آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شوبز ڈائری: دلی فسادات پر جاوید اختر کی ٹویٹ، سوشل میڈیا پر تنقید
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
بالی ووڈ کے نغمہ نگار جاوید اختر ایک بار پھر نہ صرف سوشل میڈیا پر ٹرول ہو رہے ہیں بلکہ ان کے خلاف باقاعدہ ایف آئی ار درج بھی کی گئی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ جاوید اختر نے مذہبی نفرت کو بڑھاوا دیا ہے اس لیے ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔
جاوید اختر محتلف موضوعات کے بارے میں سوشل میڈیا پر کھل کر بات کرتے ہیں اور 27 فروری کو دلی میں ہونے والے فسادات کے بارے میں انھوں نے ایک ٹویٹ بھی کی۔
انھوں نے لکھا تھا ’اتنے لوگ مارے گئے، اتنے سارے لوگ زخمی ہوئے، بہت سے گھر جلائے گئے، دکانیں جلائی گئیں، لوٹی گئیں۔ سینکڑوں لوگ بے گھر ہو گئے لیکن دلی پولیس نے صرف ایک گھر کو سیل کیا اور اس مکان کے مالک کو پکڑا۔ اتفاق سے اس کا نام طاہر ہے ’ہیٹس آف دلی پولیس۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کی اس ٹویٹ کے جواب میں لوگوں نے انھیں ٹرول کرنا شروع کر دیا۔ ایک صارف نے لکھا ’آپ دہشت گرد کی حمایت کر رہے ہو‘ تو دوسرے نے لکھا کہ ’کیا ایسا کر کے آپ کا ضمیر آپ کو ملامت نہیں کرتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد جاوید اختر نے ایک اور ٹویٹ میں بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ بھائی میں طاہر کو پکڑے جانے کے خلاف نہیں بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی جنھوں نے پولیس کی موجودگی میں اشتعال انگیز بیانات دیے تھے۔
جاوید اختر کے خلاف اس شکایت کے بعد انڈیا میں ’مبینہ غداروں‘ کی فہرست دن بدن لمبی ہوتی جا رہی ہے۔
’اپنی محنت سے نام بنانا چاہتی ہوں‘
ادھر اداکارہ سوناکشی سنہا کا کہنا ہے کہ وہ ایک فلمی خاندان سے ہیں اور ان کے والد شتروگھن سنہا انڈسٹری کے بڑے سٹار رہ چکے ہیں لیکن وہ ان کے نام کے علاوہ اپنی محنت سے اپنا نام اور گھر بنانا چاہتی ہیں۔
حال ہی میں اداکارہ کرینہ کپور کے پروگرام ’وٹ وومن وانٹ‘ یعنی عورتیں کیا چاہتی ہیں میں سوناکشی نے کہا کہ انھوں نے جب سے آنکھ کھولی ہے اپنے ارد گرد ہر طرح کے عیش و آرام دیکھے ہیں۔
ساتھ ہی انھوں نے ممبئی میں نے اپنے پاپا کے ابتدائی دنوں کے جدوجہد کے قصے بھی سنے ہیں اور وہ اپنے پاپا کی بھی قدر کرتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ وہ بھی اپنی محنت سے اپنا نام اور رتبہ کمائیں۔
سوال عورت سے ہی کیوں پوچھا جاتا ہے؟
جنوبی انڈیا کی گلوکارہ چنمئی سری پردا نے ہالی ووڈ کے بِگ باس ہاروی وائنسٹائن کی سزا کی خبر کا سکرین گریب انسٹا گرام پر لگا کر انڈیا میں اس طرح کے معاملات پر لوگوں کی سرد مہری کی شکایت کرتے ہوئے لکھا کہ انڈیا میں ’می ٹو‘ مہم میں خواتین نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر جن بڑے بڑے ناموں کا انکشاف کیا تھا ان کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
انھوں نے لکھا کہ یہ بڑے بڑے نام آج بھی انڈسٹری میں سر اٹھا کر گھوم رہے ہیں۔ سری پردہ جنوب انڈیا فلم انڈسٹری کی واحد بڑی شخصیت ہیں جو ’می ٹو‘ کی مہم سے وابستہ ان خواتین کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں جنھوں نے اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کو سب کے سامنے رکھا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’می ٹو‘ مہم ہو یا عورت مارچ انگلیاں گھوم پھر کرعورتوں کے کردار اور وقار کی جانب ہی اٹھتی ہیں۔
اگر عورتیں سماجی نا انصافی، امتیازی سلوک یا جنسی استحصال کے خلاف مارچ کرتی ہیں تو پر معاشرے کو بگاڑنے، گھر توڑنے کی کوشش کرنے یا دوسری خواتین کو ورغلانے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔
کچھ معاملات میں تو انھیں نشانہ بنا کر ان کے اعتماد اور وقار کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے جیسا حال ہی میں پاکستان کے ایک ٹی وی شو میں انسانی حقوق کی کارکن ماروی سرمد اور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان کے درمیان مباحثے میں دیکھا گیا۔
مسئلہ یہ ہے کہ چاہے وہ عورت مارچ ہو یا جنسی استحصال کے خلاف ’می ٹو‘ مہم سوال عورت سے ہی پوچھا جاتا ہے۔