انٹیگوا: آتش فشاں تلے آباد پررونق شہر جو تباہی کے بعد سیاحوں کا مرکز بنا

،تصویر کا ذریعہBella Falk
- مصنف, بیلا فلک
- عہدہ, بی بی سی نیوز
ویسٹ انڈیز کے جزیرے گوئٹے مالا کا انٹیگوا شہر تاریخی اہمیت کا حامل ہے، جو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست کا حصہ بھی ہے۔ اس شہر کو ملک میں ’کراؤن‘ جیسی حیثیت حاصل ہے۔
انٹیگوا ایک چھوٹی، محفوظ اور بہت دلکش بستی ہے۔ اس کی گلیاں دل کو موہ لینے والی ہیں۔
اس شہر میں قوس قزح نے نوآبادیاتی دور کی عمارتوں پر جیسے اپنے رنگ بکھیرے ہوئے ہیں۔ یہاں عظیم الشان تاریخی گرجا گھروں اور کانونٹ جیسے تعلیمی ادارے ہیں اور جگہ جگہ کیفے اور ریستوران اس شہر کے نظارے کو جیسے چار چاند لگا دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBella Falk
انٹیگوا کی خاص بات ’کینیری۔زرد مائل رنگ کا ’سانتا کاتالینا آرچ‘ ہے، جسے 17ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔
یہ سانتا کاتالینا اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں سے راہباؤں کا گزر کانونٹ سے نکل کر دوسری طرف سکول تک پردے میں ہو سکے۔
آج یہ فن تعمیر ملک میں سب سے زیادہ تصاویر لیے جانے والی یادگار اور گوئٹے مالا کی ایک علامت بن چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ Bella Falk
انٹیگوا کا سینٹرل پارک، شہر کے دھڑکتے دل کی مانند ہے۔ چاروں اطراف سے خوبصورت تعمیرات اور 18ویں صدی کی عمارتوں سے گھرا ہوا ہے، یہ ایک زندہ دلان کا ’سکوائر‘ ہے جہاں مقامی لوگ دوستوں سے ملنے اور آرام کرنے آتے ہیں۔
یہاں آپ کو گوئٹے مالا کی ثقافتوں کے حسین امتزاج کا واضح احساس ملتا ہے۔ یہاں روایتی لباس میں دیسی مایا تہذیب کی روایتی خواتین، یورپی نسل کے لباس پہنے گوئٹے مالا اور دنیا بھر سے آنے والی خواتین کے ساتھ بیٹھی نظر آتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBella Falk
18ویں صدی تک انٹیگوا، جو اُس وقت ’سینٹیاگو‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، گوئٹے مالا کا دارالحکومت اور ہسپانوی سلطنت کے عظیم ترین شہروں میں سے ایک تھا۔
لیکن یہ شہر چار آتش فشاں کے آس پاس ایک فعال ’ٹیکٹونک زون‘ پلیٹوں پر واقع ہے، جنھیں بالترتیب اگوا، فیوگو، ایکاٹینانگو اور پیکایا کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔
سنہ 1773 میں یہ شہر زلزلوں کے ایک بڑے سلسلے سے تباہ ہو گیا تھا، جس کے بعد حکومت نے دارالحکومت کو اس کے موجودہ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اور شہر لا اینٹیگوا گوئٹے مالا یعنی پرانا گوئٹے مالا کے نام سے مشہور ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہBella Falk
سب سے زیادہ متاثر ہونے والی عمارتوں میں سے ایک شاندار چرچ کی عمارت تھی۔ سنہ 1545 میں تعمیر کیا گیا۔ زلزلے سے تباہ ہونے سے قبل یہ چرچ 200 سال سے زائد عرصے تک قائم و دائم رہا۔
آج اس چرچ کی چھت ہر طرح چرند و پرند کے لیے کھلی ہے۔ یہاں منہدم ستونوں کی باقیات اب ڈھیر میں بدل چکی ہیں جہاں کبوتر اب گھونسلے بنائے بیٹھے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ Bella Falk
اب انٹیگوا کے دشمن اس کے دوست بن چکے ہیں: وہی آتش فشاں جنھوں نے اتنا نقصان پہنچایا، وہ اب یہاں سیاحوں کی آمد کا ذریعہ بن گئے ہیں۔
ستاروں کی توجہ کا مرکز 3,768 میٹر اونچا ’وولکن دی فیوگو‘ (آگ سے بھرا آتش فشاں) ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ فعال آتش فشاں میں سے ایک ہے۔
یہ آتش فشاں سنہ 2002 سے مسلسل پھٹ رہا ہے اور ہر 15-30 منٹ میں ہوا میں اس لاوا بموں کی طرح پھٹتا ہے اور راکھ بادل کی صورت فضا میں پھیل جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہBella Falk
وہ سیاح جو زمین کی نہ روکی جا سکنے والی طاقت کا پہلے ہاتھ سے مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں وہ ’وولکن ایکٹینانگو‘ کا رخ کر سکتے ہیں اور اس پر ’ہائیکنگ‘ کر سکتے ہیں۔ یہ فیوگو کے بالکل قریب ہی واقع ہے۔
یہاں پر مقامی ٹور کمپنیاں رات بھر کے لیے ’کیمپنگ‘ کی پیشکش کرتی ہیں۔ ایسے میں اب آپ خود رات گئے تک جاگ کر اپنی آنکھوں سے فیوگو کو پھٹتا ہوا اور آسمان تک اس کے شعلوں کا نظارہ دیکھ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBella Falk
ایسی ہی تباہی کےمناظر کے لیے سیاحوں کی توجہ کا ایک مرکز ’پیکایا‘ آتش فشاں ہے، جو اینٹیگوا سے تقریباً 50 کلومیٹر دور واقع ہے۔
سنہ 2021 تک یہ بھی کثرت سے پھٹتا تھا اور اس لاوا ڈھلوانوں سے نیچے گرتا تھا۔ مگر اب یہ مزید پھٹنا بند ہو گیا ہے۔ اور روبی سانتاماریا جیسی گائیڈز آنے والوں کو تازہ سوکھے ہوئے لاوے کے میدان میں لے جاتی ہیں، جہاں وہ انھیں یہ دکھاتی ہیں کہ آتش فشاں کی گرمی کا استعمال کرتے ہوئے مارشمیلو کو کیسے ٹوسٹ کیا جا سکتا ہے۔











