باپ جس نے اپنی جان دے کر تین سالہ بیٹے کو ڈوبنے سے بچایا

باپ جس نے بیٹے کی جان بچانے میں اپنی جان گنوائی

،تصویر کا ذریعہKATIE MACDONALD

    • مصنف, پیٹر واکر بی بی سی نیوز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

انگلینڈ کے علاقے ویسٹ مرسی میں ساحل سمندر پر پکنک کے دوران ایک باپ نے اپنے بیٹے کو سمندر میں ڈوبنے سے بچاتے ہوئے اپنی جان کی بازی ہار دی۔

اپنے تین سالہ بیٹے کو ڈوبنے سے بچانے کی کوشش میں ڈیوڈ کول کی ساتھی (پارٹنر) اس واقعہ پر انتہائی غمزدہ اور دکھ کی کیفیت میں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 11 جون کو ان کے پارٹنر ڈیوڈ کول اور تین سال کا بیٹا لہروں کی ذد میں پھنس گئے تھے۔

30 سالہ ڈیوڈ نے اپنے بیٹے کے سر کو پانی سے اوپر رکھتے ہوئے یہ یقینی بنایا کہ ان کے بیٹے کو کوئی نقصان نہ پہنچے مگر اس کوشش کے دوران وہ خود کو نقصان سے محفوظ نہ رکھ سکے اور پھر کبھی ہوش میں نہ آ سکے۔

ڈیوڈ کول کی ساتھی کیٹی میکڈونلڈ صدمے سے گزرنے کے باوجود اب رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹیٹیوشن (RNLI) کے لیے عطیہ کی رقم جمع کر رہی ہیں۔

کیٹی میکڈونلڈ نے ریسکیو عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی امدادی کارروائیوں کو حیرت انگیز قرار دیا۔

اس حادثے کے وقت کیٹی میکڈونلڈ اپنے ایک سالہ بیٹے کے ساتھ ساحل پر بیٹھی تھیں۔

ڈّیوڈ کول

،تصویر کا ذریعہKATIE MACDONALD

’بے بسی کے وہ لمحات بہت مشکل تھے‘

برطانیہ کے ٹاون ہرٹ فورڈ شائر سے تعلق رکھنے والی کیٹی میکڈونلڈ نے اس حادثے کے وقت اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ سب بہت خوفناک تھا کہ آپ کے پیارے مشکل میں ہوں اور آپ ان کی مدد کرنے سے قاصر ہوں۔ بے بسی کے وہ لمحات بہت مشکل تھے۔‘

کیٹی کے مطابق ’لائف بوٹ عملے کے افراد میرے پارٹنر کی زندگی بچانے کی کوششوں اور پھر میرے تین سالہ بچے کی دیکھ بھال کے درمیان بہت مددگار رہے۔ اگر وہ مدد کے لیے نہ ہوتے تو میرا تین سالہ بیٹا ڈوب کر مر جاتا۔‘

اس حادثے کے فوری بعد جب تک رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹیٹیوشن کا عملہ مدد کو پہنچتا اس وقت تک ایک پیڈل بورڈر اور دو لائف گارڈ زنے ڈیوڈ کول اور ان کے بیٹے کی مدد کی کوششیں کیں۔

حادثے پر غمزدہ کیٹی میکڈونلڈ اپنے پارٹنر کی اچھائیوں کی معترف ہیں۔

لائف بوٹ کا عملہ

،تصویر کا ذریعہSTUART HOWELLS/BBC

’ڈیوڈ بہت حیرت انگیز شخصیت کے مالک اور بچوں کے لیے بہترین باپ تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ خود بھی بچے بن جاتے تھے اور چاہتے تھے کہ بچے خوش رہیں اور مزے کریں ۔ وہ بچوں کے لیے ہر چیز میں فن اور تفریح تلاش کرتے تھے۔‘

کیٹی نے ڈیوڈ کی محنت اور لگن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اپنی جاب اور کام میں انتھک محنت کرتے تھے تاکہ وہ ہمیں کسی چیز کی کمی نہ ہونے دیں اور ہمیں سب کچھ مہیا کر سکیں۔‘

انھوں نے ڈیوڈ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ صرف ایک ہیرو ہیں۔ ایسا ہیرو جس نے اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگا دی۔‘

سٹیشن کا رضاکار عملہ فنڈ ریزنگ پیج قائم کرنے پر شکر گزار

کیٹی میکڈونلڈ اس حادثے کے بعد اب سمندر اور ساحلی پٹی پر حادثات میں لوگوں کی مدد کرنے والے فلاحی ادارے ’رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹیٹیوشن‘ کے لیے عطیات جمع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور کے آن لائن پیج پر صرف چھ دن میں ہی ساڑھے تین ہزار پاؤنڈ سے ذیادہ کے عطیات موصول ہو چکے ہیں۔

ویسٹ مرسی کے رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹیٹیوشن کے ایک رضاکار رک بورہم نے کہا کہ اس مہم کے بارے میں عملہ ’ناقابل یقین حد تک شکر گزار‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’رضاکار عملہ فنڈ جمع کرنے والے پیج قائم کرنے پر انتہائی ممنون ہے۔ کیٹی کو کسی بھی وقت سٹیشن آنے کے لیے دل کی گہرائیوں سے مدعو کیا جاتا ہے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا۔‘