آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فیشن شو میں خواتین کی جگہ ڈرونز کا استعمال
تصور کریں کہ اگر فیشن شو میں ماڈلز کی جگہ ڈرونز کا استعمال کیا جانے لگے تو کیسا لگے گا؟
گذشتہ دنوں سعودی عرب کے معروف شہر جدہ میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔
جدہ میں منعقدہ ایک فیشن شو میں مختلف قسم کے ملبوسات کے لیے ماڈلز یا خواتین کی جگہ ڈرونز کا استعمال کیا گیا اور ڈرونز کے ذریعے ہی ملبوسات کی نمائش کی گئی۔
لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرونز کے ذریعے ملبوسات کی پیشکش پرکشش ہونے کے بجائے ڈراؤنی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
کمرے کے خلا میں ڈرونز کے ذریعے ادھر ادھر جھولتے یا گھومتے ملبوسات کا منظر کسی 'ہارر فلم' سے کم نہیں تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ کوئی غیر مرئی قوت ان کپڑوں کے ساتھ کمرے میں چکر لگا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیشن شو کے منتظمین میں سے ایک نبیل اکبر نے بی بی سی عربی کے ساتھ ایک انٹرویو میں بڑے فخر سے کہا کہ 'کسی خلیجی ملک میں یہ اپنی قسم کا پہلا شو ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے بتایا کہ اس کی تیاری میں دو ہفتے لگے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈرونز کے ذریعے انہی ملبوسات کو پیش کیا گیا جو رمضان کے محترم بالشان مہینے کے شایان شان ہو۔
سوشل میڈیا میں جہاں اس شو پر غصے کا اظہار کیا گیا وہیں اسے مذاق کا بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
چند لوگوں نے اس بات پر ناراضی ظاہر کی کہ سعودی عرب نے خواتین کو اتنا حق بھی نہیں دیا کہ وہ ان ملبوسات کے لیے ریمپ پر چل سکیں۔
جبکہ بعض دوسرے ملبوسات کی نمائش کے لیے ڈرونز کے استعمال پر ہنستے اور اس کی نقل یا میم کرتے نظر آئے۔
ایک صارف ویلری نے لکھا: 'سعودی عرب، جہاں ڈرونز کو خواتین سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔'
جبکہ جینا نے لکھا: 'میں سعودی عرب میں منعقدہ شو میں جانا چاہتی ہوں۔ وہاں ماڈلز تھیں ہی نہیں۔'
خیال رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب فیشن کونسل کے زیرِ اہتمام ایک فیشن شو 26 مارچ سے 31 مارچ تک منعقد کیا گیا جس میں ماڈلز نے شرکت کی تھی۔
سعودی عرب میں خواتین کے لباس کے تعلق سے کئی قسم کی پابندیاں ہیں۔ یہاں کے قانون کے مطابق عام مقامات پر خواتین کے لیے حجاب یا عبایہ پہننا ضروری ہے۔
خیال رہے کہ جدہ سعودی عرب کے ان شہروں میں سے ایک ہے جہاں خواتین نسبتا زیادہ آزاد کہی جاتی ہیں۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دور میں یہاں کے معاشرے میں بہت سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
گذشتہ دنوں سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار شہر جدہ میں خواتین شائقین کو سٹیڈیم میں جا کر مردوں کے فٹبال میچز دیکھنے کا موقع ملا ہے۔
اور اس کی تازہ مثال خواتین کو ڈرائیونگ کا حق ہے۔