بالی وڈ فلم ’ڈیئر زندگی‘ کی ذہنی صحت کے مسائل پر بات کرنے کے لیے پذیرائی

میڈیا اور طب کے ماہرین دماغی صحت کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے بالی وڈ کی ایک نئی فلم کی تعریف کر رہے ہیں۔

فلم 'ڈیئر زندگی' ایک نوجوان کیمرہ پرسن کی کہانی ہے جو کاروباری ذمہ داری اور بے خوابی جیسے مسائل سے دو چار رہتی ہے۔ وہ ایک تھراپسٹ سے ملتی ہیں جو ان کی حالیہ مشکلات کو ان کے بچپن اور والدین کے ساتھ سرد مہر تعلقات کے ساتھ جوڑتا ہے۔

انڈیا میں اب بھی نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے مدد طلب کیے جانے پر بات نہیں کی جاتی۔ کئی سمجھتے ہیں کہ نفسیاتی بیماری دراصل پاگل پن ہے اور ملک میں ڈپریشن اور بے چینی کی وجہ سے کافی زیادہ خود کشیاں رپورٹ کی گئی ہیں۔

نیوز پورٹل 'دی وائر' نے لکھا ہے کہ 'ڈیئر زندگی' ایک سمارٹ فلم ہے جس نے ذہنی بیماری کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ اس میں مضمون لکھنے والے تنل ٹھاکر نے مشکل سوالات اٹھانے پر فلم کی تعریف کی ہے۔

'ہمارے ذہنی صحت کے متعلق بات نہ کرنے کی ایک وجہ ہے، کیونکہ ہم اپنے متعلق، اپنے اندرونی خدشات اور خواہشات کے متعلق بات نہیں کرنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں قبول کیا جائے، پسند کیا جائے اور پیار کیا جائے۔'

فلمی نقاد انوپما چوپڑہ نے اخبار ہندوستان ٹائمز میں لکھا ہے کہ فلم نے انتہائی بہادری کے ساتھ نفسیاتی صحت کے موضوع کو، جسے عموماً برا اور ایک دھبہ سمجھاتا ہے بات کی ہے اور 'یہ بات کرنے کے لیے ایک اہم موضوع ہے۔'

طب کے ماہرین نے بھی فلم کو سراہا ہے۔ کلینیکل سائیکولوجسٹ ہنیش کپور نے فرسٹ پوسٹ ویب سائٹ کو بتایا کہ 'مرکزی دھارے کی ہندی فلم جس میں سائیکوتھراپی کے اہم مرحلوں کے متعلق نسبتاً عام طریقے سے ہٹ کے بات کی گئی ہے، آج کل کے ذہنی صحت کے متعلق ڈائیلاگ میں ایک اچھوتا اور اہم طریقہ ہے۔'

ذہنی صحت کے اسی موضوع پر بالی وڈ فلم اداکارہ دپیکا پاڈوکون اور فلموں کے ہدایتکار کرن جوہر نے بھی روشنی ڈالی ہے اور اپنے ڈپریشن اور تجربات کے متعلق کھل کر بات کی ہے۔

ٹیلی ویژن پر ایک حالیہ اشتہار میں جس کو پاڈوکون فاؤنڈیشن نے سپانسر کیا ہے کلینیکل ڈپریشن کے موضوع پر بات کی گئی ہے جس کی ٹیگ لائن ہے 'پرواہ ہے تو دوبارہ پوچھو۔'