آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گدھوں نے انسانی تاریخ کا دھارا کیسے بدلا؟
- مصنف, دانجی کدلکر
- عہدہ, صحافی
گدھے عام طور پر بھاری بوجھ اٹھانے کی اپنی مثالی صلاحیت، ضدی پن اور مشکل کاموں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تاہم پاکستان سمیت دنیا کے کچھ حصوں میں اس جانور کا نام غیر منصفانہ طور پر توہین اور تضحیک کے ساتھ منسلک ہے۔
لیکن فرانس کے دارالحکومت پیرس سے 280 کلومیٹر مشرق میں واقع ایک گاؤں سے ماہرین آثار قدیمہ کو ایک ایسا سراغ ملا ہے جو بوجھ ڈھونے والے اِس جانور کے بارے میں ہمارے تصورات کو بدل سکتا ہے۔
بون ویل این ووایور نامی گاؤں میں واقع ایک رومن دور کے مکان میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایسے کئی گدھوں کی باقیات دریافت کی ہیں جن کا سائز آج کے گدھوں کے مقابلے میں کہیں بڑا تھا۔
فرانسیسی شہر تولوز میں قائم پورپی سکول آف میڈیسن کے مرکز برائے بشریات اور جینومک سٹڈیز کے ڈائریکٹر لڈووک اورلینڈو کہتے ہیں کہ ’یہ دیو قامت گدھے تھے۔ ایک نسل جس کا تعلق جینیاتی طور پر افریقی گدھوں سے ہے اور بعض صورتوں میں اُن کا سائز گھوڑوں سے بھی بڑا تھا۔‘
اورلینڈو اس پراجیکٹ کے سربراہ ہیں جس کے تحت گدھوں کے ان ڈھانچوں سے اُن کے ڈی این اے کی ترتیب سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ یہ ایک بہت بڑی تحقیق کا حصہ ہے جس میں گدھوں کے پالنے کی ابتدا اور اس کے بعد دنیا کے دیگر حصوں میں اُن کے پھیلاؤ کا پتا لگانے کی کوشش کی گئی ہے اور اس تحقیق کی مدد سے گدھوں کے انسان سے تعلق کے بارے میں حیران کُن معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
لڈووک اورلینڈو کا کہنا ہے کہ رومن وِلا سے ملنے والی باقیات سے پتا چلتا ہے کہ اُن گدھوں کا قد پانچ فٹ سے زیادہ تھا جبکہ آج کے دور کے گدھوں کی اوسط اونچائی سوا چار فٹ سے کچھ زیادہ ہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جدید گدھوں کی واحد نسل جو حجم میں ان قدیم گدھوں جیسی ہو سکتی ہے وہ امریکی میمتھ جیک ہیں۔ یہ نر گدھے غیر معمولی طور پر بہت بڑے ہوتے ہیں اور اکثر افزائشِ نسل کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
لڈووک اورلینڈو کے مطابق فرانس کے دیہی علاقوں میں پائے جانے والے دیو قامت گدھوں نے غالباً رومی سلطنت کی توسیع اور دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کیا، ایک ایسا کردار جس کی خاطر خواہ تعریف نہیں کی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ 'دوسری اور پانچویں صدی عیسوی کے درمیان، رومیوں نے اس قسم کے گدھوں کو خچروں (گدھے اور گھوڑے کے ملاپ سے پیدا ہونے والا جانور) کی افزائشِ نسل کے لیے استعمال کیا جو تجارتی اور فوجی ساز و سامان کی نقل و حمل میں کلیدی کردار رکھتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رومی سلطنت کے زوال نے بظاہر ان بڑے گدھوں کی نسل کے معدوم ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔ لڈووک اورلینڈو کہتے ہیں کہ 'اگر آپ کی سلطنت ہزاروں کلومیٹر پر محیط نہیں ہے، تو آپ کو طویل فاصلے تک سامان کی نقل و حمل کے لیے کسی جانور کی ضرورت نہیں ہے۔ یوں خچروں کی افزائش جاری رکھنے کی معاشی ترغیب ختم ہو گئی۔‘
پوری انسانی تاریخ میں گدھوں کے کردار کو سمجھنے کے لیے 37 مختلف لیبارٹریوں کے 49 سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے دنیا بھر سے اس جانور کی 31 قدیم اور 207 جدید مثالوں کے جینومز کو ترتیب دیا۔ جینیاتی ماڈلنگ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے محققین وقت کے ساتھ گدھوں کی آبادی میں تبدیلیوں کی نشاندہی میں کامیاب ہوئے۔
انھیں علم ہوا کہ غالباً سات ہزار سال پہلے کینیا اور قرنِ افریقہ کے مشرقی علاقوں میں چرواہوں نے گدھوں کو جنگلی جانور سے ایک پالتو جانور میں بدلا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تمام جدید گدھوں کی ابتدا غالباً انھیں پالتو بنانے کے اس مخصوص واقعے سے ہوتی ہے۔
ماضی کے مطالعات کے مطابق، یمن میں بھی گدھوں کو پالنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقی افریقہ میں ان جانوروں کو پالنے کا واقعہ اسی دور کا ہے جب اس افریقی صحارا میں صحرائی صورتحال پیدا ہوئی جو کبھی سرسبز علاقہ تھا۔
تقریباً 8,200 سال پہلے سے مون سون کے اچانک کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ پودوں کے جانوروں کی خوراک کے لیے استعمال اور درختوں کو آگ لگانے جیسی انسانی سرگرمیوں میں اضافے کا نتیجہ بارشوں میں کمی اور صحرا کے بتدریج پھیلاؤ کی شکل میں نکلا۔ یہ وہ سخت ماحول تھا جس نے گدھے پالنے کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
اورلینڈو کا کہنا ہے کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے مقامی آبادیوں کو اپنے طور طریقے بدلنے پر مجبور کیا اور گدھے ایسے حالات میں طویل فاصلوں تک اور دشوار گزار راستوں پر سامان کی نقل و حمل کے لیے بنیادی سہولت فراہم کر سکتے تھے۔‘
محققین نے دیکھا کہ پالتو بنائے جانے کے بعد گدھوں کی آبادی ڈرامائی طور پر پہلے کم ہوئی اور پھر تیزی سے بڑھی۔ تولوز سنٹر فار اینتھروپولوجی اینڈ جینوم سٹڈیز کی جینیاتی ماہر ایولین ٹوڈ کا کہنا ہے کہ ’یہ پالتو بنائے جانے کی ایک خصوصیت ہے جو تقریباً تمام پالتو جانوروں میں دیکھی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق آبادی میں یہ کمی پالنے کے لیے گدھوں کے ایک مخصوص نسب کا انتخاب کرنے اور اس کے نتیجے میں اس پالتو نمونے کی پیداوار اور افزائش کا نتیجہ ہے، جس سے ان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
محققین کے تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان گدھوں کو بظاہر مشرقی افریقہ سے براعظم کے دیگر حصوں بشمول شمال مغرب میں سوڈان اور وہاں سے مصر لے جایا گیا تھا جہاں ماہرین آثار قدیمہ نے پالتو گدھوں کی ساڑھے چھ ہزار برس پرانی باقیات دریافت کیں۔ اس کے بعد آنے والے ڈھائی ہزار برسوں کے دوران گدھوں کی یہ نئی پالتو نسل یورپ اور ایشیا تک پہنچی اور ان کی نسل چلتی چلتی ان گدھوں تک پہنچی جنھیں ہم آج دیکھتے ہیں۔
آسٹریا کی گراز یونیورسٹی کے ماہر آثار قدیمہ لیرک ریخت کا کہنا ہے کہ گدھوں نے اپنی زیادہ قوتِ برداشت اور بھاری بوجھ اٹھانے کی صلاحیت کے باعث انسان کی زمین پر سامان کو دور دراز علاقوں تک پہنچانے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب کہ میسوپوٹیمیا میں دجلہ اور فرات اور مصر میں دریائے نیل کو بھاری سامان یا بڑی تعداد میں سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا، گدھوں کی وجہ سے خشکی پر رابطوں کو بڑھانے اور تیز کرنے کا موقع ملا۔‘
ان کے مطابق، یہ ایسا ہی ہے کہ جیسا تیسری صدی قبل مسیح کے دوران کانسی کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ہوا تھا۔ ’گدھے تانبے کو طویل فاصلے تک لے جانے کے قابل تھے اور اسے میسوپوٹیمیا سمیت ان علاقوں تک پہنچا سکتے تھے، جہاں یہ دھات قدرتی طور پر یا زیادہ مقدار میں نہیں پائی جاتی تھی۔‘
لیکن اس کے علاوہ گدھوں اور دیگر چوپایوں کی موجودگی نے اس دور کی جنگوں کو بھی تبدیل کیا۔ ریخت کے مطابق ’یہ جانور جنگوں میں پہیوں والی گاڑیاں کھینچنے اور حملہ کرنے والی فوج کو رسد پہنچانے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔‘
اس دور میں گدھے اتنے اہم تھے کہ وہ اہم رسومات کا حصہ بھی بنائے گئے۔ ریخیت کہتی ہیں کہ ’مصر اور میسوپوٹیمیا میں گدھوں کی اتنی قدر کی جاتی تھی کہ انھیں انسانوں کے ساتھ اور بعض صورتوں میں بادشاہوں اور حکمرانوں کے ساتھ بھی دفن کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ کچھ واقعات میں گدھوں کو انفرادی طور پر دفن کیا گیا۔‘
ان کے مطابق دوسری صدی قبل مسیح میں، معاہدوں پر دستخط کے موقع یا عمارتوں کی بنیاد رکھتے ہوئے بھی گدھوں کی قربانی دی جاتی تھی۔
اورلینڈو اور ان کے ساتھیوں کے زیر مطالعہ ان جانوروں کی قدیم ترین مثالیں ترکی میں کانسی کے دور کے تین گدھے ہیں۔ ٹوڈ کا کہنا ہے کہ ’کاربن ڈیٹنگ کے مطابق وہ 4,500 سال قدیم ہیں اور ان کی جینیاتی شکل وہی ہے جو ایشیا میں اس جانور کی اس دور کی ذیلی نسلوں کی ہے۔‘
اس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گدھے اپنے چار ٹانگوں والے رشتہ دار یعنی گھوڑوں کے مقابلے میں انسان کے زیادہ مستحکم ساتھی رہے ہیں۔
اورلینڈو کا کہنا ہے کہ ’پالتو گھوڑوں نے جو تقریباً 4,200 سال قبل پہلی بار پالے گئے تھے، انسانی تاریخ پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ اب ہماری تحقیق سے علم ہوتا ہے کہ گدھوں کا اثر ان سے بھی زیادہ تھا۔‘
ان تمام لازوال فوائد کے باوجود، گدھے انسانوں میں اتنے مقبول نہیں ہیں جتنے گھوڑے اور کتے۔ لیکن جہاں دنیا کے کچھ حصوں میں گدھوں کو بڑی حد تک نظر انداز کیا جاتا ہے، وہیں دیگر علاقوں میں وہ اب بھی اہم ہیں۔
ٹوڈ کا کہنا ہے کہ ’گدھے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اگرچہ ترقی یافتہ ممالک میں روزمرہ کی زندگی میں گدھوں کا استعمال نہیں کیا جاتا وہیں بہت سے ترقی پذیر معاشروں بشمول افریقہ اور جزیرہ نما عرب کے علاقوں میں، لوگ اب بھی باربرداری اور انسانی سفر کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔'
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گدھوں کی جینیاتی ساخت کو جاننا مستقبل میں اس جانور کی افزائش کے طریقوں اور اس کے انتظام کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کلیدی مسائل میں سے ایک جس کے بارے میں محققین اپنے مستقبل کے مطالعے میں حل کرنے کی امید کرتے ہیں، جنگل میں پالتو گدھوں کے قریبی رشتہ داروں کی تلاش ہے۔ اورلینڈو، ٹوڈ اور ان کے ساتھی اس سلسلے میں تین مثالوں کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ٹوڈ کے مطابق ’ہم جانتے ہیں کہ آج کے گدھے افریقی جنگلی گدھوں کی نسل سے ہیں۔ ہم نے تین ذیلی انواع کی نشاندہی کی ہے: پہلی رومن سلطنت کے دوران دو سو قبل مسیح میں معدوم ہو گئی تھی، دوسری ممکنہ طور پر جنگل میں ناپید ہے اور تیسری شدید خطرے سے دوچار ہے۔‘
تاہم، یہ جاننے کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے کہ آیا افریقی جنگلی گدھوں کی مزید نامعلوم ذیلی نسلیں موجود ہیں یا نہیں۔ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ مزید ذیلی انواع کی دریافت سے ان جانوروں کی جینیاتی تاریخ اور انسانی زندگی میں ان کے کردار کے بارے میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔