کیا پرینکا اور نِک جونز شادی کرنے والے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پرینکا چوپڑہ نے سلمان خان کے ساتھ علی عباس ظفر کی فلم 'بھارت' چھوڑ دی ہے۔
ہدایت کار علی عباس ظفر کے ٹوئٹر پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے جو لکھا گیا ہے کہ اس سے پرینکا اور نِک جونز کی منگنی اور شادی کی خبروں یا یوں کہا جائے کہ قیاص آرائیوں کو مزید ہوا ملی ہے۔
علی ظفر نے لکھا: 'یہ سچ ہے کہ پرینکا نے ’بھارت‘ فلم چھوڑ دی ہے اور جس وجہ سے فلم چھوڑی ہے وہ بہت سپیشل ہے اور ہم پرینکا کے لیے بہت خوش ہیں۔' عباس نے بہت ہی خوبصورت انداز میں نِک کا نام بھی لیا۔
حالانکہ پرینکا نے نِک جونز اور اپنے تعلقات کے بارے میں باقاعدہ کچھ نہیں کہا لیکن اب ان کی منگنی کے ساتھ ساتھ جلدی ہی شادی کی خبریں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بالی وڈ کے ایک اور جوڑے کی شادی کی خبریں کافی عرصے سے گشت کر رہی ہیں اور وہ ہیں دیپکا پاڈوکون اور رنویر سنگھ ۔ کہا جا رہا ہے کہ ان دونوں کی شادی کی تاریخ کے ساتھ ساتھ شادی کی جگہ بھی طے ہو چکی ہے۔
خبریں ہیں کہ یہ دونوں انوشکا شرما اور ویراٹ کوہلی کی طرح اٹلی میں شادی کریں گے اور انھوں نے اٹلی کے ایک خوبصورت قصبے لیک کومو کا انتخاب کیا ہے۔ یہ اٹلی کا انتہائی حسین دیہات ہے جو ایک خوبصورت جھیل کے کنارے آباد ہے۔
میڈیا کے مطابق رنویر سنگھ اور دیپکا کے گھر والے شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور جہاں تک رنویر کا تعلق ہے تو وہ اپنی پروفیشنل اور پرسنل زندگی میں اس وقت ساتویں آسمان پر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
رشی کپور جنھیں 'ٹوئٹر کا کِنگ' کہا جاتا ہے آج کل اپنی فلم 'ملک' کے پروموشن میں مصروف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ہفتے پاکستان کے عام انتخابات میں عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کی کامیابی پر انھوں نے عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عمران خان انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔
رشی کپور نے عمران خان کی ابتدائی تقریر کی ستائش کرتے ہوئے لکھا: 'عمران آپ نے بہت اچھی بات کہی آپ نے جو کچھ کہا میں بھی وہی بات کرتا رہا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کے ملک اور ہمارے ملک کے درمیان تعلقات بحال ہو جائیں۔'
کیا بات ہے رشی کپور صاحب اپنی فلم 'ملک' کی پروموشن کا کیا طریقہ نکالا ہے بات بھی کر ڈالی اور پروموشن بھی یعنی آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام۔









