جب چین میں بغاوت کچلنے کے لیے انڈین فوجیوں کو استعمال کیا گیا

باکسر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچار اگست 1900 کو سکھ اور پنجاب رجمنٹ کے دستے چین کے علاقے تیانجن سے روانہ ہوئے تھے
    • مصنف, اوتار سنگھ
    • عہدہ, بی بی سی

چار اگست 1900 کو سکھ اور پنجاب رجمنٹ کے دستے چین کے علاقے تیانجن سے روانہ ہوئے۔ یہ آٹھ ممالک کے ایک بڑے اتحاد کا حصہ تھے جنھیں ایک محاصرے میں جکڑے علاقے میں مدد کے لیے بھیجا گیا تھا۔

درحقیقت اس وقت چین میں ’باکسر بغاوت‘ چل رہی تھی اور سلطنتِ برطانیہ نے چین میں گرجا گھروں اور عیسائی مشنریوں کی حفاظت کے لیے ہندوستان سے فوجی دستے وہاں بھیجے تھے۔

حال ہی میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کی چین کے شہر تیانجن میں ملاقات ہوئی جس کے بعد یہ شہر ایک بار پھر خبروں میں ہے۔

ٹھاکر گدادھر سنگھ نے بھی اس جنگ میں حصہ لیا تھا۔ وہ اپنی کتاب ’چائنا میں تیرہ مہینے‘ میں لکھتے ہیں کہ تین ہزار برطانوی فوجیوں کو بیجنگ کو آزاد کروانے کا حکم دیا گیا تھا۔

ان میں فرسٹ سکھ انفینٹری کے 500 سپاہی، ساتویں راجپوت بٹالین کے 500 سپاہی، 24ویں پنجاب بٹالین (انفینٹری) کے 250 سپاہی، فرسٹ بنگال لانسرز کے 400، رائل ویلش (ویلچ) فیوسیلیئرز وائٹ بٹالین کے 300 اور ہانک کانگ ہندوستانی بٹالین کے 100 سپاہی شامل تھے۔

’باقی فوجی اور گولہ بارود تیانجن اور دیگر مقامات پر کمک کے لیے چھوڑ دیے گئے تھے۔‘

باکسر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن'باکسر بغاوت' کو دنیا کی تاریخ کے ایک اہم واقعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے

’باکسر بغاوت‘ کیا تھی؟

’باکسر بغاوت‘ کو دنیا کی تاریخ کے ایک اہم واقعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ باکسر کہلائے جانے والے کسان باغی اپنے ملک میں عیسائی مشنریوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

ان کے خلاف برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، جاپان، امریکہ، اٹلی اور آسٹرین ہنگری پر مشتمل آٹھ ممالک کے اتحاد نے چین میں فوج بھیجی۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 1899 اور 1901 کے درمیان شمالی چین میں ’باکسر بغاوت‘ کا مقصد چین کی چنگ حکومت میں ہونے والی اصلاحات کو روکنا، غیر ملکیوں کو نکالنا اور روایتی حکمرانی کو دوبارہ قائم کرنا تھا۔

تاہم غیر ملکی مداخلت کے باعث یہ بغاوت ناکام رہی۔ اس کے بعد مغربی طاقتوں، روس اور جاپان نے کمزور ہوتی چنگ حکومت سے مزید مراعات اور فوائد حاصل کیے۔

باکسر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگدادھر سنگھ کے مطابق وہ 7ویں راجپوت بٹالین کا حصہ تھے جو کہ چین پہنچنے والی پہلے ہندوستانی سپاہ تھی

شمالی چین میں کسان باغی اپنے آپ کو ’باکسر‘ کہتے تھے۔ وہ عیسائی مشنریوں اور پیروکاروں کی موت کا مطالبہ کرتے تھے اور ان کے پیروکاروں کو چین کا غدار سمجھتے تھے۔

ابتدائی طور پر چینی عدلیہ نے ان کی حمایت کی جس کے باعث بہت سے چینی عیسائیوں کو قتل کیا گیا۔ بعد ازاں بغاوت پر قابو پا لیا گیا۔

گدادھر سنگھ کے مطابق وہ 7ویں راجپوت بٹالین کا حصہ تھے جو کہ چین پہنچنے والی پہلے ہندوستانی سپاہ تھی۔ ’اس لیے ہمارا بہت گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔‘

وہ اس زمانے کے حالات کے بارے میں لکھتے ہیں ’تیانجن شمالی چین میں واقع ایک بڑا اور خوشحال شہر تھا۔ یہ ایک شہر تو ہے لیکن یہاں لوگ نہیں! گھر تو ہیں لیکن مکین نہیں! لاشیں ہیں لیکن زندگی نہیں! اور کچھ بھی نہیں!‘

وہ مزید لکھتے ہیں ’تیانجن میں تقریباً 800 غیر ملکی مارے گئے! جس امریکی سے میری بات ہوئی وہ جاپانیوں کی بہت تعریف کر رہا تھا۔‘

وہ اصرار کرتے ہیں کہ تیانجن پہنچنا اور اس کو فتح کرنا جاپانیوں کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ورنہ یہ مشن ناممکن تھا۔

سکھ سپاہیوں کی بہادری

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

برطانوی سول سروس کے ایک ریٹائرڈ ممبر گورمکھ سنگھ اپنی کتاب ’اینگلو سکھ ریلیشنز اینڈ دی ورلڈ وارز‘ میں لکھتے ہیں کہ بغاوت کو کچلنے کے بعد ہندوستانی فوج کو وہاں پر امن قائم رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا۔

گورمکھ سنگھ لکھتے ہیں 13 جون 1904 کو 47ویں سکھ رجمنٹ کو اتحادی افواج کے تحت شمالی چین میں باکسر بغاوت کے بعد امن و امان کی بحالی کے لیے تعیناتی کا حکم دیا گیا۔

’یہ رجمنٹ مئی 1905 کے آغاز سے اپریل 1908 تک تین سال تک چین کے شہروں تیانجن اور لیوتائے میں تعینات رہی۔ انھوں نے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بہت بہادری سے کام کیا۔‘

گرومکھ سنگھ لکھتے ہیں کہ شمالی چائنا فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ڈبلیو ایچ والٹرز ان کی کارکردگی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے جاتے جاتے کہا: ’آپ مہاراجہ کی فوج میں شامل کسی یونٹ سے کم نہیں ہیں۔‘

ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ جرمن فیلڈ مارشل وان والڈرسی نے شنگھائی میں سکھوں کی پریڈ کا معائنہ کیا اور ان کی جسمانی ساخت اور فوجی صلاحیتوں کی بے حد تعریف کی۔

لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ صرف چھ سال بعد یہی 47 ویں سکھ رجمنٹ فرانس میں ان کے بہترین جرمن فوجیوں کو شکست دے گی۔

عسکری تاریخ دان مندیپ سنگھ باجوہ کا کہنا ہے کہ سکھ فوج کے افسران فوج کی تربیت اور ہتھیاروں کا خاص خیال رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اس لڑائی کے دوران بھی وہ غالب رہے۔

وہ کہتے ہیں ’سکھ فوجیوں کی قائدانہ صلاحیتیں بہت بہتر تھیں۔ پنجابی سپاہیوں میں سکھ، مسلمان اور پٹھان شامل تھے۔ برِصغیر کی تقسیم کے بعد ان فوجیوں کا ایک بڑا حصہ پاکستان چلا گیا۔‘

باکسر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعسکری تاریخ دان مندیپ سنگھ باجوہ کا کہنا ہے کہ سکھ فوج کے افسران فوج کی تربیت اور ہتھیاروں کا خاص خیال رکھتے تھے

باکسرز کے لیے عوامی حمایت

اس وقت چین ایک آزاد ملک تھا اور باکسرز کو اس جنگ میں عوامی حمایت حاصل تھی۔

مندیپ باجوہ کہتے ہیں ’بغاوت وہ ہوتی ہے جو اپنے ہی ملک میں حکومت کے خلاف اٹھتی ہے، لیکن باکسرز اپنے ہی ملک میں جنگ لڑ رہے تھے۔ وہ اپنے ملک سے غیر ملکی اثر و رسوخ کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ وہ تجارت پر قائم غیر ملکی کنٹرول کو ختم کرنے کے لیے جنگ لڑ رہے تھے، لیکن آٹھ ممالک نے مل کر اس انقلاب کو دبا دیا۔‘