پاکستان میں بالی وڈ فلموں کی دوبارہ نمائش شروع

    • مصنف, شجاع ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں فلم ڈسٹری بیوٹر ندیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ جمعرات سے پاکستان بھر میں بالی وڈ فلموں کی نمائش کا آغاز فلم ’قابل‘ سے ہونے جا رہا ہے۔

ندیم مانڈوی والا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فلم 'قابل' اور حال ہی میں آنے والی بالی وڈ فلم 'اے دل ہے مشکل' کو سینسر بورڈ سے سرٹیفکیٹ حاصل ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فلم 'قابل' کی نمائش کل شام یعنی جمعرات سے جبکہ فلم 'اے دل ہے مشکل' کی نمائش جمعے سے شروع کر دی جائے گی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شاہ رخ خان اور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی فلم رئیس کی ریلیز آئندہ ہفتے جمعے کے روز تک متوقع ہے۔

کئی ہفتوں کے انتظار اور قانونی پیچیدگیوں کے بعد بالی وڈ کی معروف فلموں کی بالآخر شائقین کے لیے خوشی کی خبر ہے۔

ادھر فلم ’قابل‘ کے سٹار ریتک روشن نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ آج شام سے ’قابل‘ کی کراچی شہر میں نمائش شروع ہوگئی ہے۔

ندیم مانڈوی والا نے اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف اور وزیرِ مملکت برائے اطلاعات کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا جنھوں نے بقول ندیم مانڈوی والا کے مشکل ماحول کے باوجود پاکستانی سینیما کی مشکلات کے پیشِ نظر انڈیا کی فلموں کی نمائش کی اجازت دے دی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع اُڑی کیمپ پر ہونے والے حملے کے دو ہفتے بعد انڈین موشن پکچرز ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں کے انڈیا میں کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کی تھی جس کے جواب میں پاکستان میں سینیما مالکان نے اپنے طور پر انڈین فلموں کی نمائش روک دی تھی۔ یہ خود ساختہ پابندی دسمبر میں اٹھا لی گئی مگر اس کے بعد سے تاحال کوئی نئی انڈین فلم پاکستانی سینیما کی زینت نہیں بن سکیں۔

گذشتہ سال اگست میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ درآمد کی پالیسی کے 19ویں پیرا کے مطابق استثنٰی کا اختیار وزیرِ تجارت سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے انڈین فلموں کو وزارتِ تجارت، وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سفارش پر استثنٰی کا سرٹیفیکیٹ یا این او سی جاری کیا کرتی تھی۔ ترمیم کے بعد اب وزیرِاعظم ہی انڈین فلموں کی درآمد کی اجازت دے سکتے ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان اداکاروں کے تبادلے سے متعلق ندیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ انڈیا میں انتہا پسندی اس قدر پھیل رہی ہے کہ اس بات میں کئی سال لگیں گے کہ پاکستانی اداکار انڈیا جا کر کام کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس انتہا پسندی سے صرف پاکستانی اداکار ہی نہیں بلکہ انڈین فلم انڈسٹری کو خود شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کو حکومتی پالیسیوں کے ذریعے تحفظ دینے کے لیے انڈین فلموں پر پابندی لگانے کے حوالے سے ندیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ایسا صرف تب ہی ہو سکتا ہے جو آپ ایسی پابندیوں کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کے دیگر ذرائع جیسا کہ ویڈیو شاپس پر بھی انڈین فلمیں نہ ملیں۔ ان کا کہنا تھا کیونکہ اب ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کر چکی ہے، ایسا کرنا اب ناممکن ہوگا۔ 'آپ یو ٹیوب کو بند نہیں سکیں گے، آپ انٹرنیٹ کو بند نہیں کر سکیں گے۔'

یہی وجہ ہے کہ وہ میناروی کی پالیسی کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ درمیانے راستے کی پالیسیوں کے ذریعے پاکستانی فلم انڈسٹری کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت کے کردار کے علاوہ پاکستانی سیمنا گھروں کو بھی انڈین فلموں کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلموں کے لیے جگہ بنانی ہو گی۔