویر کا ذریعہReuters

دو اگست کا وہ یادگار دن

اس دن یعنی دو اگست کو تقریبا 11 منٹ تک 'طبی طور پر مردہ' رہنے کے بعد امیتابھ کی سانس دوبارہ لوٹ آئیں۔ اس کے بعد سے ان دن کو امیتابھ کے دوسرے جنم کا دن کہا جاتا ہے۔

اگرچہ دو اگست کو امیتابھ کی زندگی واپس آگئی لیکن اس کے زخم سے خون کا ہلکا سا رساو باقی رہا۔

یہ دیکھ کر یش جوہر لندن گئے اور وہاں ایک مشہور سرجن ڈاکٹر پیٹر کاٹن کو اپنے ساتھ ممبئی لے آئے جنھون نے امیتابھ کی ایک چھوٹی سی سرجری کروائی اور ایک نئی تکنیک سے ان کے خون کے رساؤ کو روک دیا۔

امیتابھ

،تصویر کا ذریعہTwitter/SrBachchan

اس وقت اندرا گاندھی بھی گھبرا گئیں تھیں

بڑی بات یہ بھی تھی کہ امیتابھ بچن کی فکر پورے ملک کے ساتھ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ان کے بیٹے راجیو گاندھی اور بہو سونیا گاندھی کو بھی تھی۔

یہ اتفاق تھا کہ جب امیتابھ کے حادثے کی خبر آئی اس وقت تک اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی امریکہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے تھے۔ لیکن راجیو نے اپنا سفر بیچ میں ہی چھوڑ دیا، اور چار اگست کو وہ اپنے بچپن کے دوست امیتابھ سے ملنے ممبئی پہنچے۔

اس کے بعد آٹھ اگست کو جب اندرا گاندھی وطن واپس آئیں تو وہ سونیا گاندھی کے ساتھ ائیرپورٹ سے براہ راست ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال پہنچ گئیں۔ امیتابھ انھیں دیکھ کر رو پڑے۔ اس کے بعد اندرا گاندھی نے امیتابھ سے کہا 'بیٹا فکر نہ کریں آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔'

اس واقعے کا ذکر اندرا گاندھی کے قریبی رہنما ماکھن لال فوتیدار نے بھی اپنی کتاب 'دی چنار لیوز- اے پولیٹیکل میموائر' میں کیا ہے۔ 'اندرا گاندھی نے بیرون سے واپسی کے بعد ہی مجھ سے کہا تھا کہ پنڈت ہرسکھ کو ہسپتال بھیجو۔ امیتابھ کی صحت کے لیے پوجا کرانی ہے۔'

سونیا گاندھی اور راجیو گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآٹھ اگست کو جب اندرا گاندھی وطن واپس آئیں تو وہ سونیا گاندھی کے ساتھ ائیرپورٹ سے براہ راست ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال پہنچ گئیں

فوتیدار یہ بھی کہتے ہیں کہ اگلے دن اندرا جی نے جذباتی انداز میں ایک سفید کپڑے میں تعویذ، پرساد اور کچھ دیگر پوجا کی چیزیں دیں کہ یہ امیتابھ کی زندگی کے لیے ہے، اسے ہسپتال بھیج دو ورنہ راجیو تنہا ہوجائے گا۔

پنڈت ہرسکھ نے امیتابھ کے تکیے کے نیچے ان سامان کو رکھا اور دس دنوں تک امیتابھ کے لیے پوجا کی۔

دوسری طرف تیجی جی اور بچن جی بھی امیتابھ کی جان کی سلامتی کے لیے پوجا میں مصروف تھے۔ جیا بھی امیتابھ کے لیے روزانہ سدھی ونایک مندر جاتی تھیں۔ پہلے امیتابھ کا ٹھیک ہونا، پھر مکمل طور پر صحت یاب ہونا اور زندگی میں دوبارہ نئی جہت پیدا کرنا کسی معجزہ سے کم نہیں۔

امیتابھ کی ہسپتال میں حالت یہ تھی کہ ان کے جسم کے مختلف حصوں میں دسیوں نلیاں اور ٹیوب لگے تھے۔ فوڈ پائپ سے ہی انھیں کھانا دیا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ سانس لینے کے لیے بھی ان کے گلے میں ایک ٹیوب ڈالی گئی تھی۔

آئی سی یو کے بعد امیتابھ کو بریچ کینڈی ہسپتال کے کمرے نمبر 316 میں منتقل کردیا گیا۔ آج بھی وہ کمرہ مشہور ہے کیوں کہ اس میں قیام کرکے امیتابھ نے موت پر فتح حاصل کیا تھا۔

امیتابھ 24 ستمبر کی دوپہر تک بریچ کینڈی کے اسی کمرے میں رہے۔ اسی دن وہ اپنے گھر واپس آئے جو دو مہینوں سے ان کا منتظر تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

جب امیتابھ ہسپتال سے باہر آئے تو وہاں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا۔ راستے میں بہت سارے لوگ ان کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ لیکن جب وہ گھر پہنچے تو وہاں اتنا ہجوم تھا کہ امیتابھ کے لیے گھر میں داخل ہونا مشکل ہوگیا۔

ہاتھوں میں پلے کارڈ اور پھول لے کر لوگ خوشی سے 'لونگ لائیو امیتابھ' اور 'امیتابھ-امیتابھ' کے نعرے لگا رہے تھے۔ امیتابھ نے فرط جذبات سے مغلوب ہوکر ہاتھ جوڑ کر سب کا شکریہ ادا کیا۔

گھر کے اندر داخل ہوتے ہی پہلے ان کی آرتی اتاری گئی، پھر امیتابھ آگے بڑھے اور اپنے والد کے پاؤں چھوئے۔ بچن جی نے اپنے بیٹے کو گلے لگاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔

امیتابھ نے ایک بار اس کے متعلق کہا تھا: 'وہ میری زندگی کا پہلی موقع تھا جب بابو جی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔'

امیتابھ کے گھر واپس آنے پر میں نے بچن جی کو خط لکھ کر مبارکباد دی تھی۔ اس کے جواب مین بچن جی نے آٹھ اکتوبر 1982 کو لکھا: 'امیتابھ کی گھر واپسی پر مبارکباد کے لیے پورے کنبے کی طرف سے شکر گزار ہوں۔ امیتابھ آہستہ آہستہ صحتیاب ہو رہے ہیں۔ ہم بھی صحتمند ہیں۔ باقی معمول پر رہے۔ تم جو بھی اچھا کرو اس میں کامیاب رہو، ہماری دعائیں- بچن'

امیتابھ دسمبر کے آخر تک بالکل صحت مند ہو گئے۔

بیماری کے بعد امیتابھ نے سات جنوری سنہ 1983 کو 'قلی' کے لیے اپنی شوٹنگ کا آغاز کیا۔ اس بار ان کے لیے ممبئی کے چاندی والی اسٹوڈیو میں 'قلی' کا ایک سیٹ لگایا گیا۔

نہ جانے کتنے ہی فوٹوگرافر ان خوبصورت لمحوں کو گرفت میں لینے کے لیے بے چین تھے۔ جیسے ہی امیتابھ نے پہلا شاٹ دیا تمام کیمروں کی فلیش لائٹس چمک اٹھیں۔