کمیٹی گیٹ: لوگ کمیٹیاں کیوں ڈالتے ہیں اور کیا یہ بچت کا بہترین راستہ ہے؟

    • مصنف, بلال کریم مغل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان میں حالیہ کچھ دنوں سے ایک ’کمیٹی گیٹ‘ کا بہت چرچا ہے جس میں مبینہ طور پر سینکڑوں خواتین کے کروڑوں روپے ڈوب گئے ہیں۔ 

سوشل میڈیا پر ایک خاتون سدرہ حُمید کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اُنھوں نے ایک سو سے زائد کمیٹیوں کی انتظام کاری میں گڑبڑ کی ہے جس کے بعد وہ ان میں حصہ لینے والے لوگوں کو ان کی رقوم واپس کرنے سے قاصر ہیں۔ 

سدرہ نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں اس بات کی تو تصدیق کی ہے کہ وہ فوری طور پر رقوم ادا کرنے سے قاصر ہیں تاہم ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ رقم لے کر فرار نہیں ہو رہیں بلکہ تمام لوگوں کو ان کے پیسے واپس ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ 

اس کے علاوہ اُنھوں نے کمیٹیوں کی تعداد اور رقوم کی تصدیق نہیں کی، جو کچھ لوگوں کے مطابق 42 کروڑ روپے کے قریب ہے۔

اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر کمیٹیوں کے حق اور مخالفت میں ایک بحث جاری ہے اور کئی لوگ اس معاملے کی اصل وجہ پاکستان میں خواتین کی بالخصوص اور عوام کی بالعموم بینکاری سہولیات تک ناکافی رسائی کو قرار دے رہے ہیں تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کمیٹی کا نظام ہی سرے سے بے فائدہ ہے۔

کمیٹیاں کیا ہوتی ہیں؟ 

اگر تو آپ پاکستان میں رہتے ہیں تو آپ نے بچپن سے ہی سنا ہو گا کہ گھر کی کسی ضرورت یا آپ کے کسی کام مثلاً نئی موٹرسائیکل یا فیس وغیرہ کے لیے والدہ نے کمیٹی ڈال رکھی ہے۔ 

مگر کمیٹی صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہر اس جگہ ڈالی جاتی ہے جہاں لوگ بینکاری نظام تک یا تو رسائی نہیں رکھتے یا بلند شرحِ سود کی وجہ سے بینکوں سے قرض لینے کو بہترین آپشن نہیں سمجھتے۔ 

کمیٹی سسٹم کو انگلش میں روٹیٹنگ سیونگز اینڈ کریڈٹ ایسوسی ایشن (روسکا) کہا جاتا ہے۔ 

اس میں کچھ لوگ مل جل کر ہر ماہ ایک مخصوص رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہیں اور پھر قرعہ اندازی یا باہمی رضامندی سے یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ تمام لوگوں کی جمع کی گئی رقم مجموعی طور پر سب سے پہلے کس شخص کو ملے گی۔ 

عام طور پر سب سے پہلی کمیٹی اس شخص کو دے دی جاتی ہے جو یا تو کمیٹی کا منتظم ہو یا پھر کوئی ایسا شخص جسے فوری طور پر کسی بنا پر پیسوں کی ضرورت ہو۔ 

کمیٹی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر مثال کے طور پر آپ نے فوری طور پر دو لاکھ روپے کی کوئی چیز لینی ہے مگر آپ کے پاس ہاتھ میں صرف 25 ہزار روپے ہی ہیں، تو آپ نے سات مزید لوگوں کو جمع کرنا ہے جو ہر ماہ 25 ہزار روپے اس کمیٹی میں ڈال سکیں۔ 

جب آپ سمیت آٹھوں لوگ اپنی رقم ملائیں گے تو یہ دو لاکھ روپے ہو جائیں گے اور آپ کی ضرورت بغیر کسی سود پر مبنی قرض یا طویل دستاویزی کارروائی کے ہی پوری ہو جائے گی۔ 

اس کے بعد آپ نے اگلے سات ماہ تک ہر ماہ 25 ہزار روپے دینے ہوں گے جس کے بعد یہ کمیٹی ختم ہو جائے گی۔ اس دوران کمیٹی کا ہر رکن دو لاکھ روپے جمع کروا چکا ہو گا اور بدلے میں دو لاکھ روپے بھی حاصل کر چکا ہو گا۔ 

بظاہر دیکھیں تو سیونگز اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے یا کسی اور جگہ سرمایہ کاری کرنے کے برعکس کمیٹی میں آپ کی رقم کبھی بھی اصل سے بڑھتی نہیں۔ اس کا واحد فائدہ یہ ہے کہ آپ کو ایک ساتھ وہ رقم بھی حاصل ہو جاتی ہے جو آپ عام طور پر شاید جمع نہ کر پائیں مگر قسط وار آپ اتنی ہی رقم باآسانی دے سکیں گے۔ 

تاہم اس میں خطرہ اس لیے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر تمام لین دین صرف اعتبار کی بنیاد پر اور کیش میں کیا جاتا ہے اور قانونی طور پر ایسی کسی کمیٹی میں ہونے والے فراڈ کو ثابت کرنا بہت ہی مشکل ہو سکتا ہے۔

کمیٹی میں فراڈ کیسے ہوتا ہے؟ 

کمیٹی میں سب سے عمومی فراڈ یہ ہو سکتا ہے کہ کمیٹی کا منتظم شخص تمام تر پیسے اکٹھے کرنے کے بعد کسی کو ادائیگی نہ کرے اور جمع شدہ رقم لے کر فرار ہو جائے۔

اس فراڈ کے واقعات آپ نے سن رکھے ہوں گے لیکن یہ عموماً سننے میں کم آتا ہے کیونکہ کمیٹیاں عام طور پر ایسے افراد آپس میں ڈالتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ بہت قریبی تعلقات رکھتے ہوں جیسے خاندان یا دفتر و محلے کے افراد۔ 

سوشل میڈیا کے دور میں اب کئی لوگ ایسی بڑی کمیٹیوں کی انتظام کاری کر رہے ہیں جس میں رقم کروڑوں روپے تک جا پہنچتی ہے اور ارکان کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے۔ 

بلاشبہ جب اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوں تو کچھ ایک افراد کی جانب سے بھی رقم کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث پورا سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔ اگر ایسی صورت میں منتظم خود رقم ادا کرنا چاہے تو نتیجہ نقصان کی صورت میں نکلتا ہے اور منتظم دیوالیہ بھی ہو سکتا ہے۔ 

سدرہ حُمید نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ ماہانہ ادائیگیاں کرنے میں ناکام کیوں رہی ہیں تاہم اُنھوں نے فیس بک پر اپنے عوامی معافی نامے میں لکھا ہے کہ ان کے لیے جب ماہانہ ادائیگیاں کرنا مشکل ہوا تو اُنھوں نے مزید کمیٹیاں شروع کیں اور بالآخر یہ سب اتنا پھیل گیا کہ وہ لوگوں کو ان کے پیسے دینے سے قاصر ہو گئیں۔ 

معاشیات میں ایسے منصوبے جن میں بعد میں آنے والے سرمایہ کاروں سے پیسے لے کر ابتدائی سرمایہ کاروں کو منافع دیا جائے، اُنھیں ’پونزی سکیم‘ کہا جاتا ہے۔ 

اب سدرہ حُمید نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ لوگوں کو ان کی رقوم واپس کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں اُنھوں نے کچھ لوگوں کی فہرست بھی شائع کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ان کی رقم جزوی یا مکمل طور پر واپس کی جا چکی ہے۔ 

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف لوگ ملی جلی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرِ معیشت عمار حبیب خان نے ٹوئٹر پر لکھا کہ کمیٹیوں میں رقم ڈالنا فائدہ مند نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ زیادہ تر لین دین کیش میں کیا گیا جس کی کوئی رسیدیں اور کوئی ثبوت نہیں۔ 

اسریٰ نامی ایک صارف نے عمار خان کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اگر کمیٹی نہیں تو پھر کیسے پیسے بچائے جا سکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ سیونگز کے لیے ایک علیحدہ اکاؤنٹ رکھتی ہیں جس تک ان کی آسان رسائی نہیں۔ اس میں وہ ہر ماہ اپنی آمدنی کا کچھ فیصد حصہ رکھ دیتی ہیں۔ 

کچھ لوگوں نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے مالیاتی نظام میں لوگوں کی عدم شمولیت کو کمیٹیوں پر لوگوں کے انحصار کی وجہ قرار دیا۔ 

گلریز خان نے لکھا کہ مالیاتی یا انفرادی نقطہ نظر سے کمیٹیاں غیر مؤثر ہیں مگر یہ کمرشل قرضوں کا سماجی متبادل فراہم کرنے کی وجہ سے مقبول ہیں اور معقول محسوس ہوتی ہیں۔ 

اُنھوں نے لکھا کہ ان میں حصہ لینے والے لوگ بشمول میری والدہ کے غیر معقول نہیں، بس ان کا حساب کتاب مختلف ہے۔ 

تاہم پاکستان میں خواتین اور معاشرے کے کئی دیگر افراد کے لیے بینک اکاؤنٹس کھلوانا اب بھی آسان نہیں اور اس حوالے سے سٹیٹ بینک خود بھی ماضی میں کئی اقدامات کا اعلان کر چکا ہے تاکہ بینکاری نظام میں خواتین کی شمولیت کو بڑھایا جائے۔ 

سید سندس رضا نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان میں گھریلو خواتین کے لیے بینک اکاؤنٹ کھلوانا ’انتہائی ناممکن‘ ہے اسی لیے خواتین کمیٹیوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ بینکوں کو آمدنی کا ثبوت چاہیے ہوتا ہے اور وہ عام طور پر گھریلو خواتین کے اکاؤنٹس کھولنے سے کتراتے ہیں۔

مینا طارق نے لکھا کہ ان کی والدہ نے گذشتہ ماہ کئی کمیٹیوں کے ذریعے ایک گاڑی خریدی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ ایک سود سے پاک، ساکھ پر قائم قرضہ ہے۔ 

اُنھوں نے مزید لکھا کہ ان کی والدہ نے 15 برس تک کمیٹی چلائی جس میں کوئی بھی شخص دیوالیہ نہیں ہوا۔ اُن کے مطابق اس کمیٹی نے زیادہ تر لوگوں (اکثریتی طور پر خواتین) کو سرمایہ کاری کرنے، اثاثے خریدنے، بچوں کو یونیورسٹی بھیجنے اور ان کی شادی کرنے میں مدد دی ہے۔ 

واضح رہے کہ پاکستانی قوانین کے تحت سٹیٹ بینک آف پاکستان کے لائسنس یافتہ بینکوں اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے لائسنس یافتہ بروکرز کے علاوہ کوئی بھی ادارہ یا فرد بچت، سرمایہ کاری یا منافع وغیرہ کے نام پر لوگوں کی رقوم وصول کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔