گیارہ ستمبر کے حملے اور بالی وڈ

- مصنف, دیویا آریا
- عہدہ, بی بی سی ، دلی
گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ پر ہونے والے حملے کے بعد جہاں سکیورٹی اور شدت پسندی سے منسلک مسائل مزید پیچیدہ ہوئے وہیں سماجی رشتے بھی الجھ گئے
حکومتیں عوام کے تئیں سخت ہوئیں اور مختلف طبقوں کے لوگوں کے باہمی رشتے بھی تلخ ہوتے دکھائی دیے۔
بھارت میں ہندی فلمی صنعت نے ان رشتوں کی عکاسی بےحد سنجیدگی سے کی ہے اور جہاں گزشتہ ایک دہائی میں نو گیارہ حملے کے موضوع پر امریکہ کی فلمی صنعت خاموش رہی وہیں بالی وڈ میں اس موضوع پر کئی اہم فلمیں بنیں۔
فلم ناقدین نمرتا جوشی کا کہنا ہے ’مغربی ممالک میں بنی فلموں نے اس حادثے کی زندگی بدلنے والی ایک ذاتی تجربے کی طرح دیکھا جبکہ بالی وڈ نے اسے عالمی سطح پر بدلتی سیاست اور ایک خاص طبقے کے لوگوں کے لیے بدلتے حالات کی طرح دیکھا۔چاہے وہ مائی نیم از خان ہو یا پھر نیویارک اور عامر ان سبھی فلموں میں مسلم سماج کے تئیں عالمی نظریے میں تبدیلی کو خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے‘۔
سنہ دو ہزار دس میں ریلیز ہوئی شاہ رخ خان کی فلم ’مائی نیم از خان‘ میں فلم کے ہیرو کی ماں اسے مذہب کی بنیاد پر فرق کرنے سے روکتی ہے اور کہتی ہے ’اس دنیا میں صرف دو قسم کے انسان ہیں۔ اچھے انسان جو اچھا کام کرتے ہیں اور برے انسان جو برا کام کرتے ہیں۔ بس یہی فرق ہے انسانوں میں‘۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اور آگے فلم میں گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد ماحول میں آئے فرق کے بارے میں سمجھاتے ہوئے فلم کا ہیرو امریکہ کے صدر سے کہتا ہے ’مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹریرسٹ‘ یعنی میرا نام خان ہے اور میں شدت پسند نہیں ہوں۔
فلم کی کہانی لکھنے والی شبانی بھتیجا کہتی ہیں یہ فلم اہم ہے کیونکہ ’اس دور میں اسلام کے نام پر جو کیا جارہا ہے اس کے نتیجے میں عام انسان کو پریشانی کا سامنا ہے۔ فلم میں یہ دکھانا اور کچھ پریشان کرنے والے سوال پوچھنا ضروری تھا‘۔
لیکن گیارہ ستبمر کے بارے میں پہلی بالی وڈ فلم ’نیویارک‘ تھی۔ سنہ 2009 میں ریلیز ہوئی یہ فلم نیویارک میں رہنے والے تین دوستوں کی کہانی تھی۔ فلم میں دکھایا گیا تھا کہ نائن الیون حملوں کے بعد وہاں بسنے والے مسلمان نوجوانوں کو کس طرح کے حالات کا سامنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم کے ہدایت کار کبیر خان کے مطابق انہوں نے اس فلم کے لیے کافی تحقیق کی تھی اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی کہانی کو سچائی کے قریب لا سکے۔
فلم میں امریکی خفیہ ایجنسی کے حکم پر معصوم لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں رکھے جاتے اور ایذائیں دیتے اور پھر اس تفریق کے نتیجے میں معصوم لوگوں کو شدت پسندی کی طرف راغب ہوتے دکھایا گیا ہے۔
فلم کا سکرپٹ لکھنے والے سندیپ شریواستو کہتے ہیں ’فلم آپ کے آس پاس کے سماج کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم نے وہی دکھایا جو اس دوران لوگوں کے ساتھ ہوا۔ آپ کو اگر کسی مذہب سے جڑے ہونے کی وجہ سے دہشت گرد قرار دیا جائے تو یہ کتنا بڑا داغ ہے‘۔
اسی موضوع پر بنی ایک اور فلم ’قربان‘ میں مسلمانوں کے شدت پسندی کا راستہ اپنانے کا کوئی ذاتی وجہ نہیں بتائی گئی بلکہ اسے ایک بڑے عالمی مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مائی نیم از خان کی طرح قربان اور نیویارک کی کہانی بھی بھارت میں نہیں فلمائی گئی۔ لیکن ایک فلم ایسی بھی تھی جس کی کہانی بھارت میں رہنے والے ایک شخص کی تھی۔ ’اے وینسڈے‘ نامی فلم میں ایک عام آدمی کا خوف، غصہ ، الجھن اور انتظامیہ سے مایوسی دکھائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سنہ 2008 میں ریلیز ہوئی فلم ’عامر‘ کے ایک تھرلر ہونے کے باوجود اس میں اسلام، مذہب اور شدت پسندی کے مسئلہ کو بےحد حساس اور سنجیدہ طریقے سے دکھایا گیا ہے۔
فلم ناقد نمرتا جوشی کہتی ہیں یہ فلمیں چھوٹے بجٹ کی ہوں یا بڑے بجٹ کی، باکس آفس پر ہٹ رہی ہوں یا فلاپ، ان فلموں میں بتائے گئے راستے صحیح ہوں یا نہیں لیکن ان فلموں نو گیارہ کے بعد مسلمانوں کے حالات کی عکاسی کی ہے۔







