وہ کسان جو چند کنال زمین پر مشروم کاشت کر کے لاکھوں کما رہے ہیں: ’کھمبیوں کی کاشت میں لاگت زیادہ ہے مگر منافع بھی کافی ہے‘

    • مصنف, چرن جیو کوشل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے سوہن سنگھ ڈھلوں نے سنہ 2018 میں ایک چھوٹے شیڈ سے کھمبیاں (مشروم) اُگانے کا آغاز کیا تھا۔ گذشتہ سات برسوں کے دوران وہ اس کاروبار کو بڑھا کر 20 شیڈز تک لے گئے ہیں اور علاقے کے دیگر کسانوں کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں۔

سوہن سنگھ بتاتے ہیں کہ ’پہلے ہم زمین پر گندم، جو یا آلو جیسی سبزیاں اُگاتے تھے اور سردیوں کے دنوں میں فارغ رہنے کی وجہ سے پریشان رہتے تھے۔ دو پیسے کمانے اور وقت گزاری کے مشغلے کے طور پر میں نے مشروم یعنی کھمبیوں کی کاشت شروع کی۔‘

سوہن سنگھ اپنے بھائی پرمود ڈھلوں کے ساتھ مل کر کھمبیاں کاشت کرتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ اپنے اس کاروبار کو مزید وسعت دے رہے ہیں کیونکہ اس میں کافی فائدہ ہے۔

رواں برس سوہن سنگھ ڈھلوں کو سرکاری ایوارڈ بھی ملا ہے اور انھیں انڈین زرعی تحقیق کونسل (آئی سی اے آر) کے زیرِ اہتمام ’قومی مشروم میلے‘ کے دوران ’نمایاں قومی مشروم پروڈیوسر ایوارڈ‘ سے نوازا گیا ہے۔

سوہن سنگھ نے کھمبیوں کی کاشت کا فیصلہ کیوں کیا؟

سوہن سنگھ بتاتے ہیں کہ انھوں نے پہلی بار سنہ 1998 میں اپنی زمین پر کھمبیاں کاشت کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ اس وقت کامیاب نہ ہو سکے اور اس ناکامی کی بڑی وجہ مارکیٹ تک رسائی اور کھمبیوں کی فروخت کے مناسب انتظامات نہ ہونا تھی۔

اس کے بعد انھوں نے تعلیم کی طرف توجہ دی اور پوسٹ گریجویٹ تک پڑھائی مکمل کی۔

سنہ 2018 میں سوہن سنگھ نے اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ کھمبیوں کی کاشت کا فیصلہ کیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے ایک رشتہ دار کے پاس جاتے تھے، اس گاؤں میں کافی لوگ کھمبیاں اُگاتے تھے۔ انھیں دیکھ کر ہم نے بھی یہ کام دوبارہ شروع کرنے کا سوچا۔‘

سوہن سنگھ کے مطابق انھوں نے سب سے پہلے لُدھیانہ میں پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی (پی اے یو) سے اس فصل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ یونیورسٹی نے انھیں مشورہ دیا کہ باقاعدہ تربیت حاصل کریں اور اس مقصد کے لیے انھیں ہماچل پردیش کے سولن میں واقع مشروم ریسرچ سینٹر بھیجا گیا۔

سوہن سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر وہ دو کلے (لگ بھگ دو ایکٹر یا 16 کنال) زمین پر روایتی فصلیں اُگائیں تو زیادہ سے زیادہ دو لاکھ روپے سالانہ کی آمدن ہو سکتی ہے، لیکن کھمبیاں اُگا کر وہ اسی زمین سے 20 سے 25 لاکھ روپے تک کما رہے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ سب کسان کی محنت اور طریقہ کار پر منحصر ہے۔

سوہن سنگھ بتاتے ہیں کہ وہ مسلسل سولن کے ریسرچ سینٹر سے رابطے میں رہتے ہیں تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں رہنمائی حاصل کر سکیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’کھمبیوں کی کاشت میں لاگت زیادہ آتی ہے مگر منافع بھی کافی ہے۔ ہم نے تقریباً 34 لاکھ روپے کا قرض لیا تھا اور اس سے دو کمرے اور ایک چیمبر بنایا۔ اب ہم آہستہ آہستہ اس کام کو بڑھا رہے ہیں۔‘

کھمبیاں اُگانے کا یہ سلسلہ بنیادی طور پر اکتوبر سے مارچ تک جاری رہتا ہے۔ سوہن سنگھ کے مطابق اس دوران وہ تقریباً 1300 سے 1400 کوئنٹل کھمبیوں کی پیداوار حاصل کرتے ہیں، جس کی فروخت سے انھیں ایک کروڑ روپے تک کی آمدن ہو جاتی ہے اور اس میں انھیں 25 سے 30 فیصد تک منافع حاصل ہوتا ہے۔

سوہن سنگھ کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے کھمبیوں کی کاشت کا آغاز کیا تھا تو سب سے بڑی مشکل مارکیٹ تک رسائی تھی۔ لیکن اب پنجاب کے بڑے شہروں جیسے لُدھیانہ، پٹیالہ اور چندی گڑھ میں اُن کی کھمبیاں اچھی طرح فروخت ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی پیداوار کو ہریانہ میں بھی فروخت کرتے ہیں۔

سوہن سنگھ کھمبیوں کے لیے ’کمپوسٹ‘ بھی خود تیار کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کامیاب کاشت کے لیے مکمل طریقہ کار اپنانا پڑتا ہے، جس میں خاص طور پر درجہ حرارت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ انھیں سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ وہ اپنی آمدن کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کو روزگار بھی فراہم کر رہے ہیں۔

سوہن سنگھ کے بھائی پرمود ڈھلوں کا کہنا ہے کہ انھیں سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ وہ اپنا کام اپنے ہی گاؤں میں، اپنے لوگوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کھمبیاں اُگانے کا یہ کام مسلسل محنت مانگتا ہے اور کسان کو ہر وقت اس پر توجہ دینی پڑتی ہے۔

ان کے مطابق ’یہ کام 24 گھنٹے کا ہے، آپ کو مکمل دھیان خود ہی رکھنا پڑتا ہے۔ ہمیں سوچ بدلنی ہو گی، طریقہ بدلنا ہو گا اور مارکیٹ تک رسائی پر خاص توجہ دینا ہو گی۔ کھیتی کو بھی پروفیشنل انداز میں کرنا چاہیے۔ باغبانی کا محکمہ ہمیں مکمل تعاون فراہم کرتا ہے اور ہمارے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔‘

سوہن سنگھ کے فارم پر کام کرنے والی مزدور سُورن جیت کور کہتی ہیں کہ وہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ انھیں اپنے ہی گاؤں میں روزگار مل گیا ہے۔ ان کے مطابق فارم پر روزانہ 15 سے 20 خواتین صبح سے شام تک کام کرتی ہیں۔

تربیت لینا از حد ضروری

سنگرور کے زرعی سائنس مرکز کے انچارج ڈاکٹر مندیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ کھمبیاں اُگانے میں بہتر منافع حاصل کرنے کے لیے کسانوں کو تربیت لینا نہایت ضروری ہے۔

انھوں نے کہا ’اگر کوئی کسان مشروم کی کاشت شروع کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے ضلع کے زرعی سائنس مرکز میں جا کر تربیت کے لیے رجسٹریشن کروا سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر مندیپ سنگھ کے مطابق مشروم کی کاشت میں کامیابی کے لیے ہر کسان کو پہلے تربیت حاصل کرنی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کاشت شروع کرنے سے پہلے کسانوں کو کسی ایسے فارم پر جانا چاہیے جہاں مشروم کی پیداوار جاری ہو، تاکہ وہ عملی طور پر دیکھ سکیں اور سیکھ سکیں۔

ڈاکٹر مندیپ سنگھ کا مشورہ ہے کہ کسانوں کو کھمبیوں کی کاشت کا آغاز ہمیشہ چھوٹے پیمانے سے کرنا چاہیے۔

اُن کی رائے میں ’کسان اپنے گھر کے ایک چھوٹے برآمدے میں پانچ سے سات کوئنٹل تُوڑی کا کمپوسٹ تیار کر کے کاشت شروع کر سکتا ہے اور اس کے بعد منافع دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ شیڈز کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مشروم ایک جلدی خراب ہونے والی فصل ہے، اس لیے اس کی پیداوار اور مارکیٹ تک رسائی دونوں بڑی ذمہ داری ہیں۔

ڈاکٹر مندیپ سنگھ کے مطابق پنجاب حکومت مشروم کی کاشت کے منصوبوں کے لیے سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ کاشت شروع کرنے سے پہلے کسانوں کو اپنے قریبی دفتر میں جا کر سبسڈی کے لیے فارم بھرنا ضروری ہے، اس کے بعد کمپوسٹ پلانٹ لگانے کے لیے بھی حکومت الگ سبسڈی دیتی ہے، اور اگر کوئی کسان مشروم کے بیج کی لیبارٹری قائم کرنا چاہے تو اس پر بھی سبسڈی دستیاب ہے۔

بیماریوں اور مشکلات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اگر کسان توجہ اور احتیاط کے ساتھ کاشت کرے تو زیادہ تر بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر پھر بھی کسی کو مسئلہ پیش آئے تو وہ باغبانی کے محکمے کے ماہرین سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔