آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’بچوں پر نہیں چھوڑ سکتے‘: ویسٹ انڈیز سے شکست پر انڈین شائقین کو کوہلی اور روہت کیوں یاد آ رہے ہیں؟
ویسٹ انڈیز کی بظاہر کمزور نظر آنے والی ٹیم نے انڈیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں چھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔
اس جیت کے ساتھ ہی ویسٹ انڈیز نے تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر لی ہے۔
ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا اور انڈیا کی ٹیم کا اغاز بہتر تھا لیکن پھر وکٹوں کی جھڑی لگ گئی۔
پہلی وکٹ 90 کے سکور پر گری اور پھر 113 پر پانچ وکٹیں گر چکی تھیں۔
اس کے بعد انڈین ٹیم نے کسی طرح 40.5 اوورز میں 181 رنز سکور کیے جو مخالف ٹیم نے باآسانی 36.4 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیے۔
انڈیا کی جانب سے اوپنر ایشان کشن نے سب سے زیادہ 55 رنز بنائے جبکہ دوسرے اوپنر شبمن گل نے 34 رنز بنائے۔ پانچویں نمبر پر آنے والے سوریہ کمار یادیو نے 24 رنز بنائے۔
ان تینوں کے علاوہ کوئی بھی انڈین کھلاڑی 20 کا ہندسہ عبور نہیں کر سکا۔ اسی دوران ویسٹ انڈیز کے شائی ہوپ نے کپتانی والی اننگز کھیلتے ہوئے ناقابلِ شکست 63 رنز بنائے جبکہ کارٹی نے ناقابل شکست 48 رنز بنائے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے روماریو شیفرڈ اور گوڈاکیش موتی نے تین تین وکٹیں لے کر میچ کا رخ موڑ دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کی جانب سے شاردل ٹھاکر نے تین وکٹیں لیں جبکہ پہلے میچ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کلدیپ یادو کو ایک ہی وکٹ مل سکی۔
سوشل میڈیا پر شور
سوشل میڈیا پر جہاں میچ پر تبصرے ہو رہے ہیں وہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے بغیر انڈین بیٹنگ کچھ نہیں ہے۔
ارنو سنگھ نامی صارف نے لکھا کہ ’ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں آج انڈیا کی شکست تاریخی ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہو گا کہ انڈین کرکٹ ٹیم (مردوں کی) ایک ایسی ٹیم سے میچ ہاری ہے جو ٹیم آنے والے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کر سکی۔‘
شیلیندر مشرا نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ہم چاہے روہت اور کوہلی کو جتنا ٹرول کر لیں لیکن نوجوان کھلاڑیوں میں ہمیں ایسا کوئی نظر نہیں آتا جو ان گیرٹسٹ آف آل ٹائم کے ریٹائرمنٹ کے بعد انڈین ٹیم کو 10-12 سال تک لے کر چل سکے۔‘
ایک صارف نے پاکستان کے ایک مداح کی آئیکونک مایوسی والی تصویر ڈال کر لکھا کہ ’جب ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ حال ہے تو ایشیا کپ اور ورلڈ کپ میں کیا ہو گا۔‘
بہت سے لوگ شبھمن گل کی جگہ رتوراج گائکواڈ کو ٹیم میں لیے جانے کی دلیل دے رہے ہیں تو بہت سے لوگ سنجو سیمسن کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کے ایل راہل اور سریش ایير کو یاد کر رہے ہیں۔
کچھ لوگ وراٹ کوہلی کو آرام دیے جانے پر ٹیم مینجمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو کچھ لوگ وراٹ کوہلی کے میدان میں پانی لے جانے پر تبصرے کر رہے ہیں کہ دنیا کا سب سے مہنگا کھلاڑی ڈرنکس لے جا رہا ہے۔
فرید خان نامی صارف نے لکھا کہ ’25 ہزار انٹرنیشنل رنز اور 76 انٹرنیشنل سنچریز لگانے والے وراٹ کوہلی دوسرے ون ڈے میں اپنی ٹیم کے لیے ڈرنکس لے جا رہے ہیں۔ کوئی کتنا بے غرض ہو سکتا ہے؟ اگر یہ کوئی سابق پاکستانی کپتان ہوتا تو ہمارے صحافیوں نے اس کا مسئلہ بنا دیا ہوتا۔‘
ایک صارف نے شاہ رخ اور سلمان خان کی تصویر ڈال کر انھیں روہت اور کوہلی لکھا ہے اور اس کے ساتھ لکھا ہے کہ ’بچوں پر نہیں چھوڑ سکتے۔‘
بہر حال بہت سے لوگ وکٹ کیپر بیٹسمین ایشان کشن کی تعریف کر رہے ہیں جنھوں دونوں میچز میں نصف سنچری سکور کی ہے جبکہ کچھ لوگ راہل دڑاوڈ کے تجربات کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
سیریز کا تیسرا اور فیصلہ کن میچ منگل کو ٹرینیڈاڈ میں کھیلا جائے گا۔