آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس 2025 کی معطلی: خامی قانون میں ہے یا اس پر عملدرآمد کے طریقے میں؟
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اس قانون پر تنازع شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے جسے بقول وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ’لینڈ مافیا‘ کے خلاف لایا گیا تھا اور جس کی معطلی کو ’عوام قبضہ مافیا کی پشت پناہی سمجھیں گے‘ اور جسے لاہور ہائیکورٹ کی سربراہ اختیارات کے ارتکاز کی کوشش قرار دیتی ہیں۔
پنجاب میں حال ہی میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا اور اس کارروائی کو قانونی تحفظ دینے کے لیے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 نافذ کیا گیا لیکن اس کے نفاذ کے چند دن بعد لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے نہ صرف آرڈیننس پر عملدرآمد روکا بلکہ اس کے تحت دیے گئے قبضے بھی واپس کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہائیکورٹ کا فل بینچ اس معاملے کی سماعت کرے تاکہ آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
جسٹس عالیہ نیلم نے پیر کو اس قانون کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اگر نافذ ہو، تو جاتی امرا (شریف خاندان کی رہائش گاہ) بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروائی جا سکتی ہے۔
سماعت کے دوران انھوں نے چیف سیکریٹری پنجاب کو مخاطب کر کے کہا کہ ’حکومت کو بتائیے، اگر کسی نے جاتی امرا کے خلاف درخواست دے دی تو پھر ڈپٹی کمشنر اس کے حق میں بھی فیصلہ کر سکتا ہے اور جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کرایا جا سکتا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ تمام اختیارات آپ کو دے دیے جائیں؟‘
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکریٹری سے یہ بھی سوال کیا کہ ’یہ قانون کیوں اور کس مقصد کے تحت بنایا گیا ہے؟
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’چیف سیکرٹری صاحب، لگتا ہے آپ نے یہ قانون نہیں پڑھا۔ لگتا ہے کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ انھیں تمام اختیارات دے دیے جائیں۔ یہ قانون بنا کیوں؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ جب کوئی معاملہ سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو ایک ریونیو افسر کس طرح جائیداد کا قبضہ دلا سکتا ہے؟‘
عدالت کی جانب سے قانون کی معطلی اور بظاہر اس سوال پر خود پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے ردعمل سامنے آیا جن کا کہنا تھا کہ ’برسوں اور دہائیوں کے ستائے ہوئے لاکھوں اہلِ پنجاب کی مدد کا قانون عوام کی منتخب اسمبلی نے بنایا تاکہ طاقتور لینڈ مافیا کے چنگل سے عوام کو نجات ملے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ قانون سے پہلی بار عوام کو اپنی قانونی زمین اور جائیداد کے تحفظ کی طاقت ملی، جبکہ قانون کی معطلی سے قبضہ مافیا کو فائدہ ملے گا اور عوام اسے قبضہ مافیا کی پشت پناہی سمجھیں گے۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ زمینوں کے مقدمات میں دہائیوں تک حکمِ امتناعی چلتے ہیں، اس قانون کی معطلی سے نقصان غریبوں، مسکینوں، بے کسوں، بیواؤں اور مظلوموں کا ہ وگا جن کی داد رسی ہو رہی تھی۔ ’ہم نے برسوں اور نسلوں سے چلنے والے زمین اور جائیداد کے مقدمات کے پہلی بار 90 دن میں فیصلے کیے۔‘
مریم نواز کے ایکس اکاؤنٹ سے گذشتہ ماہ ایک ویڈیو بھی اپ لوڈ کی گئی تھی جس میں ان لوگوں کے مریم نواز کے لیے شکریہ کے بیانات موجود تھے جنھیں اس آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنرز نے زمینوں کے قبضے دلوائے تھے۔
اس آرڈیننس کے نافذ العمل ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب بھر سے تقریباً 56 درخواستیں دائر ہوئیں جن میں یہ دعویٰ تھا کہ انتظامیہ نے ان سے ناجائز طور پر قبضہ لے کر اُس فریق کو دیا جس نے ڈپٹی کمشنر کے پاس درخواست دائر کی تھی۔
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ’اگر ڈپٹی کمشنر آپ کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دے تو آپ کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں ہو گا۔ آپ کا قانون کہتا ہے کہ ہائیکورٹ اس معاملے پر حکمِ امتناعی بھی جاری نہیں کر سکتی۔ قانون کے مطابق جس نے شکایت کردی وہی درخواست گزار ہوگا۔ مجھے یہ بتائیں کہ کیا یہاں جعلی رجسٹریاں اور جعلی دستاویزات نہیں بنتیں؟‘
انھوں نے کہا کہ ’موبائل فون پر آپ کہتے ہیں کہ آ جاؤ، ورنہ تمھارا قبضہ چلا گیا۔ آپ یہاں کھڑے ہیں اور آپ کا گھر جا رہا ہو گا؟ قانون کے تحت آپ نے ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی بنائی اور آپ کی کمیٹی کے لوگ لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قبضہ نہ دیا تو باہر پولیس کا ڈالہ کھڑا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’اگر آپ کا پٹواری جعلی دستاویزات نہ بنائے تو سول عدالتوں میں اتنے کیسز دائر ہی نہ ہوں۔ جن پٹواریوں کو آپ نے اختیارات دیے، یہی کل کو قبضہ گروپس کے ساتھ مل جائیں گے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت دل سے نہیں بلکہ دماغ سے فیصلے کرتی ہے جبکہ آپ کے ڈپٹی کمشنرز خواہشات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ اس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ اس قانون میں ڈپٹی کمشنرز کو قبضے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سینکڑوں کیسز ہیں جہاں ڈپٹی کمشنرز نے قبضے دلائے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ قانون کا نہیں بلکہ اس کے نفاذ اور عملدرآمد کے طریقے کا ہے۔
بی بی سی نے اس قانون کے نفاذ کے بعد اس سے متاثر ہونے والے چند افراد کے وکلا سے بات کی اور جاننے کی کوشش کی کہ اس قانون سے انھیں کیا نقصان پہنچا۔
’عدالتی حکم کے باوجود ہم سے ہماری مارکی کا قبضہ دوسری پارٹی کو دے دیا گیا‘
ایڈووکیٹ قمر زمان نے گفتگو میں بتایا کہ ’میرے موکل کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور ان کی وہاں مارکی ہے جو انھوں نے تقریباً دس سال پہلے بنائی تھی۔ یہ زمین مشترکہ تھی جو دو بھائیوں اور ایک بہن کی ملکیت تھی۔ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ اگلے پچاس سال تک یہ زمین ہمیں کرایہ پر دیں گے۔‘
ان کے مطابق ’ہم نے معاہدے کے بعد ہی اس زمین پر مارکی تعمیر کی جس میں ہمارے کروڑوں روپے لگے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مالکان کی آپس میں لڑائی ہو گئی اور انھوں نے زمین کو بیچ کر اپنا اپنا حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے بتایا کہ آپ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جس کے بعد معاملہ سول کورٹ میں چلا گیا اور وہاں ہم نے تمام دستاویزات جمع کروائیں اور یہ بھی بتایا کہ ہم کرایہ باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اس معاملے پر عدالت میں ایک اور معاہدہ طے ہوا کہ ہم اپنا کاروبار دوسری جگہ منتقل کر لیں گے اور اس کے بدلے دوسری پارٹی ہمیں ایک کروڑ پینتالیس لاکھ روپے ادا کرے گی جو شفٹنگ کی مد میں آئیں گے، جس پر انھوں نے رضا مندی ظاہر کی۔‘
ان کے مطابق ’زمین کے اصل مالکان نے بذریعہ چیکس نوے لاکھ روپے دیے، جس کی رسیدیں بھی عدالت میں جمع ہیں۔ لیکن اسی دوران یہ آرڈیننس آ گیا اور انھوں نے جا کر ڈپٹی کمشنر کو ہمارے خلاف درخواست دے دی۔‘
ایڈووکیٹ قمر کے مطابق ’اس کے بعد ڈپٹی کمشنر نے ہمیں جگہ فوری خالی کرنے کا حکم دیا اور قبضہ لے کر دوسری پارٹی کو دے دیا۔ اسی تمام معاملے کے بعد ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔‘
ایک اور درخواست گزار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے کیس میں تو ہمارے حق میں سپریم کورٹ سے بھی فیصلہ آ چکا ہے، پھر بھی ڈپٹی کمشنر نے ہم سے قبضہ لے کر دوسری پارٹی کو دے دیا۔‘
یہ کیس قصور کا تھا اور تنازع زرعی زمین کا تھا۔ دونوں فریقین نے معاہدہ کیا اور ایک پارٹی نے دوسری کو زمین بیچی۔
درخواست گزار کے مطابق ’میرے موکل نے بیعانہ دیا اور قیمت کا ایک حصہ ادا کیا، جس کے بعد اسے قبضہ دے دیا گیا۔ اسی دوران ایک تنازع پیدا ہوا اور معاملہ سول کورٹ چلا گیا، جہاں ہمارے حق میں فیصلہ آیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ پہلی پارٹی ہائی کورٹ گئی تو وہاں سے بھی فیصلہ ہمارے حق میں ہوا۔ پھر وہ سپریم کورٹ تک گئے، جہاں عدالت نے کہا کہ یہ مسئلہ ثبوتوں کے بغیر حل نہیں ہو سکتا، اس لیے ثبوت لے جا کر سول جج کو پیش کریں، وہی اسے حل کریں گے۔
ان کے مطابق ’اسی دوران نیا قانون آ گیا تو انھوں نے ڈپٹی کمشنر قصور کو درخواست دے دی کہ اگرچہ ہمارا مسئلہ سپریم کورٹ تک گیا ہے، لیکن یہ لوگ ناجائز قبضہ کیے ہوئے ہیں، اس لیے قبضہ چھڑوایا جائے۔ جب ہمارے خلاف کارروائی ہوئی اور قبضہ دوسری پارٹی کو دیا گیا تو ہم نے ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ یہ عدالتی فیصلے موجود ہیں اور معاملہ سپریم کورٹ تک گیا ہے اور ابھی بھی کیس چل رہا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ بھی دکھایا کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں سپریم کورٹ کا نوٹ جمع ہے۔‘ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ’ہمارے پاس یہ مینڈیٹ نہیں ہے کہ ہم دیکھیں کہ عدالتی معاملہ کیا ہے۔ ہمارے پاس مینڈیٹ یہ ہے کہ ہم زمین کی ملکیت دیکھیں کہ وہ کس کے نام ہے اور جس کے نام ہوگی ہم اسے قبضہ دلوائیں گے۔‘
ان کے مطابق ’اسی لیے ہم ہائی کورٹ گئے کہ اس نئے قانون کے تحت نہ ہماری دلیل لی جا رہی ہے، نہ ہی کاغذات دیکھے جا رہے ہیں، نہ ہی ہمیں اپیل کا حق دیا جا رہا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی ہے۔‘
ان کیسز کو سننے کے بعد چیف جسٹس نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے، فل بینچ تشکیل دینے اور آرڈیننس کے تحت دیے گئے قبضوں کو واپس کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
56 درخواستوں پر جاری تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ تمام جائیدادوں کا وہی اسٹیٹس بحال کرے جو درخواستیں دائر ہونے سے پہلے تھا اور عدالتی احکامات تک پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس پر کارروائی معطل رہے گی۔ عدالت نے کہا کہ ایکٹ کی بعض شقیں آئین کے آرٹیکل 10 سے متصادم ہیں اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو عدالتی معاونت کے لیے 27 اے کا نوٹس جاری کیا گیا۔
یہ قانون کیا تھا اور اسے کیوں معطل کیا گیا ہے؟
اکتوبر 2025 میں پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس کی منظوری دی گئی، جس کے تحت ضلعی انتظامیہ کا افسر یعنی ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ زمینوں پر قبضے کے حوالے سے درخواستیں وصول کرے اور قانون میں درج طریقہ کار کے تحت انہیں نوے دنوں میں نمٹائے۔
اس قانون پر بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اسامہ احمد کا کہنا تھا کہ اس آرڈیننس کو اس لیے معطل کیا گیا ہے کیونکہ اس میں کئی خامیاں ہیں، جیسے اپیل کا حق نہ ہونا یا پھر اپیل صرف اس وقت کرنا جب قبضہ درخواست گزار کو دے دیا گیا ہو۔ جبکہ قانونی طور پر ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیارات نہیں دیے گئے کہ وہ اکیلا ایسے کیسز پر فیصلہ کرے یا قبضہ دلوائے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس قانون کے مطابق اگر کوئی شخص درخواست دائر کرتا ہے تو چھ افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، اے ڈی سی ریونیو، اسسٹنٹ کمشنر، ایک پولیس افسر اور ایک حکومتی افسر شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی کسی بھی کیس کا جائزہ لے گی اور معاملے کی تحقیق کے بعد اپنے نتائج ٹریبیونل کو بھجوائے گی۔ تاہم حکومت کے مطابق اب تک سیکڑوں کیسز ڈپٹی کمشنرز نے حل کیے ہیں لیکن کسی میں بھی معیاری طریقہ کار اپنایا نہیں گیا۔
یاد رہے کہ دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 18 دسمبر کو یہ آرڈیننس اسمبلی سے منظور ہو کر قانون بن چکا ہے۔ پیر کو ہونے والی سماعت میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے اعتراف کیا کہ کمیٹیوں کے ممبران نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے، جبکہ پراپرٹی پر قبضے کا فیصلہ ٹریبیونلز نے کرنا تھا۔ آج کی تاریخ تک کوئی ٹریبیونل قائم نہیں ہوا۔
اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے ذبیح اللہ ناگرہ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل نے کہا کہ ’اگر عدالتیں اپنا کام درست انداز میں کریں تو ایسے قوانین لانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ ہمارے ملک میں دہائیوں تک جائیداد کے کیس چلتے ہیں، لوگ مر جاتے ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومت اپنے افسران کو ایسے اختیارات دے دے جن کے تحت وہ کرپشن کریں، لوگوں کے ساتھ زیادتی کریں اور اپنی مرضی کے فیصلے کریں۔‘
یاد رہے کہ یہ آرڈیننس 31 اکتوبر کو پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے منظور کیا تھا، جس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد کے تنازعات کے فیصلے کا اختیار دیا گیا تھا اور تنازعات کو 90 دن میں نمٹانے کا کہا گیا تھا۔
پنجاب اسمبلی کے رکن ملک صہیب احمد بریا نے اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ ’یہ کوئی عجلت میں لایا گیا آرڈیننس نہیں بلکہ پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 ہے، جو وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ کی ہدایات پر مکمل سوچ بچار قانونی عمل، کابینہ کی منظوری، اسمبلی کی بحث اور گورنر کے دستخط کے بعد نافذ ہوا، یہ قانون سنجیدہ مشاورت اور آئینی تقاضوں کے تحت عوام کی زندگیوں میں آسانی اور سہولت کے لئے بنایا گیا ہے۔‘