آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چھلاوہ کی اداکارہ زارا نور عباس: بشریٰ انصاری کی بھانجی ہونے کے فائدے بھی ہیں اور نقصان بھی۔۔۔
ٹیلی وژن پر مقبولیت کمانے کے بعد اب پاکستان کی فلموں میں کام کر کے پذیرائی سمیٹنے والی اداکارہ زارا نور کا کہنا ہے کہ اگرچہ والدہ اور خالہ کے اداکارہ ہونے کے باعث لوگ ان سے سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں تاہم انھیں کام ان کی صلاحیتوں کی وجہ سے ملا ہے۔
زارا نور کی ایک فلم ’چھلاوہ‘ عید پر شائقین کو دیکھنے کو ملی جبکہ دوسری ’پرے ہٹ لو‘ ہے۔
بی بی سی کی فیفی ہارون کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں زارا نور کا اپنے کرداروں کے حوالے سے کہنا تھا کہ انھوں نے یہ اس لیے کیے کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا چاہتی تھیں۔
انڈسٹری میں اپنی ساتھی اداکاراؤں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کافی تعاون کرنے والی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مایا علی ان کی انڈسٹری میں آنے سے پہلے سے ہی ان کی صلاحتیوں کے بارے میں پراعتماد تھیں۔
ان کے بقول ’مایا نے تو پہلے ہی شور مچانا شروع کر دیا تھا کہ پِکو (زارا کا پیار کا نام) کا ڈانس ایسا اور پِکو کی اداکاری ایسی۔۔۔ تو سب نے کہا تو اچھا تو پھر یہ اچھا ہی کرتی ہو گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم ’چھلاوہ‘ میں زارا مہوش حیات کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ کسی دوسری بڑی ہیروئین کے ساتھ چھوٹے کردار کر کے انہیں اپنے کردار کے دب جانے کا خوف تو نہیں ہوتا؟
اس بارے میں زارا کا کہنا تھا ’اگر میں معاون کردار کے لیے سیٹ پر جاتی ہوں تو مجھے علم ہوتا ہے کہ میری یہاں ایک مخصوص جگہ ہے اور دوسری جگہ کسی دوسری ہیروئین مایا یا ماہرہ کی ہے، میں اس میں دخل اندازی نہیں کروں گی۔‘
مہوش حیات کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’مہوش کے ساتھ کام کر کے لگا کہ انھیں کسی قسم کا احساس عدم تحفظ نہیں اور وہ اپنی ذات پر توجہ دیتی ہیں اور بحیثیت اداکار یہ بہت اچھا ہے۔‘
شادی اور طلاق
زارا کے شوہر اسد صدیقی بھی ایک اداکار ہیں۔ ان کے بقول وہ ان کے شریک حیات سے زیادہ بہت اچھے دوست ہیں۔
زارا کا کہنا تھا کہ چونکہ ان دونوں کی ہی پہلی شادیاں ناکام ہو چکی ہیں اس لیے اب ان کے درمیان پیار اور محبت سے زیادہ احترام اور عزت کا رشتہ ہے۔
ان کا کہنا تھا ’وہ اپنا بچپنا پہلے ہی جی چکے ہیں اور اب وہ اسے رشتے کو پریکٹیکل طریقے سے جی رہے ہیں۔‘
زارا کے بقول اگرچہ والد کے جاگیردار گھرانے میں طلاق کا ہو جانا بہت بڑی بات تھی لیکن اپنے گھر کی اکلوتی بیٹی ہونے کے ناطے تین بھائیوں اور والدین نے ان کا کافی ساتھ دیا۔
زارا کے بقول ان کے نانا ہر مشکل صورتحال میں کہا کرتے تھے ’تو کیا؟؟ ‘
جب ان کی طلاق ہوئی تو گھر والوں او ننھیال والوں نے بھی یہی کہہ کر ساتھ دیا کہ طلاق ہو گئی ’تو کیا؟‘۔
زارا کہتی ہیں کہ شروع میں تھوڑا ڈپریشن ہوا تاہم پھر سب ٹھیک ہو گیا۔ زارا نور کے والد اور والدہ دونوں ہی کینسر کا شکار ہونے کےبعد صحت مند ہوئے ہیں۔
اس لیے ان کا کہنا تھا تھا ’میں تو ان دونوں سروائیورز کی بیٹی ہوں۔ انہیں تو یہی کام آتا ہے کہ مسئلہ آیا ہے ، اس کا سامنا کرو، اس سے نکلو اور اٹھ کھڑے ہو جاؤ۔‘
مشہور شخصیات سے رشتے آسان یا مشکل
زارا نور عباس مقبول اداکارہ بشریٰ انصاری کی بھانجی اور اسما عباس کی بیٹی ہیں۔ اس کے فائدے اور نقصان کے بارے میں زارا کا کہنا تھا کہ اس فائدہ یہ ہے کہ جس طرح انڈسٹری میں آنے والوں کو ہراسگی یا کسی قسم کے ناروا رویے کا ڈر ہوتا ہے تو یہ انہیں ہے۔
’کوئی بھی ایسی ویسی بات کرنے سے پہلے سوچتا ہے کہ بات آگے ضرور جائے گی اور یہ بشریٰ خالہ کی وجہ سے ہے۔ بشری خالہ ہمیں بہت پیار کرتی اور ساتھ دیتی ہیں لیکن مجھے کام کبھی بشریٰ خالہ کی وجہ سے نہیں ملا۔‘
زارا اور ان کے شوہر اسد صدیقی فلم چھلاوا میں میں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ لوگ ہمارے جوڑی کو پسند کریں گے چونکہ ہم پہلے سے ہی ایک رشتے میں ہیں لیکن یہ جان کر حیری ہوئی کی لوگوں نے ہمیں بہت سراہا ہے۔‘