نائن الیون کی صحیح عکاس کون سی کتاب ہے؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, علیزے کوہاری
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکی شہر نیویارک میں گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے حملے کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھیں گئی ہیں لیکن کیا کوئی ایک ناول ہے جو اس واقعے اور اس کے بعد شروع ہونے والی دہائی کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔
پاکستانی ناول نگار محسن حامد کی کتاب ’ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ‘ کا ہیرو چنگیز جب نیویارک میں اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے ٹوئن ٹاورز کوگرتے دیکھتا ہے تو مسکراتا ہے۔
’ ایکسٹریملی لاؤڈ اینڈ انکریڈیبل کلوز‘ نامی کتاب میں نو سالہ لٹل آسکر شیل اپنے باپ کی موت کے غم میں ایک فلِپ بک بناتا ہے جس میں وہ ٹوئن ٹاورز سے گرتے ہوئے ایک آدمی کی دھندلی تصاویر اس طرح سے ترتیب دیتا ہے کہ وہ نیچےگرا ہوا آدمی واپس محفوظ ٹون ٹاورز کے اوپر بیٹھا دکھائی دیتا ہے۔
’ان اوپن سٹی‘ نامی ناول میں ادیب تیجو کول انیسویں صدی کے ایک اصل ہیرو کرنل تاسی کی کہانی بتاتے ہیں جو ان چودہ سو چڑیوں کی موت کی گنتی کرتا ہے جو مجسمۂ آزادی سے ٹکرا کر مرگئی تھیں۔ چڑیوں کی یہ شبیہ ٹوئن ٹاور میں جہازوں کے ٹکرانے کی شبیہ کی یاد دلاتی ہے۔ یہ دونوں واقعات نیویارک میں ہوئے مگر ان کے درمیان دو صدیوں کا فاصلہ ہے۔
یہ وہ تین کتابیں جنہوں نے نو گیارہ کے واقعہ کو افسانوی اور حقیقی نظریے سے بیان کیا ہے۔ امریکہ میں انٹرنیٹ اور چھپی ہوئی کتابوں کے بارے میں معلومات رکھنے والے باؤکر بکس کا کہنا ہے کہ نو/گیارہ کے حملے کے بعد کم از کم اس موضوع پر ایک سو چونسٹھ کتابیں لکھی جا چکی ہیں جو براہ راست یا پھر افسانوی طور پر اس واقعے کے بعد ہونے والے نقصان کو قلم بند کرتی ہیں۔
’دا ٹائمز‘ کی ادبیات کی مدیر اریکا واگنر کا کہنا ہے کہ نو/گیارہ جیسے تاریخی واقعات افسانوی کتابوں کے لیے بہترین موضوع اور ادیبوں اور فنکاروں کے تخیل کے لیے بہترین کینوس ثابت ہوئے۔
دردناک واقعات آرٹسٹس کے لیے بہترین موضوع ثابت ہوئے ہیں یہ واقعات بہت ساری کتابوں اور فن کے نمونوں کو جنم دیتے ہیں۔ ہسپانوی خانہ جنگی کے بعد ہیمنگ وے نے ’فار ہوم دا بیل ٹولز‘ لکھا تھا، ڈریسڈن پر بمباری کے بعد کرٹ وونگٹ نے ’سلاٹر ہاؤس فائیو‘ لکھا اور سنہ 1812 میں بوروڈینو کی جنگ ٹولسٹائی کے ناول ’وار اینڈ پیس‘ کا موضوع بنی۔

اسی طرح سے انقلابِ فرانس رومانوی ادب پر اثرانداز دکھائی دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نو/گیارہ کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا دیا اور ہمارے سوچنے کے انداز کو بدل دیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس میں کے بارے میں لکھا جانا جائز تھا۔ لیکن اس کے واقعے کے دس سالوں بعد کیا کوئی ایسا ناول ہے جس نے سب کو اپنی طرف راغب کرلیا ہو، جو سب سے جدا ہو، جسے یہ کہا جا سکے کہ یہ ہمارے وقت کی کہانی ہے۔
نو/گیارہ کے واقعے کے دس برس بعد بھی ایسے ایک ناول کی تلاش جاری ہے۔ ارکا ویگنر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے بارے میں کتابیں وقت کی محتاج نہیں ہوتی ہیں یعنی نو گیارہ کے بارے میں کتاب کبھی بھی لکھی جائے وہ ہمیشہ مناسب رہے گي۔
ان کا کہنا ہے ’افسانے کے حساب سے اگر دیکھا جائے تو دس سال کا عرصہ بہت بڑا عرصہ نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’مثال کے طور پر اگر چارلس ڈکنز کے ناول کو دیکھا جائے تو وہ اس کے وقت کے بارے میں تھے لیکن اکثر وہ اپنے بچپن کے بارے میں لکھ رہے تھے۔ جس وقت وہ لکھ رہے تھے اور جس وقت کے بارے میں لکھے رہے تھے اس کے درمیان چالیس برس کا فرق تھا‘۔
یونیورسٹی کالج لندن میں جدید انگلش ادب کے پروفیسر جان ستھرلینڈ کا کہنا ہے کہ فکشن اور روز ہونے والے واقعات کا ایک دوسرے سے گہرا رشتہ ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ افسانوی ناول کسی بھی واقعہ کا براہ راست جواب ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ نو/گیارہ کے واقعے کی اصل معنی میں تشریح کرنے والے ناول کے پلاٹ کا نو گیارہ کے واقعے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔
’اوپن سٹی‘ کے ادیب تیجو کول کا کہنا ہے کہ ان کے مطابق نو گيارہ کے واقعے کی عکاسی کرنا والا ناول جے ایم کتزی کا ناول ’الزبتھ کیسٹیلو‘ ہے حالانکہ ناول کی کہانی کا نو/گیارہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ناول اس بات پر سوال اٹھاتا ہے کہ انسانی نقصان یا المیہ کو کسی حد میں رکھ کر بیان کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ میں ہم نے نو/گیارہ کے بارے میں بہت سنا لیکن اس کے بارے میں بہت کم دیکھنے کو ملا۔ اس دن ہونے والے نقصان اور اس واقعے بعد چھڑی جنگ کے بعد ہونے والے نقصان کے بارے میں بہت کم دیکھنے کو ملا‘۔
ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ لکھنے والے محسن حامد کا کہنا ہے کہ ان ناولوں کی تلاش کرنا جو کسی بھی واقعہ کے بارے میں براہ راست بات کرتے ہیں مشکل کام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک واقعہ کے بارے میں ہر شخص کی مختلف رائے ہوتی ہے اور وہ اس واقعہ کو اپنے ذاتی نظریے سے دیکھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب جاپان نے سات دسبمر 1941 کو پرل ہاربر کو دکھا دیا تھا تو وہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا جس نے امریکہ کو اس بات پر مجبور کردیا تھا کہ وہ دوسری جنگ عظیم میں داخل ہو۔ ’پرل ہاربر بہت کچھ تھا۔یہ ایک بوسہ تھا۔۔ ندی میں تیرنے جیسا تجربہ تھا۔۔یہ چڑیوں کے جھنڈ کے اڑنے جیسا تھا‘۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ نو/گیارہ کا واقعہ افسانوی کتابوں کا موضوع بنے تو یہ کوئی تعجب والی بات نہیں ہے۔







