ایران کے وہ ننھے سپاہی جنھیں میدان جنگ بھیجا گیا: ’میرے جسم میں آج بھی مارٹر گولے کے 25 ٹکڑے ہیں‘

مسعود کی ایک پرانی تصویر جس میں انھیں بارودی سرنگ ناکارہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMasoud Hashemi

،تصویر کا کیپشنمسعود کو ایک ایسے یونٹ میں تعینات کیا گیا جو بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام کرتا تھا

انتباہ: اس تحریر کے کچھ حصے قارئین کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔

مسعود ہاشمی بتاتے ہیں کہ انھیں ایک بوٹ دِکھا جس میں ’کسی کا آدھا (کٹا) پاؤں تھا۔ یہ بہت خوفناک منظر تھا۔‘

مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی عمر محض 14 برس تھی جب انھیں عراق-ایران جنگ کے دوران اگلے محاذ بھیج دیا گیا۔ اور جلد ہی انھوں نے پہلی بار کسی انسانی جسم کی ٹکڑے دیکھے۔ یہ ان کے ایک ساتھی سپاہی کی باقیات تھیں۔

اب وہ 56 سال کے ہیں۔ مسعود ان لاتعداد بچوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی نو عمری کے کئی سال ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی آٹھ سالہ جنگ میں لڑتے گزارے۔

ایرانی حکام کے مطابق سکول جانے کی عمر کے سینکڑوں بچوں کو میدانِ جنگ میں تعینات کیا گیا تھا۔

رضا شکرالہی کہتے ہیں کہ وہ محض 11 سال کے تھے جب انھیں ایک ایسی جنگ میں جانا پڑا جس نے ان کے جسم میں شارپنل کے 25 ٹکڑوں کی نشانی چھوڑ دی۔

مہدی طلعتی کو آج بھی یاد ہے کہ 15 برس کی عمر میں تعینات کیے جانے کے بعد انھوں نے اپنے کئی ساتھیوں کو اپنے ہاتھوں سے دفنایا تھا۔

تقریباً چار دہائیوں بعد ان تینوں نے بی بی سی فارسی کی ایک دستاویزی فلم میں اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔

Reza looking at the camera. He has curly grey-black hair and is wearing thick black glasses and a dark green t-shirt. The background is blurred.
،تصویر کا کیپشنرضا کہتے ہیں کہ 38 سال گزر جانے کے باوجود آج بھی وہ خود کو جنگ کے ان لمحات میں الجھا ہوا پاتے ہیں

ستمبر 1980 میں اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اس جنگ کی وجہ دونوں ملکوں میں پائے جانے والے سیاسی اور سرحدی تنازعات تھے۔

عراقی صدر کو امید تھی کہ وہ باآسانی ایران کو شکست دے دیں گے لیکن انھیں ایرانی افواج کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ایرانی فورسز اپنے نئے انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے لیے شدید مذہبی عقیدت رکھتی تھیں۔

2023 میں دیے گئے انٹرویو میں تینوں سابق فوجیوں نے بتایا کہ لوگ کیسے بہادری اور شہادت کے کلچر کا حصہ بنے۔

Reza, aged about 11, sitting on the back of a motorcycle with his father driving. He is holding a large gun, pointing it upwards. Both are wearing white shirts. There is a tree, two parked trucks and a building in the background.

،تصویر کا ذریعہReza Shokrollahi

،تصویر کا کیپشنرضا کا کہنا ہے کہ وہ 11 سال کی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ جنگ میں حصہ لینے گئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں آیت اللہ خمینی نے 13 سالہ حسین فہمید کی بہت تعریف کی جو ایک عراقی ٹینک کو تباہ کرنے کی غرض سے گرینیڈ لے کر اس کے نیچے لیٹ گئے تھے۔

رضا کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ہم عصر فہمیدہ کے پوسٹرز اور نعروں سے بہت متاثر تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ ٹی وی پر بچوں کے محاذِ جنگ پر جانے کی خبریں دیکھ کر خود بھی محاذ پر جانے کے لیے کافی بے تاب تھے۔

انھیں یاد ہے کہ ان کے والد نے فیصلہ کیا کہ وہ دونوں ایک ساتھ محاذ پر جائیں گے۔

انھیں آج بھی یاد ہے کہ لوگ ان کے اور ان کی کلاشنکوف کے ساتھ تصاویر لینے کی فرمائش کرتے تھے۔

اس وقت انھیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ کوئی ہیرو ہوں۔ لیکن اب انھیں احساس ہوتا ہے کہ یہ کتنی بڑی غلطی تھی۔

1979 کے انقلاب سے قبل ایران نے جنیوا کنونشن کے ایک پروٹوکول پر دستخط جس کے تحت 15 سال سے کم عمر افراد کو فوج میں بھرتی نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم ان تینوں افراد کے مطابق ایران میں اس پر علمدرآمد نہیں کیا جاتا تھا۔

ایران نے آج بھی اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

Masoud looking at the camera in front of a blurred background. He is wearing rectangular shaped glasses, has short, dark hair and a stubbly grey beard. He is wearing a light green shirt.
،تصویر کا کیپشنمسعود کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں نے انھیں کافی نقصان پہنچایا

بی بی سی کی دستاویزی فلم میں 12 سے 13 سال کے بچوں کے انٹرویو بھی شامل ہیں جو آج سے پہلے سامنے نہیں آئے تھے۔ ان انٹرویوز میں بچوں کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ جنگ میں لڑ رہے ہیں۔

مسعود اب جرمنی میں ایک ریستوران چلاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جنگ پر جانے کے لیے انھوں نے اپنے برتھ سرٹیفیکٹ میں رد و بدل کی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ایک ٹریفک افسر نے انھیں محاذ پر جانے والی بس سے اتار دیا تھا۔ تاہم اس کے دو ہفتے بعد وہ ایک اور بس کی سیٹ کے نیچے چھپ کر محاذِ جنگ پر جانے میں کامیاب ہو گئے۔

انھیں جس یونٹ میں تعینات کیا گیا وہ بارودی سرنگیں ناکارہ بناتا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ پہلی مرتبہ بارودی سرنگوں والے علاقے میں داخل ہوئے تو ان کی عمر محض 15 سال تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کے یونٹ کے 60 فیصد ارکان نو عمر تھے۔

مسعود کے مطابق اس یونٹ میں کام کرنے کے لیے جان بوجھ کر نو عمر نوجوانوں کا انتخاب کیا جاتا تھا کیونکہ وہ پھرتیلے اور ہلکے پھلکے ہوتے تھے۔ 'یہ بہت خطرناک کام تھا۔۔۔ کم عمر بچے اس بارے میں زیادہ نہیں سوچتے۔'

مسعود کے بھائی 15 سال کی عمر میں فوج میں کام کرتے ہوئے مارے گئے تھے۔

اس کے ایک سال بعد ان کے والد دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔ مسعود کو لگتا ہے کہ شاید ان کے والد 'یہ غم برداشت نہیں کر پائے تھے۔'

Artwork featuring Hossein Fahmideh. He is depicted on the left-hand side of the artwork, with black hair and a light green shirt. Three tanks are depicted next to him.
،تصویر کا کیپشنجنگ کے ابتدائی دنوں میں آیت اللہ خمینی نے 13 سالہ حسین فہمید کی بہت تعریف کی جو ایک عراقی ٹینک کو تباہ کرنے کی غرض سے گرینیڈ لے کر اس کے نیچے لیٹ گئے تھے

مہدی کو 15 برس کی عمر میں محاذ پر تعینات کر دیا تھا۔ وہ بسیج نامی ایک رضاکار مسلح تنظیم میں شامل تھے جو اسلامی انقلاب کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی۔

اب مہدی مشرق وسطیٰ کے امور کے محقق ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ محاذ پر ان کے ساتھ ان کی کلاس کے سات، آٹھ دیگر لڑکے بھی تھے لیکن ان میں سے صرف ایک زندہ واپس آیا۔

ان کے مطابق اگلے محاذوں پر لڑنے والے بیشتر افراد کو ایک 'ہالی وڈ' جیسی فلمی جنگ کی امید تھی۔ لیکن پہلے ہی آپریشن میں ان کے تمام خواب چکنا چوڑ ہو گئے۔

جب ان کے سامنے پہلی مرتبہ مارٹر گولہ پھٹا تو اس کے نتیجے میں ان کا ساتھی سپاہی مارا گیا تھا۔ 'اس کے سر پر شارپنل لگا – وہ وہیں موقع پر ہی مرا گیا۔'

Black and white photo showing a tank with black smoke and dust clouds around it and figures silhouetted. The ground looks sandy with vehicle tracks marked on it.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعراقی ٹینک
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

رضا کی عمر اب 52 سال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی عمر کے کئی بچے اس جنگ میں لڑ رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے ’ہم نے ایک ایسی لکیر عبور کر لی جو ہمیں نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن یہ لکیر عبور کرنے کے بعد ہم بچے نہیں رہے تھے۔'

وہ بتاتے ہیں کہ ایک بار ان کے ایک دوست، جن کے گھر والے اس جنگ کے خلاف تھے، نے ان کے ساتھ محاذ پر جانے کی ضد کی۔

رضا کو آج بھی یاد ہے کہ انھوں نے اپنے دوست سے کہا کہ اس کے لیے انھیں ایک دفتر میں جانا پڑے گا۔

'اس نے مجھ سے کہا کہ دفتر والے کسی کا حوالہ مانگیں گے۔'

رضا کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے دوست سے کہا کہ اگر ایسا ہو تو وہ ان کا حوالہ دے دیں۔

انھوں نے بتایا کہ 'ایک رات وہ محاذ پر گیا اور واپس نہیں لوٹا، اسے سیدھی گولی لگی تھی۔'

اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جب انھوں نے اپنے دوست کے جنازے میں شرکت کی کوشش کی تو اس کی فیملی ان کی منتظر تھی اور وہ انھیں برا بھلا کہنے لگے۔ ’انھوں نے مجھے وہاں سے نکال دیا۔‘

ان کے چہرے پر شارپنل کے زخم کا نشان ہے۔ رضا نے بتایا کہ اس کے علاوہ ایک مرتبہ ان کے برابر میں مارٹر گولہ پھٹا جس سے ان کے چہرے، ہاتھوں، سر، سینے اور ٹانگ پر زخم آئے۔ آج بھی اس ماٹر گولے کے کئی ٹکڑے ان کے جسم میں پیوست ہیں۔

Screenshot of archive footage showing a young boy with dark hair and sunglasses being interviewed.
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کی دستاویزی فلم میں استعمال کی گئی اس دور کی فوٹیج میں ایک 12 سالہ بچے کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ایک سال سے زائد عرصے سے محاذ پر لڑ رہا ہے

1988 میں آیت اللہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی پر راضی ہوگئے اور اس طرح نوعمر سپاہیوں کا محاذ پر جانا بند ہوا۔

ایران کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں دو لاکھ ایرانی مارے گئے تھے جس میں ایک قلیل تعداد شہریوں کی تھی۔

ایسے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ مرنے والوں کی عمریں کیا تھیں یا کس عمر کے افراد زیادہ ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے لگائے گئے اندازے کے مطابق مرنے والوں میں سے ایک چوتھائی سکول جانے کے عمر کے نو عمر افراد تھے۔

سرکاری اعداد وشمار میں 1979 س اب تک 11 سے 15 سال کے آٹھ ہزار بچے 'شہید' ہوئے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ ان میں سے بیشتر ایران عراق جنگ میں مارے گئے تھے۔

ایران کا اب بھی کہنا کم عمر بچوں کو محاذِ جنگ پر بھیجنا ان کی پالیسی میں شامل نہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ بچے رضاکارانہ طور پر اپنے ملک اور مذہب کی حفاظت کے لیے میدانِ جنگ میں گئے تھے۔

عراق کو بھی اس جنگ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایسے شواہد ملتے ہیں کہ عراق نے بھی کچھ کم عمر بچوں کو بطور فوجی استعمال کیا تھا۔ تاہم ان کی صحیح تعداد اندازہ نہیں۔

Black and white photo showing Iranian soldiers, one wearing a helmet, in a street looking at damaged single-storey buildings. There is rubble on the road in the foreground.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جنگ سے واپس آنے والے سپاہیوں کو نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رضا کو معلوم پڑا کہ ان کے سکول کے کچھ دوست یونیورسٹی کے داخلہ امتحان کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ انجینیئر اور ڈاکٹر بننے جا رہے تھے۔

'ان کی زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی، لیکن ہماری زندگیاں تھم سی گئی تھیں۔'

رضا اب صحافی ہیں اور اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ پراگ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی مشکلات میں گزاری اور انھیں مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا۔

'38 سال گزر چکے ہیں۔۔۔ لیکن آج بھی میں جنگ کے ان لمحات میں الجھا ہوا ہوں۔'

مہدی کہتے ہیں کہ ان میں کئی افراد جنگ کے بعد کی زندگی میں ڈھل نہیں سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنگ میں حصہ لینے والے کچھ افراد 'تنہائی میں' کئی افراد نے اپنی جان لے لی یا دیگر نے اپنے خاندانوں کو ٹوٹتے دیکھا۔

Mehdi looking at the camera. He has grey hair and grey beard and his wearing a dark blue t-shirt. Blurred bookshelves can be seen in the background.
،تصویر کا کیپشنمہدی کے مطابق جنگ کے میدان سے صرف ایک لڑکا واپس آیا

ماضی میں مہدی نے جنگ کے بارے میں مثبت انداز میں بات کی تھی۔

لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ وہ رات میں دو یا تین گھنٹے سے زیادہ نہیں سو سکتے۔ ’مجھے خواب میں ہمیشہ اپنے جنگ کے زمانے کے دوست نظر آتے ہیں۔‘

مسعود کا کہنا ہے کہ انھیں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب انھیں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دماغ میں شارپنل کے ٹکڑے دھنسے ہیں۔

ان کا کہنا ہے 38 سال گزرنے کے بعد آج بھی انھیں جنگ کے خوفناک مناظر کے خواب آتے ہیں۔

رضا کہتے ہیں کہ بالآخر کئی مشکل تھراپی سیشنز کے بعد انھوں نے اپنے ماضی کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔ 'چاہے وہ مجھے زبردستی لے گئے تھے یا مجھے کسی نے جنگ پر جانے سے نہیں روکا، حقیقت یہ ہے کہ میں جنگ میں گیا تھا۔'

'اس کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے تسلیم کرنا ہوگا کہ میں نے ایک غیر معمول زندگی گزاری ہے اور اب بھی میں معمول کی زندگی نہیں گزار رہا اور نہ میں کبھی گزار پاؤں گا۔'