آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں ماؤ نواز ’باغیوں‘ کے خلاف جنگ جس میں دہائیوں سے خونریزی جاری ہے
- مصنف, سوبھوجیت باگچی
- عہدہ, تجزیہ کار
کیا انڈیا میں دہائیوں سے جنگلوں میں جاری مسلح بغاوت بالآخر اپنے اختتام کے قریب ہے؟
گذشتہ ہفتے انڈیا کے سب سے زیادہ مطلوب ماؤ نواز رہنما نمبالا کیشو راؤ جو بسوا راجو کے نام سے مشہور تھے، وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک بڑے سکیورٹی آپریشن کے دوران 26 دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے اسے 'تین دہائیوں میں ماؤ نواز بغاوت کے خلاف سب سے فیصلہ کن کارروائی' قرار دیا ہے۔ اس تصادم میں ایک پولیس افسر بھی ہلاک ہوا ہے۔
بسوا راجو کی موت محض ایک حکمت عملی کی کامیابی نہیں بلکہ بستر کے جنگلات والے علاقے میں ماؤ نوازوں کی آخری دفاعی صف میں دراڑ کا اشارہ ہے۔ بستر وہ خطہ ہے جہاں اس گروہ نے سنہ 1980 کی دہائی سے اپنی سب سے مضبوط پناہ گاہ قائم کر رکھی ہے۔
ماؤ نوازوں کو انڈیا میں ’نکسلائٹس‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے سنہ 1967 میں مغربی بنگال کے گاؤں نکسل باڑی سے بغاوت کی ابتدا کی تھی۔ بغاوت کے بعد مختلف ادوار میں یہ منظم ہو کر انڈیا کے وسطی و مشرقی علاقوں میں ایک 'سرخ راہداری' قائم کی جو مشرق میں جھارکھنڈ سے لے کر مغرب میں مہاراشٹر تک پھیلی ہوئی ہے اور ملک کے ایک تہائی اضلاع پر محیط ہے۔
سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس بغاوت کو انڈیا کے لیے ’سلامتی کا سب سے بڑا داخلی خطرہ‘ قرار دیا تھا۔
ساؤتھ ایشین ٹیرارزم پورٹل کے مطابق انڈیا میں کمیونسٹوں کی حکمرانی کے لیے کی جانے والی مسلح جدوجہد نے سنہ 2000 سے اب تک تقریباً 12,000 جانیں لی ہیں۔ باغی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ قبائلیوں اور دیہی غریبوں کے حقوق کے لیے لڑتے ہیں کیونکہ انھیں حکومتوں نے زمانے سے نظر انداز کیا ہے اور انھیں ان کی زمینوں سے بے دخلی کا سامنا ہے۔
’خاموشی ضرور آئے گی‘
ماؤ نواز تحریک، جسے باضابطہ طور پر بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) کہا جاتا ہے، 2004 میں کئی مارکسسٹ-لیننسٹ گروپوں کے سی پی آئی (ماؤ نواز) میں انضمام سے باقاعدہ شکل میں آئی۔ اس پارٹی کی نظریاتی جڑیں وسطی ریاست تلنگانہ میں سنہ 1946 میں ہونے والی کسانوں کی ایک بغاوت سے جڑی ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے مارچ 2026 تک ماؤ نوازوں کا خاتمہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہوا ہے یہ خونریز اور پرعزم بغاوت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ ایسے میں یہ سوال نظر آتا ہے کیا یہ واقعی اس کا اختتام ہے یا اس طویل اور خونی سفر میں محض ایک اور وقفہ ہے؟
ماؤ نواز تحریک پر طویل عرصے سے نظر رکھنے والے صحافی اور ماہر سماجیات این وینوگوپال اس تحریک کے بیک وقت ناقد بھی ہیں اور ہمدرد بھی۔
وہ کہتے ہیں: 'ایک خاموشی ضرور آئے گی۔ لیکن مارکسسٹ-لیننسٹ تحریکیں اس قسم کے چیلنجز سے پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ چنانچہ 1970 کی دہائی میں جب نکسلائٹ قیادت ماری گئی تھی، تب بھی نکسلزم جاری رہا اور ہم اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔'
تاہم، وزارت داخلہ میں ماؤ نواز کے خلاف جاری آپریشن کے نگران ایک اعلیٰ افسر ایم اے گنپتی مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'بنیادی طور پر، ماؤ نواز تحریک ایک نظریاتی جدوجہد تھی لیکن وہ نظریہ اب اپنی کشش کھو چکا ہے، خاص طور پر نوجوان نسل میں۔ اب تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اس میں دلچسپی نہیں رہی۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'بسوا راجو کے خاتمے کے بعد ان کا حوصلہ پست ہو گیا ہے۔ وہ اب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔'
سب سے زیادہ واقعات اور ہلاکتیں چھتیس گڑھ میں
وزارت داخلہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ماؤ نواز تحریک سے منسلک تشدد کے واقعات میں 48 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ سنہ 2013 میں 1,136 سے گھٹ کر 2023 میں 594 ہو گئے اور اس سے منسلک اموات میں 65 فیصد کمی دیکھی گئی، یعنی 397 سے کم ہو کر 138 رہ گئی ہیں۔
تاہم، رپورٹ یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ سنہ 2023 میں سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں 2022 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا جس کی وجہ ماؤ نوازوں کے گڑھ میں آپریشنز کی شدت کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2023 میں چھتیس گڑھ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست رہی جہاں بائیں بازو کی انتہا پسندی کے 63 فیصد واقعات رونما ہوئے اور 66 فیصد اموات ہوئیں۔
اس کے بعد جھارکھنڈ دوسرے نمبر پر رہا، جہاں 27 فیصد پر تشدد واقعات ہوئے اور 23 فیصد اموات رپورٹ ہوئیں۔ باقی واقعات مہاراشٹر، اڑیسہ، مدھیہ پردیش اور بہار ریاستوں میں پیش آئے۔
چھتیس گڑھ میں ماؤ نوازوں کے زوال نے اس وسیع تحریک کے کمزور پڑنے کے اہم اشارے فراہم کیے ہیں۔
مسٹر گنپتی کے مطابق ایک دہائی قبل ریاست کی پولیس کو کمزور سمجھا جاتا تھا۔
وہ کہتے ہیں: 'لیکن آج، مرکزی نیم فوجی فورسز کے تعاون سے ریاستی سطح پر کی جانے والی سٹیک کارروائیوں نے صورت حال بدل دی ہے۔ نیم فوجی فورسز نے میدان سنبھالا، ریاستی فورسز نے انٹیلیجنس اکٹھی کی اور ٹارگیٹڈ آپریشنز کیے۔ یہ فورسز کے کرداروں کی واضح تقسیم اور مربوط حکمت عملی تھی۔'
'عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی بغاوت قائم نہیں رہ سکتی'
گنپتی کا مزید کہنا ہے کہ موبائل فونز، سوشل میڈیا، سڑکوں اور رابطے کی بہتر سہولیات نے لوگوں میں شعور پیدا کیا ہے اور وہ اب زیر زمین مسلح تحریکوں کی حمایت میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
انھوں نے کہا: 'لوگوں کی امنگیں بڑھ گئی ہیں، موبائل اور سوشل میڈیا عام ہو چکے ہیں اور لوگ بیرونی دنیا سے جڑ چکے ہیں۔ ماؤ نواز اب دور دراز کے جنگلات میں چھپ کر کام نہیں کر سکتے جب کہ وہ نئی سماجی حقیقتوں سے کٹے ہوئے ہوں۔
'عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی بغاوت قائم نہیں رہ سکتی۔'
ایک سابق ماؤ نواز ہمدرد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سیاست سے دوری کو تحریک کے زوال کی ایک بڑی خامی قرار دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ 'ماؤنواز حقیقی تبدیلی لائے، خواہ تلنگانہ میں سماجی انصاف لانا، چھتیس گڑھ میں قبائلیوں کو متحد کرنا ہو لیکن وہ اسے ایک متحد سیاسی قوت میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔'
ان کے مطابق، اس ناکامی کی جڑ ایک پرانی انقلابی سوچ تھی اور وہ ریاستی اختیار سے باہر 'آزاد زون' بنانا اور 'طویل عوامی جنگ کے ذریعے ریاست پر حملے کا نظریہ تھا۔
'یہ نظریات صرف اسی وقت تک کام کرتے ہیں جب تک ریاست جواب نہیں دیتی۔ پھر یہ منہدم ہو جاتے ہیں اور ہزاروں لوگ مارے جاتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ سوال اٹھایا جائے کہ کیا آج کے انڈیا میں کوئی انقلاب واقعی دور دراز جنگلات سے چلایا جا سکتا ہے؟'
سی پی آئی (ماؤنواز) کی 2007 کی سیاسی دستاویز اب بھی ماؤ کے دور کی حکمت عملی سے چمٹی ہوئی ہے یعنی 'آزاد علاقے' بنانا اور 'دیہاتوں سے شہروں کو گھیرنا' لیکن اس تحریک کے ایک ہمدرد نے صاف الفاظ میں کہا کہ 'اب یہ طریقہ کارگر نہیں رہا۔'
پارٹی کو اب بھی کچھ دور دراز علاقوں میں عوامی حمایت حاصل ہے، خاص طور پر مشرقی مہاراشٹر، جنوبی چھتیس گڑھ اور اڑیسہ و جھارکھنڈ کے بعض قبائلی علاقوں میں۔ لیکن اب ان علاقوں میں ان مضبوط عسکری بنیاد نہیں رہ گئی ہے۔
انتخابی سیاست سے ہم آہنگ کرنے کا مسئلہ
ریاستی فورسز کی جاری کارروائیوں نے جنوبی چھتیس گڑھ میں ماؤنوازون کے گڑھ میں ان کے عسکری ڈھانچے کو کافی کمزور کر دیا ہے۔ اب ان کے کارکن اور لیڈر باقاعدگی سے مارے جا رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ خود کو مؤثر طریقے سے بچانے کے قابل نہیں رہے۔
مسٹر وینوگوپال کا ماننا ہے کہ تحریک کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے حکمت عملی پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق زیرزمین جدوجہد کی اپنی جگہ ہے لیکن 'اصل چیلنج یہ ہے کہ اسے انتخابی سیاست کے ساتھ ہم آہنگ کیسے کیا جائے۔'
اس کے برعکس، مسٹر گنپتی کو مستقبل قریب میں ماؤنوازوں کی جانب سے کسی مؤثر جوابی کارروائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب ایک مختلف طریقہ یعنی مذاکرات کو اپنانے کا وقت آ چکا ہے۔
انھوں نے کہا: 'یہ بہتر ہوگا کہ وہ اب بات چیت کی جانب آئیں، شاید بغیر کسی شرط کے، یا اپنی شرائط رکھیں اور حکومت کو ان پر غور کرنے دیں۔ یہ وہ وقت ہے جب حکومت سے رجوع کیا جانا چاہیے، بجائے اس کے کہ اپنے ہی کارکنوں کی جانیں بے مقصد قربان کی جائیں۔'
ماؤنوازوں کو آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تلنگانہ میں حکمران کانگریس اور بڑی اپوزیشن جماعت بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) نے جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کی ہے، جس میں دس چھوٹی بائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ اور اسے وسیع پیمانے پر ماؤنواز کے باقی رہ جانے والے لیڈروں اور کارکنوں کو تحفظ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماؤنواز تحریک، جو ماضی میں ذات پات کے جبر کے خلاف جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے، اب بھی ان ریاستوں کے کچھ علاقوں میں سماجی طور پر جائز سمجھی جاتی ہے۔ شہری حقوق کے کارکنوں نے بھی جنگ بندی کے مطالبے میں آواز ملائی ہے۔
'جہاں بھی ناانصافی ہو گی، وہاں تحریکیں ہوں گی'
کولکتہ میں قائم تنظیم 'ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس' کے جنرل سیکرٹری رنجیت سور نے کہا: ’ہم نے دیگر شہری حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر دو نکاتی عمل کا مطالبہ کیا ہے۔ پلی فوری جنگ بندی، اور پھر امن مذاکرات۔‘
ماؤنواز تحریک سے متاثرہ ریاستیں اب بھی ان کا مضبوط گڑھ اس لیے بنی ہوئی ہیں کہ وہاں معدنیات کی بھرمار ہے اور یہی چیز ان علاقوں کو وسائل پر قبضے کی شدید لڑائیوں کا میدان بناتا ہے۔ مسٹر وینوگوپال کا ماننا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ سی پی آئی (ماؤنواز) کی موجودگی اب تک برقرار ہے۔
مثال کے طور پر ریاست چھتیس گڑھ انڈیا میں ٹن کنسنٹریٹ اور مولڈنگ سینڈ پیدا کرنے والی واحد ریاست ہے اور وزارتِ معدنیات کے مطابق یہ کوئلہ، ڈولومائیٹ، باکسائٹ اور اعلیٰ معیار کی لوہے کی کانوں کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
یہ ریاست ملک کے 36 فیصد ٹن، 20 فیصد لوہا، 18 فیصد کوئلہ، 11 فیصد ڈولومائیٹ اور 4 فیصد ہیرے و سنگِ مرمر کے ذخائر رکھتی ہے۔ اس کے باوجود ملکی و غیر ملکی کان کنی کمپنیاں ان وسائل تک رسائی حاصل کرنے میں طویل عرصے سے مشکلات سے دو چار ہیں۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا: 'بین الاقوامی کمپنیاں اس لیے داخل نہیں ہو سکیں کیونکہ ماؤنواز تحریک نے 'جل، جنگل، زمین' (پانی، جنگل اور زمنی) کے نعرے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگلات قبائلیوں کی ملکیت ہیں، نہ کہ کمپنیوں کی۔'
لیکن اب جبکہ ماؤسٹ کمزور ہو چکے ہیں، ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، کم از کم چار چھتیس گڑھ کی کانیں مئی میں کامیاب نیلامی کے بعد 'زیادہ بولی لگانے والوں' کو ملنے والی ہیں۔
مسٹر وینوگوپال کا ماننا ہے کہ مزاحمت ماؤسٹ لیڈروں کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ 'لیڈر تو مر سکتے ہیں، لیکن غصہ باقی رہتا ہے۔ جہاں بھی ناانصافی ہو گی، وہاں تحریکیں ہوں گی۔ ہم شاید انھیں ماؤ ازم نہ کہیں لیکن وہ موجود رہیں گی۔'