بدنام زمانہ انسانی چڑیا گھر، جن میں انسانوں کو نمائش کے لیے پیش کیا جاتا

- مصنف, ڈالیا وینچورا
- عہدہ, بی بی سی منڈو
یہ انسانی اقدار کو پامال کرنے والی ایک بہت ہی دلخراش اور بدترین کہانیوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس نے ایسے سنگین اثرات مرتب کیے جو آئندہ آنے والے کئی برسوں تک باقی رہے۔
شاید یہ کہانی صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے اور دیکھنا ہو گا کہ آپ کب سے اسے سُننا چاہیں گے۔
جنوبی امریکہ کے مغربی نصف کرہ میں ہم ایزٹیک تہرے اتحاد کے حکمرانوں کے چڑیا گھروں کی جانب واپس جا سکتے ہیں۔
انتانیو سولِیس یے ریوادے نیرا جیسے ہسپانوی مؤرخین کے مطابق پرندوں، جنگلی درندوں اور زہریلے جانوروں کے علاوہ، اس چڑیا گھر میں ایک کمرہ تھا جہاں بھینسیں رہتی تھیں اور محل کے دوسرے جانور جو بادشاہ کی تفریح کے لیے ہوتے تھے: بدشکل، بونے، کُبڑے اور فطرت کی دیگر خرابیوں والے انسانوں کو بھی شمار کیا جاتا تھا۔
یہ تفصیلات 16ویں صدی سے شروع ہونے والی ’فریک شوز‘ کی اس قسم کی تاریخی روایات یاد دلاتی ہے۔
اس وقت تک جسمانی خرابیوں کو برا شگون نہیں سمجھا جاتا تھا اور نہ ہی انھیں بری روحوں کے ثبوت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، اس لیے طبی اور جسمانی طور پر ’نقائص‘ والے لوگ گشت کرنے والے میلوں یا سرکسوں کے معیاری شرکا یا آئٹمز سمجھے جاتے تھے۔
لیکن اس کہانی کی دریافت کے پہلے سفر کے چار صدیوں سے بھی زیادہ عرصے بعد جو کچھ ہو رہا تھا اس کا شاید ایک زیادہ مناسب پیش خیمہ اطالوی کارڈینل ہپولیٹس ڈی میڈیچی کا اپنے خاندان کی پریشانی میں اضافہ تھا۔
اطالوی نشاۃ ثانیہ کے درمیان انھوں نے ہر قسم کے غیر ملکی درندوں کے علاوہ 20 سے زیادہ زبانیں بولنے والے کئی ’وحشی‘ جمع کیے ہوئے تھے جن پر وہ فخر کرتے تھے۔ ان میں مور، تاتار، انڈین، ترک اور افریقی شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے ان لوگوں کی غیر انسانی فہرست میں ایک اور قدم اٹھایا یعنی وہ لوگ جو معمول کی انسانی شکل سے ذرا مختلف نظر آتے تھے: انھوں نے کچھ جسمانی تبدیلیوں یا معذوری کے ساتھ پیدا ہونے والے لوگوں کی عجیب و غریب نمائش کے لیے دوسری سرزمین کے انسانوں کو بھی اس چڑیا گھر میں شامل کیا ہوا تھا جن کی ظاہری شکل اور رسم و رواج یورپ کے لوگوں سے مختلف تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم چڑیا گھروں میں اس قسم کے انسانوں کو غیر انسانی طریقے سے رکھے جانے کی روایت کا عروج سینکڑوں سال بعد آتا ہے، جب مغربی معاشروں کے عوام یا ہجوم میں غیر ملکی انسانی ’نمونوں‘ کی نمائش کی خواہش پیدا ہوئی جو دوسرے خطوں سے پیرس، نیویارک، لندن یا برلن بھیجے گئے تھے۔
مبصرین کی جانب سے ایک تجسّس کے طور پر جو چیز شروع ہوئی وہ 19ویں صدی کے وسط میں بے رحمانہ جعلی سائنس میں بدل چلی تھی۔ سائنسدان انسانی ارتقا کے نظریے کے لیے جسمانی ثبوت تلاش کر رہے تھے۔
لاکھوں لوگ بڑے بین الاقوامی تجارتی میلوں کے حصے کے طور پر بنائے گئے ’انسانی چڑیا گھروں‘ میں انسانوں کو غیر انسان سمجھ کر دیکھنے آیا کرتے تھے۔
ان چڑیا گھروں میں بعض اوقات وہ ایک پورے گاؤں کو دیکھ سکتے تھے جن کے باشندے دور دراز مقامات سے لائے جاتے تھے اور اپنے نوآبادیاتی آقاؤں کے سامنے جنگی رقص یا مذہبی رسومات کا مظاہرہ ایک تماشے کے طور پر کرتے تھے۔
اس طرح غیر ملکی لوگوں کے حوالے سے مغربی معاشروں میں غیر مغربی خطوں کے لائے گئے انسانوں کی مختلف شکل و صورت کی وجہ سے ان کے ’مختلف‘ ہونے کا احساس پیدا ہوا جس نے ان کے تسلط کو جائز بنانے میں مدد کی۔

غیر ملکی ’عجوبے‘
پہلے تو یہ ساری سرگرمی نسبتاً معصوم سی رہی ہو گی: نامعلوم کے ساتھ شاید باہمی تصادم اور تجسّس۔
سنہ 1774 میں ’مائی‘ یا ’اومائیہ‘ نامی آسٹریلیا کے قریب پولینیشیائی جزائر کے ایک باشندے کو برطانوی مہم جو جان کُک انگلینڈ لے کر آئے جنھیں ماہر فطرت جوزف بینکس نے کنگ جارج سوئم کے دربار میں ایک عجوبے کے طور پر پیش کیا اور وہ پولینیشیائی باشندہ ان کے قدموں میں گر گیا۔
رچرڈ ہومز اس پولینیشیائی باشندے کو ’عجائبات کی فہرست‘ میں رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ’عجیب، دلکش اور چالاک تھا۔‘
’اس کی غیر اجنبی خوبصورتی کی... جس کی معاشرے میں بہت تعریف کی گئی، خاص طور پر زیادہ بہادر بزرگ خواتین میں وہ کافی مقبول ہوا۔‘
لیکن کیا وہ مہمان تھا یا ایک نمونہ؟
ابتدائی دنوں میں اگر اس طرح کی تخصیص میں ابہام کی کچھ گنجائش تھی تو نوآبادیاتی دور کی نئی کامیابیوں کی وجہ سے وہ بھی ختم ہو گئی۔
آنے والے دور کا سب سے افسوس ناک نشان جنوبی افریقہ کی سارہ بارٹ مین تھیں جنھیں ’ہاٹنٹوٹ وینس‘ کہا جاتا تھا۔ وہ 1780 کے آس پاس پیدا ہوئیں، انھیں 1810 میں لندن لایا گیا اور یورپ کے میلوں میں دکھایا گیا جس سے تماشائی بہت محظوظ ہوئے۔
ان کی بڑی کشش ان کے کولہے تھے کیونکہ اس دور میں یورپی نقطہ نظر سے بڑے کولہے فیشن میں تھے۔ چنانچہ وہ لوگوں میں بہت مشہور ہوئیں۔
جب بڑے کولہوں والی افریقی زُہرہ لندن میں اپنی کشش کھو بیٹھیں تو انھیں پیرس بھیج دیا گیا جہاں ابھرتے ہوئے نسلی ماہرین بشریات نے ان کا مزید تجزیہ کیا۔ ایک نمائشی کیٹلاگ میں ان سائنسدانوں میں سے ایک نے اسے 'بیبون کولہوں' کے طور پر بیان کیا۔
اسی دور میں ان کا مطالعہ شروع ہوا جسے آج ’نسل پرستی‘ کہا جاتا ہے۔
وہ 1815 میں وفات پا گئیں لیکن اُن کے جسم کی نمائش کا سلسلہ جاری رہا۔
ان کا دماغ، ڈھانچہ، اور جنسی اعضاء 1974 تک پیرس کے میوزیم آف ہیومینٹی میں نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔ سنہ 2002 میں ان کی باقیات کو واپس لایا گیا اور انھیں جنوبی افریقہ میں دفن کر دیا گیا۔
بارٹ مین سے درجہ بندی کے دور کا آغاز ہوا یعنی یہ خیال کہ انسانوں میں کچھ بہتر نسلیں ہوتی اور کچھ بدتر نسلیں ہوتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
سب سے پست سطح
کہانی کا عروج انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل کے سامراجی عروج کے ساتھ آتا ہے۔
بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں پر مسیحی انجیلی بشارت اور ثقافتی برتری کے تصورات سے متاثر سامعین نے نوآبادیاتی زندگی کے ازسرنو نفاذ کے بارے میں جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ کیا جو بین الاقوامی تجارتی میلوں کا باقاعدہ حصہ بن گئے تھے۔
تماشائی ’ابتدائی‘ زندگی کی جھلک دیکھ سکتے ہیں اور یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ اُنھوں نے نامعلوم جگہوں کا ’سفر‘ کیا ہے۔
جرمن کارل ہیگن بیک جنگلی جانوروں کے تاجر اور بہت سے یورپی چڑیا گھروں کے مستقبل کے کاروباری اس فیشن کے علمبرداروں میں سے ایک تھے جنھوں نے ’غیر ملکی آبادیوں‘ کی دیگر نمائشوں میں اُنھیں پودوں اور جانوروں کے ساتھ دکھا کر فرق پیدا کیا جیسا کہ وہ اپنے ’قدرتی ماحول‘ میں ہوں۔
اس طرح 1874 میں اُنھوں نے سامون اور سامی (لپس) اور 1876 میں مصری سوڈان کے نیوبینز کی نمائش کی، جو یورپ میں ایک زبردست کامیاب شو تھا۔
’وحشیوں کو ان کے قدرتی ماحول میں‘ دکھانے کا ان کا خیال غالباً پیرس میں جارڈین ڈی کلیمیٹیشن کے ڈائریکٹر جیوفرائے ڈی سینٹ-ہیلیئر کے ذہن کی اختراع تھی جنھوں نے 1877 میں دو ’نسلی شوز‘ منعقد کیے جن میں نیوبین اور انوئٹ شامل تھے۔
اس سال ناظرین کی تعداد دوگنی ہو کر 10 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔
سنہ 1877 اور 1912 کے درمیان تقریباً 30 ’نسلی نمائشیں‘ جارڈین زوولوجک ڈی کلیمیٹیشن میں پیش کی گئیں۔
پیرس میں بھی 1878 کے عالمی میلے میں سینیگال، ٹونکن اور تاہیٹی کی کالونیوں کے لوگوں کے ساتھ آباد ’سیاہ دیہات‘ شامل تھے۔
اس نمائش کے ڈچ کیمپ میں جاوانی گاؤں ('کیمپونگ') شامل تھا جس میں ’مقامی‘ آباد تھے جو رقص اور رسومات ادا کرتے تھے۔
سنہ 1889 میں عالمی میلہ جسے دو کروڑ 80 لاکھ لوگوں نے دیکھا، اس نمائش میں موجود 400 مقامی لوگوں میں جاوانی بھی موجود تھے جنھوں نے موسیقی کو اتنے نفیس انداز میں پیش کیا کہ اُنھوں نے نوجوان موسیقار کلاڈ ڈیبسی کو حیران کر دیا۔
اسی سال چلی کی حکومت کی اجازت سے سیلکنم یا اوما لوگوں کے 11 مقامی باشندوں بشمول ایک 8 سالہ لڑکے کو بھی انسانی چڑیا گھروں میں نمائش کے لیے یورپ بھیجا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBIBLIOTHÈQUE NATIONALE DE FRANCE
’وحشیوں کو ان کے قدرتی ماحول میں‘ دکھانے کا ان کا خیال غالباً پیرس میں جارڈین ڈی کلیمیٹیشن کے ڈائریکٹر جیوفرائے ڈی سینٹ-ہیلیئر کے ذہن کی اختراع تھی جنھوں نے 1877 میں دو ’نسلی شوز‘ منعقد کیے جن میں نیوبین اور انوئٹ شامل تھے۔
اس سال ناظرین کی تعداد دوگنی ہو کر 10 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔
سنہ 1877 اور 1912 کے درمیان تقریباً 30 ’نسلی نمائشیں‘ جارڈین زوولوجک ڈی کلیمیٹیشن میں پیش کی گئیں۔
پیرس میں بھی 1878 کے عالمی میلے میں سینیگال، ٹونکن اور تاہیٹی کی کالونیوں کے لوگوں کے ساتھ آباد ’سیاہ دیہات‘ شامل تھے۔
اس نمائش کے ڈچ کیمپ میں جاوانی گاؤں ('کیمپونگ') شامل تھا جس میں ’مقامی‘ آباد تھے جو رقص اور رسومات ادا کرتے تھے۔
سنہ 1889 میں عالمی میلہ جسے دو کروڑ 80 لاکھ لوگوں نے دیکھا، اس نمائش میں موجود 400 مقامی لوگوں میں جاوانی بھی موجود تھے جنھوں نے موسیقی کو اتنے نفیس انداز میں پیش کیا کہ اُنھوں نے نوجوان موسیقار کلاڈ ڈیبسی کو بے آواز کر دیا۔
اسی سال چلی کی حکومت کی اجازت سے سیلکنم یا اوما لوگوں کے 11 مقامی باشندوں بشمول ایک 8 سالہ لڑکے کو بھی انسانی چڑیا گھروں میں نمائش کے لیے یورپ بھیجا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیٹاگونیا کے تہیولچے، سلکنام اور کاوسکر انڈین ایک نایاب نسل سمجھے گئے تھے، اس لیے ان کی تصویر کشی کی جاتی تھی، انھیں ناپا جاتا تھا، وزن کیا جاتا تھا اور 1878 اور 1900 کے درمیان انھیں روزانہ ’پرفارم‘ کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
اگر وہ اس سفر میں بچ گئے تو ان میں سے زیادہ تر جنوبی امریکہ کے ’نمونے‘ اپنی منزلوں تک پہنچنے کے فوراً بعد ہی ختم ہو گئے۔
سلکنام کو ماریس میترے نے پکڑا تھا جو اس قسم کی انسانی سمگلنگ کر کے امیر ہونے والے ڈیلروں میں سے ایک تھے۔
ان میں سے کچھ تاثرات جیسے افسانوی 'بفیلو بل' کوڈی، ٹریولنگ شوز میں پیش کرتے ہیں۔ 'جنگلی مغرب' سے ان کا نسلی دقیانوسی کا تصور کی ایک اور مثال تھی۔
اور کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے انڈینز کے ساتھ اپنے سلوک سے خود کو ممتاز کیا، جیسے ٹرومین ہنٹ، ایک مشہور گاؤں ’ایگورٹس‘ کے منتظم۔
اس گاؤں کو مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے 1300 فلپائنی باشندوں میں سے کچھ نے آباد کیا تھا جنھیں امریکی حکومت 1904 میں سینٹ لوئس میں عالمی میلے میں لے کر آئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'دی لوسٹ ٹرائب آف کونی آئی لینڈ' کے مصنف کلیئر پرینٹس کے مطابق، اس معاملے میں جو محرک کار فرما تھا وہ سیاسی نوعیت کا تھا۔
'وحشیوں' کی نمائش کر کے حکومت نے فلپائن میں اپنی پالیسیوں کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی امید ظاہر کی اور یہ ظاہر کیا کہ نئے حاصل کیے گئے علاقوں کے باشندے خود حکومت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔
ہر ایک ’آبائی‘ باشندے سے ان کی ثقافت اور رسم و رواج کو ظاہر کرنے کے لیے ماہانہ 15 امریکی ڈالر کی ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ہنٹ نے 'ایگوروٹس' کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا کہ انھیں 1906 میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ اُنھوں نے ان سے 9,600 ڈالر کی اجرت چرائی جو قبائلیوں نے دستکاری فروخت کر کے کمائے تھے، پھر ان سے سینکڑوں ڈالر زیادہ لینے کے لیے انھوں نے 'ایگوروٹس' پر جسمانی طاقت کا استعمال کیا۔

،تصویر کا ذریعہLibrary of Congress
سائنسی نسل پرستی
ہیمبرگ، کوپن ہیگن، بارسلونا، میلان، وارسا اور دیگر علاقوں میں ’آدمیوں‘ اور ’مہذبوں‘ کے درمیان ’فرق‘ پر زور دیتے ہوئے کئی دہائیوں تک انسانوں کی نمائش جاری رکھنے کے محرکات کچھ اور بن چکے تھے۔
ماہرین و محققین کا کہنا ہے کہ وہ تین باہم منسلک باتوں سے جڑے تھے: ایک خیالی طور پر دوسرے کی تعمیر، دوسرے نسلوں کی درجہ بندی کا نظریہ، اور تیسرے نوآبادیاتی خطوں کی تعمیر۔
یہ باتیں یا خیالات اکثر سائنسی نسل پرستی اور سماجی ڈارون ازم کے ایک نظریے پر مبنی تھے۔
مثال کے طور پر 1906 میں، شوقیہ ماہرِ بشریات میڈیسن گرانٹ نے، جو نیویارک کی زولوجیکل سوسائٹی کے ڈائریکٹر تھے، نیو یارک کے برونکس چڑیا گھر میں بندروں اور دیگر جانوروں کے ساتھ کانگو کے پگمی (بونے) 'اوٹا بنگا' انسان کی نمائش کی۔
گرانٹ کے کہنے پر ایک مشہور 'یوجینیٹسٹ' (علم اصلاح نوع انسانی کے ماہر)، چڑیا گھر کے ڈائریکٹر نے اوٹا بنگا کو ایک اورینگوٹان کے ساتھ ایک پنجرے میں ڈال دیا اور ان پر ’دی مسنگ لنک‘ کا لیبل لگایا تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ارتقائی لحاظ سے اوٹا بنگا جیسے افریقی یورپیوں کے مقابلے میں بندروں کی نوع کے زیادہ قریب تھے۔

،تصویر کا ذریعہLibrary of Congress
افریقن امریکن بیپٹسٹ چرچ کے احتجاج کے بعد اُنھیں چڑیا گھر میں گھومنے کی اجازت دی گئی لیکن جب ہجوم کی طرف سے زبانی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا تو ان کا رویہ قدرے پرتشدد ہو گیا تو اسے ہٹا دیا گیا۔
1916 میں گرانٹ نے ایک کتاب شائع کی جس میں انھوں نے سفید فام برتری کے نظریہ کی وضاحت کی اور ایک مضبوط یوجینکس (علم اصلاح نوع انسانی) پروگرام کی وکالت کی۔
اسی سال اوٹا بنگا نے خود کو دل میں گولی مار کر خودکشی کر لی۔
پھر یہ میلے مقبول نہیں رہے
دریں اثنا، مارسیلز (1906 اور 1922) اور پیرس (1907 اور 1931) کی نوآبادیاتی نمائشیں پنجروں میں بند انسانوں کو دکھاتی رہیں، اکثر عریاں یا نیم عریاں۔
1931 میں ہونے والے ایسے میلوں میں چھ ماہ میں تین کروڑ 40 لاکھ افراد نے شرکت کی۔
کمیونسٹ اینٹی امپیریلسٹ لیگ کی طرف سے 'کالونیوں کے بارے میں سچ' کے نام سے منعقد کی گئی جوابی نمائش میں کافی کم لوگوں نے شرکت کی۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس نمائش کا ہونا ہی، اس بات کی علامت تھی کہ انسانی چڑیا گھر کے بارے میں مغربی معاشروں کا رویہ آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک اندازے کے مطابق تقریباً 35,000 لوگوں نے یہ نمائش دیکھی تھی۔
ان میں سے زیادہ تر میلوں کے لیے پیسے دینے پڑتے تھے: ایسے میلے عوامی تفریح مہیا کرتے تھے۔ گاؤں والے ان میں بھر پور حصہ لیتے تھے۔
لیکن نمایاں طور پر عوام اور ان 'فنکاروں' کے (یعنی نوآبادیوں کے انسان جنھیں نمائش میں رکھا جاتا تھا) درمیان علیحدگی اور عدم مساوات کے تصور کو تقویت دینے کے لیے رکاوٹیں تھیں۔
یہ نسلی نمائش دوسری عالمی جنگ کے بعد ختم ہو گئی۔ دلچسپ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایڈولف ہٹلر نے سب سے پہلے ان پر پابندی لگائی تھی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسرے معاملات میں ان پر پابندی لگانا بھی ضروری نہیں تھا: ایسے میلے اخلاقی احساسات بہتر ہونے کی وجہ سے ختم نہیں ہوئے بلکہ اس وجہ سے ختم ہوئے کہ تفریح کی نئی شکلیں نمودار ہوئیں۔
نوآبادیوں کے انسانوں کو تماشے کے لیے پنجروں میں دکھانے والا آخری چڑیا گھر بیلجیم میں تھا جو 50 کی دہائی میں بند ہوا۔

،تصویر کا ذریعہRMCA Tervuren
1897 کے موسم گرما میں بیلجیئم کے بادشاہ لیوپولڈدوئم نے برسلز کے مشرق میں واقع اپنے نوآبادیاتی محل میں نمائش کے لیے 267 کانگو کے باشندوں کو درآمد کیا تھا۔
بہت سے لوگ سردیوں میں مر گئے لیکن اتنی مقبولیت تھی کہ بعد میں اس جگہ پر ایک مستقل نمائش قائم کی گئی۔
1958 برسلز انٹرنیشنل اور یونیورسل نمائش کے لیے جنگ کے بعد کی سماجی، ثقافتی اور تکنیکی ترقی کے 200 روزہ جشن کے لیے، ایک 'عام' گاؤں قائم کیا گیا تھا جہاں تماشائیوں نے اکثر کانگو کے باشندوں کو ان کے قدرتی ماحول میں دیکھا تھا۔
اس وقت ایک صحافی نے لکھا، 'اگر انہوں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تو بانس کی باڑ سے ان پر سکے یا کیلے پھینکے گئے۔‘
کانگو کے لوگ ان حالات سے تنگ آ گئے جن میں اُنھیں رکھا گیا تھا اور عوام کی طرف سے بدسلوکی کی گئی تھی، اس لیے انسانی چڑیا گھر کو بند کر دیا گیا۔
بیلجیئم کا یہ انسانی چڑیا گھر تاریخ میں بند ہونے والا آخری چڑیا گھر تھا۔
اس انسانی چڑیا گھر کو تقریباً ڈیڑھ ارب لوگوں نے دیکھا تھا۔
اور ان انسانی چڑیا گھروں نے جدید نسل پرستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔










