بالی وڈ کی متنازع فلم ’پدماوت‘ کی ریلیز، سکولوں میں چھٹی

انڈیا کے دارالحکومت کے نواحی علاقے گڑگاؤں میں مظاہرین کی جانب سے ایک سکول بس پر پتھراؤ اور اس کے شیشے توڑنے کے بعد سکول بند کر دیے گئے ہیں۔

حالیہ واقعہ بالی وڈ کی متنازع فلم پدماوت کی ریلیز سے قبل ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے حملوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔

میڈیا مںی سامنے آنے والی اس واقعے کی ویڈیو میں بچے بس کی سیٹوں کے نیچے چپھے ہوئے ہیں کہ جبکہ مرد ان کے گرد چِلّا رہے ہیں، جس کے بعد انڈیا میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یہ فلم جمعرات کو ریلیز ہورہی ہے۔

اس واقعے میں کوئی بچہ زخمی نہیں ہوا تاہم مظاہرین نے کئی بسوں کو نذرآتش کر دیا اور گذشتہ کئی دنوں میں کئی سینیما گھروں میں توڑ پھوڑ کی ہے۔

پرتشدد واقعات کے پیش نظر انڈیا میں بہت سارے سینیما گھروں نے اس فلم کی نمائش سے انکار کر دیا ہے۔ منگل کو سپریم کورٹ نے چار ریاستوں کی جانب سے سکیورٹی خدشات کی بنا پر فلم پر پابندی کے مطالبے کو رد کر دیا اور کہا ہے کہ امن و امان کا قیام ریاست کی ذمہ داری ہے۔

یہ فلم 14 صدی عیسوی کی ایک ہندو ملکہ اور ایک مسلمان حکمران کی کہانی بیان کرتی ہے، ابتدائی طور پر اس کی ریلیز یکم دسمبر کو ہونا تھی۔

لیکن دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کی احتجاج اور دھمکیوں کی وجہ سے اس کی ریلیز کی تاخیر کی گئی۔

تنازع کیا ہے؟

یہ دلم مسلمان بادشاہ علاالدین خلجی کی کہانی بیان کرتی ہے جو ایک حسین ہندو راجپوت ملکہ پدماوتی کو حاصل کرنے کے لیے ایک بادشاہت پر حملہ کرتا ہے۔

ہندو اور راجپوت برداری سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کا الزام ہے کہ اس فلم میں مسلمان بادشاہ کے خواب سے متعلق ہندو ملکہ کے ساتھ رومانوی مناظر ہیں۔

ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کا کہنا ہے کہ فلم میں ’خواب‘ کا کوئی منظر نہیں ہے۔

تاہم اس حوالے سے افواہیں اس قدر شدید ہیں کہ ہندو تنظیموں نے اس فلم پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

کیا فلم تاریخی طور پر درست ہے؟

اگرچہ بادشاہ خلجی ایک تاریخی کردار ہے لیکن مؤرخین کا خیال ہے کہ پدماوتی ایک افسانوی کردار ہے۔

فلم میں یہ کردار دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ نے نبھائے ہیں۔

یہ خیال کیا جارہا ہے کہ فلم کا پلاٹ اور ملکہ کا نام 16ویں صدر کی ایک شہرہ آفاق نظم پدماوت سے ماخوذ ہے جس کے خالق ملک محمد جیاسی ہیں۔

اس نظم میں پدماوتی کی ستّی کی رسم نبھانے کی تعریف کی گئی ہے، جو خلجی سے اپنی عزت بچانے کے لیے اپنے شوہر کے جسد خاکی کے ساتھ جل کرمر گئی تھی، اس کے شوہر راجپوت بادشاہ کو خلجی نے لڑائی میں ہلاک کیا تھا۔

ستّی کے بارے میں خیال ہے کہ انڈیا میں سات سو سال قبل راجپوتوں اور حکمراں طبقے میں پائی جاتی تھی۔

جنگوں کے دوران مردوں کو شکست یا ہلاکت کے بعد ان خواتین کو زندہ جلا دیا جاتا تھا تاکہ وہ انھیں قابض ہونے والے حاصل نہ کر سکیں۔ اس رسم پر سنہ 1829 میں برطانوی حکمرانوں نے غیرقانونی قرار دے دیا تھا۔

مؤرخین کا خیال ہے کہ جیاسی نے خلجی کے حملے کے 200 سال کے بعد یہ نظم لکھی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظم میں انھوں نے ستّی کی رسم کی مداح سرائی کی ہے۔ حالیہ مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ راجپوت آج بھی پدماوتی کو خاتون کی عزّت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مظاہرے کس قدر شدید ہیں؟

ملک کے مخلتف حصّوں میں جنوری 2017 سے اجتجاج کا سلسلہ جاری ہے جب کہ ایک راجپوت تنظیم کرنی سینا نے پدماوت کے فلم سیٹ پر دھاوا بولا اور سنجے لیلا بھنسالی کو تھپڑ مارا تھا۔

ان مظاہروں میں فلم کی ریلیز کی تاریخ قریب آنے پر نومبر میں شدت آگئی۔ راجپوت برادری نے سنجے لیلا بھنسالی کے پتلے بھی جلائے۔

کرنی سینا نے سینیما گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور دپیکا پڈوکون کی ناک کاٹنے کی دھمکیاں دیں۔

راجستھان، اترپردیش اور ہریانہ میں بھی احتجاج ہوئے جہاں بی جے پی کی ریاستی حکومتیں ہے۔

ایک بی جے پی رہنما نے سنجے لیلا بھنسالی اور دپیکا پڈوکون کا سر قلم کرنے والے کو 15 لاکھ انڈین روپے انعام دینے کا اعلان کیا۔

گذشتہ ہفتے جب سپریم کورٹ نے فلم کی ریلیز کی اجازت دی تو ریاست گجرات میں بسوں کی نذرآتش کیا گیا، سڑکیں بلاک کی گئیں اور سینیما گھروں میں توڑ پھوڑ ہوئی۔

عدالت کیا کہتی ہے؟

18 جنوری کو سپریم کورٹ نے اس فلم کی ریلیز کی اجازت دے دی تھی اور چار ریاستوں کی جانب سے اس فلم کی ریلیز پر پابندی کو معطل کر دیا۔

فلم سازوں نے اس فلم پر ریاستوں کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ریاستیں ان فلموں پر پابندی عائد نہیں کر سکتیں کو انڈیا کے سینسر بورڈ نے کلیئر کر دی ہیں۔

بورڈ نے یہ فلم مورخین کو دکھائی تھی جنھوں نے پانچ تبدیلیاں تجویز کی تھیں، ان سے ایک فلم کا نام پدماوتی سے پدماوت کرنا تھا جو 16 صدی کی شہرہ آفاق نظم کا عنوان بھی ہے۔