2017: بالی وڈ کا ہنگامہ خیز سال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
یہ سال بالی وڈ میں خاصا ہنگامہ خیز رہا یا یوں کہیے کہ کونٹروورسیز کا سال رہا۔
کرن جوہر کی فلم 'اے دل ہے مشکل' سے لیکر سنجے لیلی بھنسالی کی فلم 'پدما وتی' تک اور کنگنا رناوت اور رتک روشن کے جھگڑے سے لیکر کرن جوہر اور کاجول کی دوستی ختم ہونے تک خبریں ہی خبریں تھیں۔
رواں سال بالی وڈ میں اگر بڑی بڑی فلمیں نہیں چلیں تو بڑی بڑی کونٹروورسیز نے اس خلا کو پورا کر کے رونق لگائے رکھی۔ فلمی ستاروں کے بریک اپ میں رنبیر کپور اور قطرینہ کیف خاموشی کے ساتھ علیحدہ ہوئے لیکن رتک روشن اور کنگانا رناوت کی محبت جب نفرت میں تبدیل ہوئی تو بات عدالتی نوٹس تک جا پہنچی۔
یہ بھی پڑھیں
ارباز خان اور ملائکہ اروڑہ خان نے بڑے پیار سے دوستوں کی طرح طلاق قبول کی تو انوشکا اور ویراٹ کوہلی پیار سے شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلوکار سونو نگم نے آذان پر آواز اٹھائی تو انکا سر منڈانے پر دس لاکھ کے انعام کا اعلان کیا گیا ادھر فلم پدماوتی کے خلاف احتجاج اتنا بڑھا کہ دپیکا کی ناک اور گلا کاٹنے پر بات آ کر رکی۔
یہ بھی پڑھیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کنگنا رناوت نے کرن جوہر کو 'اقربا پروری کا گرو' کہا تو جیسے بالی وڈ میں زلزلہ آ گیا اپنے بچوں کو لانچ کرنے والے سٹارز اور ان کے بچے ہاتھ دھو کر کنگنا کے پیچھے ہو لیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویسے سنہ 2017 میں کنگنا کونٹروورسیز کی کوئن رہیں۔ ایک طرف انھوں نے کرن جوہر تو دوسری جانب رتک روشن، شیکھر سمن اور ان سب سے بڑھ کر آدتیہ پنچولی کے ساتھ دو دو ہاتھ کیے جس کا اثر ان کے بقول انکی فلموں پر پڑا اور ان کی دو فلمیں 'سمرن' اور 'رنگون' بری طرح فلاپ رہیں تاہم ان فلموں میں انکی اداکاری کی خوب تعریف ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادھر کرن جوہر کی فلم 'اے دل ہے مشکل' اور اجے دیوگن کی فلم 'شوائے' کے ٹکراؤ پر کاجول اور کرن جوہر کی 25 سال پرانی دوستی ختم ہو گئی۔ ایسا ہی کچھ شاہ رخ خان کی فلم 'رئیس' اور رتک روشن کی فلم 'قابل' کے وقت بھی ہوا جب رتک روشن کے پاپا راکیش روشن جذباتی ہوئے اور شاہ رخ کو آڑے ہاتھوں لیا یہ اور بات ہے کہ رتک نے بات سنبھال لی۔
یہ بھی پڑھیں

،تصویر کا ذریعہSTRDEL
عامر خان کی فلم 'دنگل' کے مقابلے اکشے کمار کو فلم 'رستم' کے لیے نیشنل ایوارڈ دیا گیا تو انھیں 'پوسٹر بوائے' کا نام دیا گیا۔
آخر میں نواز الدین صدیقی نے تو حد ہی کر دی ۔ ان کی کتاب 'این آرڈینری لائف' یعنی ایک عام زندگی نے انھیں معافی مانگنے پر مجبور کر دیا جس میں نواز کی جانب سے اپنی سابق گرل فرینڈز کی کچھ خاص باتیں عام کرنے کی کوشش ان پر خاصی بھاری پڑی اور انھیں نہ صرف معافی مانگنی پڑی بلکہ کتاب بھی واپس لے لی گئی۔









