آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
80 سال کی عمر میں پہلی بار اصلی خاندان اور مذہب کا پتا چلنا کتنا جذباتی ہو سکتا ہے؟
- مصنف, نونی رو اور جنیفر ہاربی
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی، ایسٹ مڈلینڈو
مائیکل گڈون کی پرورش ان کے گود لینے والے والدین نے آسٹریلیا میں کی تھی۔ ان کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ آئرش کیتھولک نسل سے ہیں۔
وہ اپنی ماں کے بارے میں کچھ جاننے کی خواہش کے ساتھ بڑے ہوئے۔ اب 80 سال کی عمر میں انھیں آخر کار اپنے حقیقی خاندان کے بارے میں سچ کا پتا چل گیا ہے۔
اپنی زندگی کے آخری حصے میں ہی مائیکل گڈون کو معلوم ہو سکا کہ پیدائش سے یہودی ہیں۔
سات سال کی عمر میں گود لیے جانے کے بعد ایک درمیانی عمر کے آسٹریلوی جوڑے نے ان کی پرورش کی۔ اس کے بعد انھوں نے شادی کی، پرتھ میں سکونت اختیار کی اور اپنا ایک خاندان شروع کیا۔
ان کی پرورش ان کے گود لینے والے والدین نے کیتھولک مسیحی کے طور پر کی تھی کیونکہ انھیں بتایا گیا تھا کہ بچہ آئرش نسل کا ہے۔
اس کے باوجود انھیں اندر اندر یہ احساس تھا کہ ان کی کہانی کے اہم حصے ایسے ہیں جو غائب ہیں۔ مائیکل نے کہا کہ 'میں ہمیشہ سوچتا رہتا تھا کہ میں کون ہوں۔'
انھوں نے بچوں کے گھر میں حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی جہاں وہ گود لینے سے پہلے رہتے تھے تاکہ اپنے پیدائشی خاندان کے بارے میں جان سکیں کہ ان کے بارے میں وہاں کیا درج تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا تھا کہ 'وہاں ایک بند دروازہ تھا۔ مجھے کچھ پتہ نہیں چل سکا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مائیکل کو لیکن اتنا معلوم تھا کہ انھیں برطانیہ سے آسٹریلیا لایا گیا تھا، جہاں وہ گود لینے سے پہلے رہ چکے تھے۔ جب سنہ 2009 اور 2010 میں برطانوی اور آسٹریلوی حکومتوں نے بچوں کی جبری نقل مکانی کی پالیسی کے لیے معذرت کی تو اس وقت مائیکل کو احساس ہوا کہ وہ ان ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہے جنھیں جبری منتقلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
لیکن اس کے ساتھ انھوں نے ایک ایسے گروپ کے بارے میں بھی سنا جو ان کی مدد کر سکتا تھا اور وہ گروپ برطانیہ میں قائم ایک خیراتی ادارہ تھا جس کا نام چائلڈ مائیگرنٹس ٹرسٹ ہے۔
ٹرسٹ
ٹرسٹ سنہ 1987 میں ناٹنگھم شائر کی ایک سماجی کارکن ڈاکٹر مارگریٹ ہمفریز نے اس وقت قائم کیا تھا جب انھوں نے ایسے بچوں کی خوفناک کہانیاں سنیں جنھیں جو برطانیہ سے زبردستی آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں بھیجا گیا تھا۔ ان میں سے اکثر کو اپنے پیدائشی والدین کا علم نہیں تھا۔ جان کے کام پر مبنی ایک فلم بھی بنی ہے جسے اورینجز اینڈ سن شائن کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ایملی واٹسن نے اداکاری کی ہے۔ اپنے پیدائشی نام، برطانوی پاسپورٹ اور گود لینے سے پہلے کی شناخت کے بارے میں وہ چند حقائق سے لیس مائیکل نے پرتھ میں ٹرسٹ کے دفتر سے رجوع کیا۔ انھیں اتنا معلوم تھا کہ وہ پانچ سال کی عمر میں ایک کشتی پر آسٹریلیا پہنچے تھے، جسے ایک انگریز بچوں کے گھر سے آسٹریلیا میں موجود بچوں کے گھر منتقل کیا گیا تھا اور وہیں انھیں ایک جوڑے نےاپنایا تھا۔
انھوں نے مائیکل پس منظر کے بارے میں کچھ سراغ لگانے کے لیے ریکارڈ کھنگالنا شروع کیا۔
وہاں کچھ ایسا ہوا جیسے کہ سراغ انھیں خود دیکھ رہا ہو۔
دفتر میں ایک تصویر تھی جس میں کشتی کے ایک طویل سفر کے بعد آسٹریلیا پہنچنے والے بچے نظر آ رہے تھے۔
تصویر
وہ تصویر میں موجود ہر ایک بچے کو پہچاننے میں کامیاب ہو گئے تھے سوا اس بچے کے جو حیران و پریشان اور اداس نظر آ رہا تھا اس کا کوٹ اس کے سائز سے بڑا تھا اور جوتے پھٹے تھے جبکہ ایک دوسرے مہاجر بچے نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
وہ بچہ مائیکل نکلا۔
اسے پتا چلا کہ وہ مائیکل لیچمین کے طور پیدا ہوا تھا اور جرمن نسل کا یہودی تھا۔
ان کی والدہ السی سنہ 1939 میں نازی جرمنی سے بھاگ کر اٹلی کے راستے انگلینڈ پہنچی تھیں۔ السی کے والدین اور بھائی جو جرمنی میں ہی رہ گئے تھے انھیں ہولوکاسٹ کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔
اور افسوسناک طور پر مائیکل کو پتا چلا کہ وہ اسے ایک گھر دینا چاہتی تھی۔
اس کے بعد انھوں نے کہا کہ 'مجھے ایسا احساس ہوا کہ جیسی میری شناخت چوری ہو گئی ہو۔'
انھیں پتا چلا کہ ان کی ماں ہٹلر کے خلاف جنگی خدمات میں شامل ہوئی تھیں۔ اس دوران ان کا ایک فوجی کے ساتھ تعلق قائم ہو گیا اور وہ حاملہ ہو گئی۔
انھوں نے مائیکل کو بچوں کے ایک کیتھولک گھر کی دیکھ بھال میں رکھ دیا لیکن ٹرسٹ کو ملنے والے ایک خط میں انھوں نے واضح طور پر لکھا تھا کہ جب ان کےوالد جنگ سے واپس آئیں گے تو وہ اپنے بیٹے کو ایک گھر دینا چاہتی ہیں۔
ڈاکٹر ہمفریز نے کہا: 'انھوں نے بہت ہی جذباتی خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جب مائیکل کے والد جنگ سے واپس آئیں گے تو ہم اپنے پیارے بچے کو لے جائيں گے اور ہم اسے ایک گھر دیں گے اور خوشگوار زندگی گزاریں گے۔'
لیکن جب وہ اسے لینے پہنچیں تو انھیں بتایا گیا کہ ان کے بچے کو آسٹریلیا بھیج دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مائیکل کو پتا چلا کہ ان کی ماں ان کے پیچھے آسٹریلیا پہنچیں لیکن انھیں ان کا بچہ کبھی نہیں ملا۔ اس بچے کا نام بدل دیا گیا تھا اور وہ پرتھ میں رہ رہا تھا۔
ایلسی کی سنہ 2009 میں میلبرن میں موت ہو گئی یعنی اس سے ایک سال قبل جب مائیکل مدد کے لیے ٹرسٹ کے پاس پہنچے۔
بہر حال، ٹرسٹ مائیکل کی خاندانی تاریخ کو دریافت کرنے میں اور ان کی مدد کرنے میں کامیاب رہا۔
رواں ماہ وہ اور ڈاکٹر ہمفریز نے جرمنی کے شہر شیمنٹز کا سفر کیا، جہاں سے ان کی ماں آٹھ دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ قبل نازیوں سے بچ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئي تھیں۔
انھوں نے کہا: 'میں نے اپنے دل میں محسوس کیا کہ میرے لیے یہ ضروری تھا کہ میں آکر اس زمین کو چھوؤں جہاں میری ماں تھی۔'
پھر مائیکل نے جرمنی میں اپنے خاندان کے سابقہ گھر کی جگہ پر اپنے دادا دادی اور چچا کی یادگار کا دورہ کیا۔ بعد میں وہ شیمنٹز کے یہودی قبرستان گئے۔
جب وہ وہاں پہنچے تو وہ خزاں کے رنگوں اور دھوپ میں نہا رہا تھا۔ انھوں نے اپنی دادی کے خاندان فرینکس کے مقبروں کی طرف دیکھا۔
انھوں نے کہا کہ بالآخر 'ان تمام سالوں کے بعد میں حقیقت میں یہ دیکھ سکا کہ وہ کہاں دفن ہیں۔ یہ حیرت انگیز ہے۔' شہر کے حکام نے اپنے یادگاری پروجیکٹ کے تحت مائیکل کو اپنی بنائی ہوئی فلم دیکھنے کے لیے مدعو کیا جس میں ان کے جرمن خاندان کے افراد شامل تھے۔
پہلی بار، وہ اپنے ان رشتے داروں کے چہروں کو دیکھ سکتے تھے جنھیں وہ جانتے تک نہ تھے۔
انھوں نے کہا کہ 'آپ 80 سالوں سے گھوم رہے ہوں اور ان تمام لوگوں کو نہیں جانتے ہوں اور پھر اچانک ایک دن آپ ان کے بارے میں جاننے لگیں۔
'یہ کرنا بہت بڑی چیز ہے۔۔۔ ایک زبردست اور جذباتی تجربہ بھی ہے۔ اور آپ آخر میں یہ کہنے کے قابل ہوتے ہیں 'میں نے اس جگہ کو پا لیا جہاں سے میرا تعلق ہے۔'
شینمٹز میں اپنی تحقیق کے دوران انھوں نے پایا کہ ان میں سے کچھ نیویارک چلے گئے۔
اس کا انکشاف ہونے کے بعد ہی ٹرسٹ نے اپنا پہلا آن لائن ری یونین پروگرام منعقد کیا۔
انھوں نے شہر میں ایک خالی دفتر کی عمارت حاصل کی جس میں مائیکل کو دیکھنے اور ان سے بات کرنے کے لیے ایک بڑی ٹی وی سکرین لگی تھی۔ پہلی بار ان کے خون کے رشتہ دار یعنی نیویارک میں آباد ان کا خاندان ان سے بات کرنے والا تھا۔
انھیں پتا چلا کہ ان بڑی خالہ بھی نازیوں سے بچ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئی تھیں۔
اگرچہ وہ اب زندہ نہیں تھیں، لیکن ان کی بیٹیاں اور دیگر رشتہ دار ان کا استقبال کرنے کے لیے سکرین پر ان کے منتظر تھے۔
جب انھوں نے کہا: 'ہیلو، کیسے ہیں آپ سب، تو ان کی آواز بھرا گئی۔
انھوں نے جواب دیا: 'خاندان میں آپ کا استقبال ہے۔'
وہ اپنے خاندان کے ساتھ رابطے میں رہنے کی امید رکھتے ہیں اور ممکنہ طور پر برطانوی حکومت کی طرف سے تارکین وطن بچوں کے لیے قائم کردہ ٹریول فنڈ کا استعمال کرتے ہوئے ٹرسٹ کے زیر انتظام ایک دن نیویارک میں ان سے ملاقات کریں گے۔
انھوں نے کہا: 'میں اپنے خاندان سے ملنا چاہوں گا۔
'یہ سب سے بڑی چیز ہے جو میں نے اب تک کی ہے۔ یہ وہ تحفہ ہے کہ جس کے تحت اب میں یہ کہنے کے قابل ہوں کہ 'یہ میری جڑیں ہیں، یہ وہ جگہ ہے جہاں سے میں آتا ہوں، یہ وہ جگہ ہے جہاں سے میرا خاندان آتا ہے اور میں ان کے بارے میں مزید جان سکتا ہوں۔'
جرمنی میں اپنے قیام کے آخری دن وہ برینڈن برگ گیٹ کے قریب واقع ہولوکاسٹ کی یادگار پر گئے تاکہ اس مقتول خاندان کو یاد کر سکیں جن سے وہ کبھی نہیں ملے۔
یہ سپاٹ پڑے ہوئے پتھروں کی ایک زبردست یادگار ہے۔
یہاں تک کہ ایک گرم اور دھوپ والے دن بھی ان بلند و بالا پتھروں سے ایک مخصوص کپکپی پیدا ہوتی ہے۔ مائیکل نے کہا: 'اس نے مجھے اداس، بہت اداس کر دیا ہے۔'
اپنے یورپ کے سفر پر انھیں ایک اور پڑاؤ کرنا تھا۔ یہ ناٹنگھم کا دورہ تھا۔ یہ ان کی مرحوم بیوی کا خاندانی گھر جو اپنی پسند سے آسٹریلیا ہجرت کر گئے تھے۔
اتفاق سے اس کا پتہ بھی ایک خیراتی ادارے نے انھیں یا اور ان کے ماضی سے پردہ اٹھانے اور انھیں ایک نئی امید اور نیا مستقبل دینے میں مدد کی۔
انھوں نے دریائے ٹرینٹ کے کنارے ایک چھوٹی سی یادگار کا دورہ کیا جہاں ایک درخت کے ساتھ ایک چھوٹی سی تختی لگی تھی۔
یہ ان 10,000 بچوں کے لیے وقف ہے جو چائلڈ مائیگریشن سکیم کے ذریعے اپنے خاندانوں سے الگ ہو گئے تھے۔ جب مائیکل کی اس پر نظر پڑی تو ان کے خیالات ان کے اپنے دادا پردادا اور اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے درمیان کھو گئے۔
انھوں نے کہا کہ 'وہ یہ میراث حاصل کر سکتے ہیں، یہ میری میراث ہے۔'