جوکر اور بیٹ مین کی کہانی: ہالی وڈ کی نئی فلم امریکہ میں قومی سلامتی کا مسئلہ کیسے بن گئی؟

،تصویر کا ذریعہWarner Bros. Entertainment Inc
فلمی دنیا میں اگر سپر ہیروز کی فلموں کی بات کی جائے تو ان فلموں کے سب سے بدنام ولن کے لیے اکثریت کا اتفاق ’جوکر‘ کے نام پر ہو گا۔
کامک بکس کی دنیا کے اس بدنام ولن کے بارے میں آنے والی نئی فلم پر جہاں تشدد کی ترویج اور ذہنی مریضوں کی بری شبیہ پیش کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں وہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک بلاک بسٹر فلم ثابت ہوگی۔
بیٹ مین سیریز کے اس ولن ’جوکر‘ پر فلم چار اکتوبر کو دنیا بھر میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے لیکن ریلیز سے قبل اپنے پریمیئر پر ہی یہ ایک تنازعے کا شکار ہو گئی ہے۔
اور تو اور امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بھی اس پر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ہفتے کے دوران متعدد امریکی چینلز پر یہ کہا گیا کہ فوجی حکام کو مصدقہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ فلم ’جوکر‘ کی ریلیز کے دن بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے واقعات کا خطرہ ہے جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
سات برس قبل امریکی ریاست کولوراڈو کے علاقے آرورا میں ایک شخص نے بیٹ مین سیریز کی فلم ’دی ڈارک نائٹ رائزز‘ کے ایک شو کے دوران فائرنگ کی تھی جس سے 12 افراد ہلاک جبکہ 70 زخمی ہوئے تھے۔
ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے مطالبے پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فلم کو اس آرورا تھیٹر میں نہیں دکھایا جائے گا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔
لواحقین نے فلم کے پروڈکشن ہاؤس وارنر برادرز سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ میں مسلح تشدد کے خلاف کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کو عطیہ دیں۔
آرورا تھیٹر میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ اس نئی فلم نے انھیں جیک جومز نامی اس شخص کی یاد دلائی ہے جس نے فائرنگ کی تھی اور عمرقید کی سزا کاٹ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے متعدد شہروں میں سنیما گھروں کی انتظامیہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ ان افراد کو یہ فلم دیکھنے کے لیے ہال میں داخل ہونے نہیں دیں گے جنھوں نے چہرے پر ماسک پہنا ہو گا،چہرہ رنگا ہو گا یا جوکر جیسا لباس پہنا ہو گا۔
خیال رہے کہ سپر ہیروز سے منسلک فلمیں دیکھنے آنے والے لوگوں کا ایسا کرنا معمول کی بات سمجھا جاتا ہے۔
فلم جوکر میں ایسا ہے کیا؟
جوکر میں آرتھر فلیک نامی ایک شخص کی کہانی بتائی گئی ہے جو ذہنی بیماری کا شکار ایک کامیڈین ہے۔ ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں مشکلات کے باعث وہ جرم کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
فلم کے ابتدائی ریویوز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فلم میں پرتشدد مناظر موجود ہیں۔
کچھ ناقدین نے ہدایت کار ٹاڈ فلپس پر تنقید کی ہے انھوں نے جوکر کے کردار کو قابل ستائش انداز میں دکھایا ہے۔
ایسے ہی ایک مبصر رچرڈ لاسن کے مطابق فلم سے وہی پروپیگنڈا پھیل سکتا ہے جسے برا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
انھوں نے سوال اٹھایا ’کیا جوکر کو دیکھ کر خوش ہونا چاہیے یا ڈرنا چاہیے یا کیا دونوں صورتوں میں کوئی فرق ہی نہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہWarner Bros. Entertainment Inc
لیکن جوکر کے ہدایت کار ٹاڈ فلپس اور مرکزی اداکار ہواکین فینکس اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ فلم میں ’جوکر‘ سے ہمدردی دکھائی گئی ہے۔
ٹاڈ فلپس کا کہنا ہے کہ انھیں اس تنازعے سے حیرانی ہوئی ہے۔
ہدایت کار کہتے ہیں کہ فلم میں محبت کے فقدان اور بچپن میں پیش آنے والے صدموں کا ذکر ہے اور اس پیغام کو لوگ قبول کریں گے۔
جوکر بننے والے اداکار کیا کہتے ہیں؟
کم از کم ایک انٹرویو کے دوران جوکر کا کردار ادا کرنے والے اداکار فینکس تشدد سے متعلق سوال پر اٹھ کر چلے گئے لیکن انھوں نے بھی فلم کا دفاع کیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ’لوگوں نے گانوں کے بول اور کتابوں کا غلط مطلب لیا ہے۔ میرا نہیں خیال یہ فلم بنانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ دیکھنے والوں کو اخلاقیات سکھائیں یا صحیح اور غلط میں فرق بتائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے یہ فرق واضح ہے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں فلم سے ہونے والی ناگواری اچھی لگی۔
’میرا خیال ہے کہ یہ اچھی بات ہے اگر فلمیں ہمیں برا محسوس کرواتی ہیں یا ہمیں کچھ الگ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ مجھے یہ بات پسند آئی ہے۔‘
’اس لیے میں یہ فلم بنانا چاہتا تھا کیونکہ یہ میرے لیے آسان نہیں تھا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس کردار کی تیاری کے لیے میں نے جوکر کے لیے مختلف جذبات محسوس کیے۔‘
بدنام مگر پسندیدہ ولن
جوکر کا کردار فینکس کے ادا کرنے سے معاملہ مزید متنازع ہوا ہے۔ وہ اپنی اداکاری سے لگاؤ کے لیے ویسے بھی جانے جاتے ہیں جبکہ ٹریلر سے لگ رہا ہے کہ انھوں نے اس مشہور ولن کا کردار اچھے سے نبھایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلم کی بری تشہیر شاید ماضی میں جوکر کا کردار نبھانے والوں کے انجام سے تعلق رکھتی ہے۔
ہیتھ لیجر نے سنہ 2008 کی فلم ’دی ڈارک نائٹ‘ میں جوکر کا کردار ادا کیا تھا اور فلم کی ریلیز کے کچھ ہی عرصے بعد وہ حادثاتی طور پر منشیات کی زیادہ مقدار میں استعمال سے انتقال کر گئے تھے۔
لیکن لیجر کو جوکر کے کردار پر کافی پذیرائی ملی تھی اور 2009 میں ان کے انتقال کے بعد انھیں آسکر ملا تھا۔
لیکن ان کی موت کے بعد یہ افواہیں سامنے آئیں کہ آسٹریلوی اداکار جوکر کے کردار سے خوفزدہ ہو گئے تھے۔
ان افواہوں کو اس وقت مہمیز ملی جب 1989 میں جوکر کا کردار ادا کرنے والے اداکار جیک نکلسن نے لیجر کی ہلاکت کی خبر سن کر ایک مبہم بیان دیا کہ ’میں نے تو اسے خبردار کیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وارنر برادرز نے اس نئی فلم کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ اس میں بیٹ مین سیریز کے ولن کے کردار کو اس شکل میں پیش نہیں کیا گیا کہ لوگ تشدد کی جانب مائل ہوں۔
’کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ جوکر کا افسانوی کردار اور فلم دونوں ہی حقیقی دنیا میں کسی قسم کے تشدد کی توثیق نہیں کرتے۔ یہ نہ ہی فلم، فلسماز یا اسے بنانے والے ادارے کا مقصد ہے کہ اس کردار کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے۔‘
کیا اس فلم سے ذہنی صحت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں؟
ذہنی صحت پر بات کرنے والوں نے فلم میں ذہنی بیماری سے متعلق مناظر پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ہالی وڈ میں اس قسم کے کرداروں کی پیشکش ایک متنازع موضوع ہے اور نفسیات کے ماہرین پہلے بھی ذہنی مریضوں کی عکاسی کرنے والے کرداروں پر فلم بنانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
برطانوی فلاحی ادارے ’ٹائم ٹو چینج‘ سے منسلک جولی ایونز کہتی ہیں کہ ہالی وڈ کی تاریخ میں کئی مرتبہ کسی ذہنی مریض کے متعلق تصورات کو غلط طریقوں سے دکھایا گیا ہے۔
’ڈرامائی انداز سے مبالغہ آرائی اور غلط معلومات پھیلتی ہیں۔ ذہنی مریضوں کی اکثریت خطرناک نہیں ہوتی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’زیادہ تر وہ خود تشدد کا شکار ہوتے ہیں نہ کہ اسے پھیلانے میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا میں فلم سٹڈیز کے استاد ٹم نیلسن، جو سینما اور دماغی صحت پر کام کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ جوکر کی ریلیز سے پہلے اس پر تنقید کرنا شاید ٹھیک نہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’جی ہاں، ہالی وڈ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں ذہنی صحت اور تشدد پر غلط معلومات پھیلائی گئیں، جیسے جوکر کی طرح صدمے سے بننے والے سائیکو پیتھس کی کہانیاں۔‘
’لیکن میں نے ٹریلرز دیکھے ہیں اور مجھے لگا ہے کہ کچھ دلچسپ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں ذہنی مریض کردار کی ابتدا کے بارے میں بتایا گیا ہے جس کا پرانی فلموں میں فقدان تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگر جوکر دقیانوسی تصورات سے بچ نہیں پاتی تو یہ اچھا نہیں ہو گا۔ ’فلم نے کم از کم ذہنی صحت اور فلموں میں اسے دکھائے جانے کے طریقے پر ایک بحث کو جنم دیا ہے۔‘
تنازعے کے باوجود جوکر میں لوگوں کی دلچسپی
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جوکر کو اب تک اچھے ریویو ملے ہیں۔ ویب سائٹ روٹن ٹومیٹوز پر اسے 77 فیصد لوگوں نے پسند کیا ہے۔
تنازعے سے لوگوں میں جوکر سے متعلق دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
فلم ماہرین کے اندازوں کے مطابق فلم اپنے پہلے ہفتے کے دوران امریکہ میں 100 ملین ڈالر سے زیادہ کا کاروبار کر لے گی۔ یہ اکتوبر میں ریلیز ہونے والی کسی بھی فلم کے لیے ایک ریکارڈ ہوگا۔
اس فلم کو رواں ماہ وینس فلم فیسٹیول میں سب سے بڑے انعام سے بھی نوازا گیا ہے اور اس کے شو کے بعد شائقین نے کھڑے ہو کر آٹھ منٹ تک تالیاں بجائی تھیں۔









