آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
'کرۂ ارض کا عظیم ترین شو' ختم ہونے کو
امریکہ کا سب سے مقبول سرکس جسے عرف عام میں 'دا گریٹسٹ شو آن ارتھ' یا کرۂ ارض کے عظیم ترین شو کے نام سے جانا جاتا تھا تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد ختم ہونے جا رہا ہے۔
رنگلنگ برادرز اور برنم اینڈ بیلی کی نگرانی میں چلنے والا یہ سرکس 146 سال بعد ٹکٹ کی فروخت میں کمی اور زیادہ اخراجات کے سبب بند کیا جا رہا ہے۔
جانوروں کے سرکسوں میں استعمال کے خلاف دہائیوں سے مہم چلانے والوں نے اس خبر کا خیر مقدم کیا ہے۔
یہ سرکس اپنے بلند بانگ نعروں کے سبب مقبول خواص و عام تھا اور اس پر مبنی ایک فلم نے آسکر انعام بھی حاصل کیا تھا۔
فیلڈ انٹرٹینمنٹ کے سی ای او کینتھ فیلڈ نے ایک بیان میں کہا: ’بہت غور و خوض کے بعد ہمارے خاندان اور ہم نے یہ مشکل تجارتی فیصلہ کیا ہے کہ رنگلنگ برادرز اور برنم اینڈ بیلی اپنا آخری شو مئی میں پیش کرے گا۔‘
خیال رہے کہ فیلڈ فیملی نے اس سرکس کا آغاز سنہ 1960 کی دہائی سے کیا تھا۔
بہر حال جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ پیٹا نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس سرکس کے بند ہونے سے کرۂ ارض پر جنگلی جانوروں کے افسوسناک ترین شو کا خاتمہ ہو جائے گا' اور انھوں نے دوسرے تمام سرکسوں سے اس راہ پر آنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ بدلتے وقت کی علامت ہے۔'
خیال رہے کہ کئی سالوں کی قانونی جنگ کے بعد مئی سنہ 2016 میں سرکس نے ہاتھیوں کا شو بند کیا تھا اور وہاں موجود ہاتھیوں کو فلوریڈا کی ایک پناہ گاہ میں بھیج دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سرکس کے عملے اور اس کے جانوروں کو سنہ 1952 میں ریلیز ہونے والی فلم 'دا گریٹسٹ شو آن ارتھ' میں دکھایا گيا تھا۔
فلم ساز سیسل بی ڈی میلی کو بہترین فلم کے ساتھ اس فلم کے لیے دو آسکر ایوارڈز ملے تھے۔