فخرِ عالم کے بچپن کا خواب، ہوائی جہاز پر دنیا کا چکر لگانے کا مشن کراچی میں

مشن پرواز

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشناپنا سفر شروع کرنے سے قبل فخرِ عالم اپنی بیٹی سے ملتے ہوئے جو انہیں الوداع کہنے پہنچی تھی۔
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستانی اداکار، گلوکار، میزبان اور اب ہواباز فخر عالم دنیا کا چکر 28 دنوں میں مکمل کرنے کے سفر پر نکلے ہیں۔ آج دوپہر ایک بجے کے قریب فخرِ عالم کراچی کے جناح انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر پہنچے جہاں اُن کا استقبال سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے کیا۔

فخر عالم کے سفر کی اگلی منزل اسلام آباد ہے جس ے بعد وہ لاہور اور وہاں سے ڈھاکہ جائیں گے۔

مشن پرواز

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنفخرِ عالم نے یہ تصویر 20 اکتوبر کو شیئر کی جس میں طیارہ فلوریڈا میں اپنے سفر کے لیے تیار کر رہا ہے۔
مشن پرواز

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشناس سفر میں فخرِ عالم کے ساتھ ٹیمپا بے ایوی ایشن کے چیف پائلٹ اور ایک اور ساتھی موجود ہیں۔

ان دنوں وہ ایک انجن والا طیارہ لیے دنیا کے مختلف شہروں سے ہوتے دبئی پہنچے ہیں۔ فخر عالم نے یہ سفر امریکی ریاست فلوریڈا کے کلیئر واٹر ایئر پارک سے شروع کیا جس کے بعد وہ نیو ہیمپشائر، نیو فاؤنڈ لینڈ کینیڈا، گرین لینڈ، آئس لینڈ، لندن، کروشیا، مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور بحرین کے دارالحکومت مناما سے ہوتے دبئی پہنچے ہیں۔

نیو ہیمپشائر

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنامریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے شہر مانچسٹر اس سفر کا پہلا پڑاؤ تھا۔

فخر عالم کی اگلی منزل کراچی، اسلام آباد اور لاہور ہو گی جس کے بعد ڈھاکہ، بنکاک، سنگاپور، انڈونیشیا سے ہوتے ہوئے آسٹریلیا پہنچیں گے۔

گوز بے

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنمانچسٹر، نیو ہیمپشائر کے بعد اگلی منزل کینیڈا کا علاقہ گوز بے تھا جہاں رات کو قیام کرنے کے بعد فخرِ عالم اگلی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔

فخر عالم نے اس سفر کو شروع کرنے سے قبل اپنی تصاویر شیئر کیں اور بتایا کہ کیسے اُن کا بچپن سے خواب تھا کہ وہ فضائیہ میں پائلٹ بنیں مگر یہ اُن کی قسمت میں نہیں تھا۔ اب 25 سال بعد ان کا یہ خواب پورا ہو رہا ہے۔

مشن پرواز

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنسفر کے دوران طیارے کا منظر جس میں فخرِ عالم اور ان کے ساتھی مسافر نظر آ رہے ہیں۔

فخرعالم اس سفر کے لیے سوئس طیارہ ساز کمپنی سائرس کا بنایا ہوا ایک انجن والا طیارہ پلاٹس استعمال کر رہے ہیں۔

فخرِ عالم کے پاس ہوابازی کا انتہائی کم تجربہ ہے یعنی ان کے فلائنگ آورز یا اب تک اڑان کا ریکارڈ سو گھنٹے سے بھی کم ہے جس کی وجہ سے انہیں کوئی طیارہ فراہم کرنے کو تیار نہیں تھا اور جب طیارہ ملتا تو انشورنس کے مسائل رکاوٹ بن جاتے۔

گرین لینڈ

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنگرین لینڈ کے سرد ماحول میں آمد

بلآخر انہیں فلوریڈا میں موجود ایک طیارہ ملا جس کے بعد اس سفر کی باقاعدہ منصوبہ بندی شروع ہوئی اور انہوں نے 10 اکتوبر کو اپنے سفر کا آغاز کیا۔

آئس لینڈ

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنآئس لینڈ میں آمد کے بعد رات کو فخرِ عالم نے مقامی ہوٹل میں قیام کیا جہاں ان کی ملاقات ایک پاکستانی سے ہوئی۔

اس سفر میں ان کے ساتھ دو اور مسافر بھیں ہیں اس سفر میں جن میں ٹیمپا بے ایوی ایشن کے چیف پائلٹ اور مینیجنگ ڈائریکٹر جوشوا بریکن اور کرٹ روئے شامل ہیں۔

آئس لینڈ

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنآئس لینڈ کے شہر کیفلاوک میں بریانی ملنے پر فخرِ عالم کو بہت خوشی ہوئی

اس سفر کے دوران فخرِ عالم ٹوئٹر پر مسلسل اپ ڈیٹس دے رہے ہیں اور ویڈیوز اور تصاویر کی مدد سے بتا رہے ہیں کہ ان کا یہ سفر کیسا جا رہا ہے۔

انہوں نے گوز بے کینیڈا سے نکلتے وقت کہا کہ آگے ان کے سفر کا مشکل مرحلہ ہے جس میں وہ بحر اوقیانوس کو عبور کریں گے۔ اس سفر میں وہ گرین لینڈ، آئس لینڈ اور گلاسگو میں رکنے کے بعد لندن پہنچیں گے۔

گلاسگو

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنبحر اوقیانوس عبور کرنے کے بعد سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ایندھن کے لیے کچھ دیر قیام کرنے کے بعد اگلی منزل لندن تھی۔
لندن

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنلندن کے قریب واقع بیگن ہِل ائیرپورٹ جہاں سے اگلی منزل کروشیا تھی۔

اس دوران انہیں اداکار عدنان صدیقی اور صنم سعید نے ٹویٹس کے ذریعے ان کے ساتھ اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

کروشیا

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنکروشیا تاخیر سے پہنچنے پر فخرِ عالم کے لیے ہوائی اڈے کے عملے نے دیر تک رک کر ان کی مدد کی۔

لندن سے نکلنے کے بعد انھوں نے ڈبروونک کروشیا میں رکنا تھا جہاں اُن کی پرواز تاخیر سے پہنچی مگر ان کے ایجنٹ نے جب بتایا کہ وہ دنیا کا گرد چکر لگا رہے ہیں تو انہوں نے عملے کے چند اراکین کو روک کر ان کا انتظار کیا۔

قاہرہ

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشنقاہرہ کے ہوائی اڈے پر ایندھن کا ٹرک تاخیر سے پہنچا جس کے انتظار میں چند گھنٹے فخرِ عالم کے ساتھیوں نے تاش کھیل کر اور سو کر گزارے۔

قاہرہ کے ہوائی اڈے پر ان کا ایندھن لانے والا ٹرک تاخیر سے پہنچا جس پر ان کے ساتھی ہوائی اڈے پر انتظار کرتے رہے۔

دبئی

،تصویر کا ذریعہFakhr e Alam

،تصویر کا کیپشندبئی پہنچے پر فخرِ عالم نے لکھا کہ وہ اپنے دوسرے گھر پہنچے ہیں۔ انھوں نے دبئی کے ولی عہد شیخ ہمدان بن راشد کو ٹیگ کر کے ملاقات کی درخواست کی جس پر اب تک جواب موصول نہیں ہوا۔

فخرِ عالم کے اس تاریخی سفر پر آپ ان کی ویب سائٹ پر یا ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے نظر رکھ سکتے ہیں۔

۔