’لیکن بریسویل زیادہ حاصل کرنا چاہتے تھے‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہPCB

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

شاداب خان کی یہ گیند لینتھ میں کھنچی ہوئی تھی اور یہ اس طرح کی گیند تھی کہ جسے بہت مشاق بلے باز بھی اگر خوبی سے کھیل پائے تو ایک آدھ رن سے زیادہ کچھ حاصل نہ کر پائے۔

مگر بریسویل زیادہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔

کیویز یہ طے کر کے میدان میں اترے تھے کہ وہ ’مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا‘ کی عملی تصویر بن کر دکھائیں گے۔ لیکن راولپنڈی کی پچ جس قدر بلے بازی کے لیے سازگار واقع ہوئی ہے، اس نے کیوی عزائم کو مہمیز کر دیا۔

گو ایسے نوآموز سکواڈز سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جاتی مگر بعض اوقات ایسے عبوری سکواڈز کے کھلاڑی خود ہی ایسی توقعات جوڑ بیٹھتے ہیں جو اپنی ہی پرفارمنس پر بوجھ بن جاتی ہیں کہ توقعات کے ساتھ ہی خدشات کا ایک غبار بھی ذہن پر طاری رہتا ہے۔

اور جب خدشات کا غبار ذہن پر چھایا ہو تو یہ پتا ہی کب چلتا ہے کہ کب گیند تیز ہوئی اور کب اچانک سست پڑ گئی؟

کیویز کی پہلی تینوں وکٹیں پیس کے بدلاؤ کی نذر ہوئیں۔ شاہین آفریدی اور محمد عامر بہت جلد کیویز کے عزائم بھانپ گئے جو راولپنڈی کی اس بیٹنگ فرینڈلی پچ پر محض مقابلے پر اکتفا کرنے کو آمادہ نہ تھے۔

جس طمطراق سے کیویز اپنی اننگز کی بنیاد رکھنا چاہ رہے تھے، وہ صلاحیت میں اگرچہ کم نہ تھا مگر تجربے کی کمی آڑے آ گئی اور بلے باز اس ادراک سے قاصر دکھائی دیے کہ انھیں چھپٹنا کب ہے اور پلٹنا کیونکر ہے۔

اور پھر شاہین آفریدی ایسے جھپٹے کہ کیوی اننگز کسک سی بن کر رہ گئی۔

شاہین آفریدی پر بھی حالیہ دنوں زندگی کچھ مہربان نہیں رہی۔ راتوں رات قیادت مل جانے کے ایک ہی سیریز بعد اچانک کھو جانا حوصلہ افزا نہیں ہو سکتا۔ پی ایس ایل میں بھی ان کی ٹیم نے سب سے زیادہ ہزیمتیں اپنے نام کیں اور اس ہنگامے کے دوران ان کی اپنی فارم بھی کئی کونوں کھدروں میں زیر بحث رہی۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہPCB

مگر کیویز کی اس نو عمر ٹیم کی شکل میں پاکستان کو ایک ایسا موقع میسر آیا ہے جہاں ورلڈ کپ سے پہلے کچھ اہم فیصلوں کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ اور شاہین نے بھی اس موقع کو اپنی فارم کی بحالی کے لیے بخوبی استعمال کیا۔

پاکستانی بولنگ کا مجموعی ڈسپلن اس قدر قابلِ رشک تھا کہ دوسری اننگز میں بین لسٹر اور جیکب ڈفی بھی اسی پلان پر عمل پیرا دکھائی دیے جو محمد عامر اور شاہین آفریدی کا تھا۔ اور وہ پلان اس قدر موثر تھا کہ پہلے تین اوورز، بابر اعظم اور محمد رضوان بھی اپنے ہی حصار میں محدود رہنے پر مجبور ٹھہرے۔

بریسویل کی ٹیم نے تجربے کی کمی کا ازالہ جوش سے کرنے کی کوشش کی اور میچ کی رفتار سے آگے چلنے کی جو ناکام کاوش رچائی، وہ پاکستانی فیلڈرز کے لیے ایک بھرپور کیچنگ پریکٹس سیشن بن گئی۔

ایسے میں جب آدھی بیٹنگ پویلین لوٹ چکی تھی تو ساری ذمہ داری کپتان مائیکل بریسویل پر آ ٹکی کہ وہ اپنی ٹیم کو اس منجدھار سے نکالیں اور سکور کارڈ کو کسی ایسے مجموعے تک پہنچائیں جو بولرز کے حوصلے بلند نہ سہی، بحال تو کر پائے۔

لیکن شاداب خان کی اس گیند پر بریسویل نے جو فیصلہ کیا، وہ اس پورے میچ میں کیوی بیٹنگ کی کاوشوں کا عکاس تھا۔ بریسویل نے اس گیند کو فرنٹ فٹ پہ کھیل کر سٹرائیک گھمانے کی بجائے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

وہ ریورس کھیل کر شارٹ تھرڈ مین کے اوپر سے باؤنڈری پار کرنا چاہتے تھے مگر نسیم شاہ ان عزائم کے عین بیچ میں کود پڑے اور بریسویل کے ساتھ ساتھ کیوی اننگز کی کہانی بھی تمام ہو گئی۔