دنیا کی پانچ امیر شخصیات میں شامل گوتم اڈانی، جو مصیبت اور موت کو چکمہ دینے کا ہنر بھی جانتے ہیں

گوتم اڈانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بہت عرصہ پہلے تک دنیا کے پانچ سب سے امیر افراد کی فہرست میں شامل تمام شخصیات سفید فام تھیں اور ان کا تعلق امریکہ یا کسی یورپی ملک سے تھا، لیکن کچھ ہی ہفتے پہلے یہ بدل گیا۔

فوربز میگزین اور بلومبرگ کے مطابق انڈیا کی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی نے دنیا کے پانچ امیر افراد کی اس فہرست میں مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کو چوتھی پوزیشن سے ہٹا دیا ہے اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ بینکر وارن بفیٹ کو اس فہرست سے نکال باہر کیا ہے۔

اس فہرست میں شامل ہونے میں گوتم اڈانی کی برسوں میں کمائی دولت اور خاص کر گذشتہ 12 ماہ میں اس دولت میں اضافے نے اہم کردار کیا ہے۔

تازہ اعدادوشمار کے مطابق اڈانی کی کمپنیوں اور جائیداد کی مالیت 125 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، اور یہ جنوبی امریکہ کے ملک یوراگوائے کے جی ڈی پی سے بھی دگنا ہے۔

واضح رہے کہ صرف گذشتہ ایک برس کے دوران ہی گوتم اڈوانی کی دولت میں 48.7 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد وہ ایشیا کے سب سے امیر شخص بن گئے تھے۔

دوسری جانب امیر افراد کی فہرست میں شامل دیگر شخصیات (ایلون مسک، ٹیسلا کے بانی اور ٹوئٹر کے نئے مالک، لوئس ووٹن کے مالک برنارڈ ارنولٹ، ایمیزون کے بانی جیف بیزوس اور بل گیٹس) کو کافی نقصان پہنچا ہے اور اس کی ایک وجہ روس یوکرین کے بعد عالمی مارکیٹ کی صورتحال کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

گوتم اڈانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گوتم اڈانی کون ہیں؟

آپ کو یہ جان کی حیرت ہو گی کہ اڈوانی کو یہ دولت وراثت میں نہیں ملی۔ وہ جون سنہ 1962 میں انڈین ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ٹیکسٹائل کے شعبے میں ایک چھوٹے سے تاجر تھے۔

میڈیا میں گوتم اڈانی کی زندگی پر شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق انھوں نے سنہ 1978 میں کالج کی پڑھائی ادھوری چھوڑ دی تھی۔ اس وقت انھوں نے پڑھائی چھوڑ کر ممبئی کے ہیرا بازار کا رُخ کیا تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گوتم اڈانی کی قسمت کی کہانی نے اس وقت پلٹا کھایا جب ان کے بھائی نے انھیں انڈیا کے شہر احمد آباد بلایا۔ ان کے بھائی نے اس وقت ایک پلاسٹک ریپنگ کمپنی خریدی تھی جو چل نہیں پا رہی تھی۔ کمپنی کو جو خام مال درکار تھا وہ ناکافی تھا۔

اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گوتم اڈانی نے کانڈلا پورٹ پر پلاسٹک گرینوئلز کی درآمد شروع کر دی۔ سنہ 1988 میں اڈانی انٹرپرائز لمیٹڈ بن گئی جو دھاتوں، زرعی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی ٹریڈنگ کرتی تھی۔ چند ہی سال میں اس کاروبار میں اڈانی ایک بڑا نام بن گیا۔

سنہ 1994 میں اڈانی کمپنی کا سٹاک نیشنل سٹاک ایکسچینج اور بمبئی سٹاک ایکسچینج پر درج ہوا تو اس وقت اس کے ایک شیئر کی قیمت ڈیڑھ سو روپے تھی لیکن ابھی تو صرف شروعات تھی۔

سنہ 1995 میں اڈانی گروپ نے ریاست گجرات کے ساحل پر مندرا پورٹ پر کام شروع کیا۔ تقریباً 20 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی یہ پورٹ آج انڈیا کی سب سے بڑی نجی بندرگاہ ہے جو اڈانی گروپ کی ملکیت ہے۔

اس پورٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈیا میں سامان کا ایک چوتھائی حصہ اسی بندرگاہ سے گزرتا ہے۔ آج انڈیا کی سات ریاستوں (گجرات، مہاراشٹرا، گوا، کیرالا، آندھرا پردیش، تامل ناڈو اور اوڈیسہ) میں 13 بندرگاہوں پر اڈانی گروپ موجود ہے۔

مندرا پورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مصیبت سے ہمیشہ بچ نکلنے والے

لیکن اتنی دولت اور کامیابی کی وجہ سے اڈانی جرائم پیشہ افراد کی نظروں میں بھی آئے اور سنہ 1997 میں انھیں اغوا کر لیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق انھیں کچھ ہی گھنٹوں بعد بازیاب کرا لیا گیا لیکن انھیں اپنی رہائی کے بدلے 15 لاکھ امریکی ڈالر اغوا کاروں کو دینے پڑے۔

اس واقعے کے کئی برس بعد نومبر 2008 میں اڈانی ممبئی کے مشہور اور پرتعیش تاج محل ہوٹل میں رہائش پذیر تھے، جب اس پر دہشتگردوں نے حملہ کیا۔

حملے کے وقت اڈانی اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہے تھے اور انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا کیونکہ وہ انڈین کمانڈرز کی آمد تک عمارت کے تہہ خانے میں چھپے رہے تھے۔

اس واقعے کے بعد اڈوانی نے کہا تھا کہ ’میں نے چار میٹر کے فاصلے پر موت کو دیکھا۔‘

تاج محل حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کوئلے کی کان

فارچون انڈیا میگزین کے مطابق سال 2010 میں، اڈانی نے آسٹریلیا کی لنک انرجی سے 12,147 کروڑ میں کوئلے کی ایک کان خریدی تھی۔ گیلی بیسٹ کوئین آئی لینڈ کی اس کان میں 7.8 ارب ٹن کے معدنی ذخائر ہیں جو ہر سال 60 ملین ٹن کوئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔

انڈونیشیا میں تیل، گیس اور کوئلہ جیسے قدرتی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے ان وسائل سے مناسب فائدہ اٹھانا ممکن نہیں تھا۔

سنہ 2010 میں اڈانی گروپ نے انڈونیشیا کے جنوبی سماٹرا سے کوئلے کی نقل و حمل کے لیے $1.5 ارب کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ اس کے لیے وہاں کی صوبائی حکومت کے ساتھ جنوبی سماٹرا میں تعمیر کیے جانے والے ریل منصوبے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

اس وقت انڈونیشیا کے سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ اڈانی گروپ 50 ملین ٹن کی صلاحیت کے ساتھ کول ہینڈلنگ پورٹ بنائے گا اور جنوبی سماٹرا جزیرے کی کوئلے کی کانوں سے کوئلہ نکالنے کے لیے 250 کلومیٹر لمبی ریل لائن بھی بچھائے گا۔

اڈانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اڈانی اور مودی کا تعلق

گوتم اڈانی کی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ قربت سنہ 2002 میں ظاہر ہوئی جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔

جب گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تو کاروباری ادارے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز (CII) سے وابستہ صنعت کاروں نے حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر مودی پر تنقید کی۔

اس وقت نریندر مودی گجرات کو سرمایہ کاروں کی پسندیدہ منزل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایسے میں گوتم اڈانی ان کی مدد کو آئے جنھوں نے گجرات کے دیگر صنعت کاروں کو مودی کے حق میں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے سی آئی آئی کے متوازی ایک اور ادارہ قائم کرنے کا بھی انتباہ دیا تھا۔

ایک سیاستدان اور بزنس مین کے درمیان تعلق اس وقت مزید ابھر کر سامنے آیا جب مارچ 2013 میں نریندر مودی کو امریکہ میں وارٹن سکول آف بزنس کے ایک پروگرام میں کلیدی مقرر کے طور پر مدعو کیا گیا لیکن اساتذہ اور طلبا کے احتجاج کے بعد یہ دعوت نامہ منسوخ کر دیا گیا۔

اس کے فوری بعد معلوم ہوا کہ اڈانی گروپ اس ایونٹ کا اہم سپانسر تھا جس نے مودی کو دیے جانے والے دعوت نامے کی منسوخی کے بعد اس تقریب کی مالی معاونت سے ہاتھ کھینچ لیا۔

سنہ 2019 میں اڈانی کو ملک کے چھ ایئرپورٹس کا انتظام سنبھالنے کا کنٹریکٹ دیا گیا، اس حقیقت کے باوجود کہ ان کا اس شعبے میں کوئی تجربہ نہیں تھا۔

آج اڈانی گروپ انڈیا کے شہر احمد آباد، لکھنؤ، منگلورو، جے پور، گوہاٹی اور ترواننت پورم کے چھ ہوائی اڈوں کی جدید کاری اور آپریشن کا ذمہ دار ہے۔ اڈانی گروپ 50 سال تک ان تمام چھ ہوائی اڈوں کو چلائے گا۔

یہی نہیں بلکہ گوتم اڈانی کی زیر قیادت اڈانی گروپ ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ میں 74 فیصد حصص رکھتا ہے جو دلی کے بعد انڈیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے۔

اڈانی مودی کی جماعت بھارتتہ جنتا پارٹی کو بہت بڑی سطح پر مالی مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔

لندن کے جریدے فنانشل ٹائمز کی نومبر سنہ 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق جب مودی سنہ 2014 میں وزیر اعظم بنے تو انھوں نے گجرات سے دہلی آنے کے لیے اڈانی کا ہی جہاز استعمال کیا۔

این ڈی ٹی وی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اب اڈانی میڈیا کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ اگست میں انھوں نے ملک کے بڑے نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے 26 فیصد شیئر خریدنے کے لیے بولی کا آغاز کیا ہے۔

انڈیا میں بہت سے لوگوں کے مطابق اڈانی کا یہ قدم بھی مودی کی حمایت میں اٹھایا گیا ہے تاکہ انھیں 2024 کے عام انتخابات میں سپورٹ کیا جا سکے۔

اڈانی کا انڈیا کی سیاست میں اثرو رسوخ ہی شاید وہ وجہ ہے کہ دنیا بھر میں روس یوکرین جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال نے انھیں متاثر نہیں کیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ موادی انتظامیہ نے مغرب کے دباؤ کے باوجود روس پر پابندیوں کی حمایت نہیں کی جس کے بدلے روس نے انڈیا کو نہ صرف اپنا تیل فروخت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی بلکہ خصوصی ڈسکاؤنٹ بھی دیا۔

اور اسی وجہ سے اڈانی ان چند ارب پتی شخصیات میں شامل ہیں، جن کی دولت میں گذشتہ کچھ ماہ کی صورتحال کے باوجود اضافہ ہی ہوا۔

اس سال اب تک، اڈانی گروپ کے انرجی ڈویژن، کے حصص کی قیمت میں 293 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔