ٹرمپ کی دھمکی اور ’خفیہ فوجی اڈے‘ پر بمبار طیاروں کی آمد: کیا ایران ڈیاگو گارسیا جزیرے پر حملہ کر سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہPlanet Lab
- مصنف, فرزاد سیفیکرن
- عہدہ, بی بی سی فارسی
بحر ہند کے پر امن اور خوبصورت جزیرے ڈیاگو گارسیا میں امریکہ کے بی 52 بمبار طیاروں کی منتقلی کی اطلاعات کے بعد ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا تو یہ جزیرہ ایران کے ’میزائل حملے کا ہدف‘ بن سکتا ہے۔
بحیرہ ہند میں واقع جزیرہ ڈیاگو گارسیا کوئی سیاحتی مقام نہیں بلکہ یہاں عام شہریوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہے جس کے بارے میں دہائیوں سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ یہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک خفیہ فوجی اڈہ موجود ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فوجی اڈہ ’ایران کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کی حدود میں آتا ہے۔‘
واضح رہے کہ بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق اتوار کو این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ (ایرانی حکام) معاہدہ نہیں کرتے تو پھر بمباری ہو گی اور بمباری بھی ایسی جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔‘
بی بی سی فارسی نے اس کے بعد 22 مارچ 2025 سے دو اپریل 2025 تک کی سیٹلائیٹ تصاویر کا جائزہ لیا، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ چھ بی ٹو اور چھ بی 52 بمبار طیارے ڈیاگو گارسیا کے فوجی اڈے پہنچے ہیں۔
امریکی حکام نے ڈیاگو گارسیا میں ان بمبار طیاروں کی منقتلی کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی اعلان نہیں کیا اور امریکی فوج کی سٹریٹجک کمانڈ کے مطابق وہ کسی قسم کی ’مشقوں اور آپریشنز‘ پر تبصرہ نہیں کرتے ہیں۔
لیکن اگر ہم آج کی تاریخ میں بھی اس جزیرے کی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیں تو چھ بی ٹو اور چھ بی 52 بمبار طیاروں کو اس فوجی اڈے پر دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 20 مارچ کو اس خفیہ اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر میں یہاں پر ان میں سے کوئی بمبار طیارہ موجود نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان سیٹلائٹ تصاویر کا مزید جائزہ لینے پر بی بی سی کو معلوم ہوا کہ ڈیاگو گارسیا میں ان طیاروں کی منتقلی بظاہر 25 مارچ کو شروع ہوئی اور اسی دن 11 بی 52 بمبار طیارے یہاں منتقل کیے گئے تاہم 29 مارچ کو یہ تعداد کم ہو کر صرف چھ رہ گئی لیکن اس کے ساتھ ہی چار بی ٹو بمبار طیارے بھی یہاں نظر آئے۔
ڈیاگو گارسیا کے فوجی اڈے پر B-2 اور B-52 بمبار طیاروں کی منتقلی کی اطلاعات کے بعد پاسداران انقلاب اپنے جدید ترین زیر زمین میزائل اڈے کو ’میزائل سپر سٹی‘ کے طور پر منظر عام پر لایا، جس میں مختلف قسم کے میزائلوں کی نمائش کی گئی۔
کیا ایران ڈیاگو گارسیا پر حملہ کر سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہPLANET LAB
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس سوال کا جواب تلاش کرنا آسان نہیں۔
ڈیاگو گارسیا ایران کے سب سے جنوبی جغرافیائی مقام پاسبندر کی بندرگاہ سے 3,800 کلومیٹر دور ہے جبکہ ایرانی فوج کے پاس موجود بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی رینج دو سے 2500 کلومیٹر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
ایران کے کچھ بیلسٹک میزائل جیسے سیجل اور شہاب تھری بی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی رینج ’دو ہزار کلومیٹر‘ ہے اور پاسدران انقلاب کے مطابق سومر کروز میزائل کی رینج ’دو سے 2500 کلومیٹر ہے۔‘
ان میزائلوں کی اصل رینج کا تعین یقینی طور پر نہیں کیا جا سکتا تاہم انھیں ابھی تک 2000 کلومیٹر کی رینج والے آپریشنز میں استعمال نہیں کیا گیا۔
ایران کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں نے اب تک جو سب سے زیادہ فاصلہ طے کیا، وہ اسرائیل پر حملے میں آپریشن ’واشتی صادق ون اور ٹو‘ کے دوران تھا۔ واضح رہے کہ ایران کے مغربی جغرافیائی نقطے سے اسرائیل کا فاصلہ تقریباً 1,200 کلومیٹر ہے۔
ایرانی ڈرونز کی رینج تقریباً 2500 کلومیٹر بتائی جاتی ہے تاہم اکتوبر 2024 میں پاسدران انقلاب کی ایرو سپیس فورس نے شہید 136B ڈرون کی نقاب کشائی کی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی رینج ’چار ہزار کلومیٹر‘ ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایران دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ رینج رکھنے والے فوجی ہتھیاروں کو سامنے لایا۔

،تصویر کا ذریعہNoghteh Zan
ایرانی مسلح افواج اور رہبر اعلی علی خامنہ ای کے بیانات کے مطابق ایرانی میزائلوں کی رینج فی الحال 2000 کلومیٹر سے زیادہ نہیں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر کام فی الحال روک دیا گیا ہے۔
خامنہ ای نے کہا تھا کہ اس فیصلے کی ایک ’وجہ‘ ہے تاہم یہ وجہ کیا تھی، اس بارے میں انھوں نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
اگر شہید 136B ڈرون کی رینج ’چار ہزار کلومیٹر‘ ہے تو پھر ایران واقعی ڈیاگو گارسیا کو نشانہ بنا سکتا ہے لیکن اس جزیرے پر حملہ کرنے کے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں: جیسے میزائلوں اور ڈرونز کی رینج کو اپ گریڈ کرنا یا اس ڈرون کیرئیر کا استعمال کرنا جس کی پاسدران انقلاب نے حال ہی میں نقاب کشائی کی۔
اس ڈرون کیریئر کی مدد سے یہ ممکن ہے کہ یہ فاصلے میں ڈیاگو گارشیا جزیرے کے قریب ہو اور وہاں سے ڈرون کو لانچ کیا جائے لیکن مستقبل قریب اور انتہائی مختصر وقت میں، اس میں سے کچھ بھی ممکن نہیں ہو گا۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد پینٹاگون ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ ’اگر ایران یا اس کی پراکسیز (حمایت یافتہ گروہوں) سے خطے میں امریکی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو امریکہ اپنے لوگوں کے دفاع کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔‘
بی ٹو بمبار طیارے خطرناک کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی ٹو بمبار طیارے اس لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ یہ زیر زمین موجود تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
B-2 بمبار طیارہ نارتھروپ گرومین نے تیار کیا اور یہ انتہائی جدید دفاعی نظام کو بھی ناکارہ بنا سکتا ہے۔
یہ طیارہ ایٹم بم سمیت دیگر بھاری بم لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ B-2 بمبار طیارے کے ہتھیاروں میں بنکر تباہ کرنے والے بم بھی شامل ہیں، جیسے کہ 14,000 کلوگرام والے GBU/57AB بم۔
ان طیاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آواز کی رفتار سے تقریباً برابر اور 50 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ امریکی فضائیہ کے پاس 20 بی ٹو بمبار طیارے موجود ہیں۔
ایران کی کئی حساس فوجی اور جوہری تنصیبات زیر زمین واقع ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان تنصیبات پر حملے کا امکان بڑھ گیا ہے اور اسی لیے بڑی تعداد میں بی ٹو بمبار طیاروں کی بحیرہ ہند میں منتقلی سے ایرانی حکام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ بمبار طیارہ نہ صرف دشمن کے دفاعی اور ریڈار سسٹم سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ ایسے بم لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جو زیر زمین موجود اڈوں اور تنصیبات کو تباہ کر سکتے ہیں۔













