الیکشن سے نااہلی کا ڈر: باپ نے ’محبت کرنے والی‘ اپنی چھ سالہ بیٹی کو مبینہ طور پر قتل کر دیا

،تصویر کا ذریعہPolice
- مصنف, امریندر یرلگڈا
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انتباہ: اس خبر میں شامل تفصیلات کچھ قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔
انڈیا کی ریاست مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے گاؤں کی پنچایت کا الیکشن لڑنے کے لیے مبینہ طور پر اپنی بیٹی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔
پدورنگا نامی اس شخص کے تین بچے تھے اور مہاراشٹر میں نافذ انتخابی قواعد کے مطابق جس شخص کے دو سے زیادہ بچے ہوں وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔
لیکن پدورنگا نے اپنی بیٹی کو مہاراشٹر میں قتل نہیں کیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ ایسا کرنے سے وہ پکڑا جا سکتا ہے۔
چھ سالہ پراچی کی لاش مہاراشٹر کی پڑوسی ریاست تلنگانہ میں واقع نظام ساگر نہر میں ملی تھی۔
نظام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ چھ سالہ پراچی کو ان کے والد تلنگانہ لائے اور قتل کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہNizambad police
اس بچی کی لاش برآمد ہونے کے بعد پولیس نے ایک مقدمہ درج کیا تھا اور تفتیش کے لیے تین تحقیقاتی ٹیمیں بنائی تھیں۔
دو فروری کو پولیس نے میڈیا کو اس بچی کی لاش برآمد ہونے کی اطلاع دی، جس کے بعد ان کی تصویر میڈیا پر چلنے لگی تاکہ اس کے رشتہ داروں کو ڈھونڈا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب واٹس ایپ سٹیٹس سے رشتہ داروں نے بچی کو پہچانا
نظام آباد پولیس کے ایک کانسٹیبل سدھیر نے اس بچی کی ایک تصویر اپنے واٹس ایپ سٹیٹس پر لگائی تھی اور یہ تصویر مہاراشٹر کے مکھرجی تعلقہ میں موجود پراچی کے کچھ رشتہ داروں نے بھی دیکھی اور اسے پہچان لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پدورنگا کی گاؤں میں نائی کی دکان ہے اور اس کے تین بچے تھے۔
قتل کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی؟
مہاراشٹر بھر میں پنچایت کے انتخابات رواں برس ہونے ہیں۔ اس علاقے کی پنچایت کے سابق سربراہ گنیش شندے نئے انتخابی قوانین کے تحت الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے اور اسی لیے انھوں نے پدورنگا کو انتخابات میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔
نظام آباد پولیس کے سرکل انسپیکٹر وجے بابو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گنیش انتخابات نہیں لڑ سکتا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ کوئی ایسا شخص الیکشن لڑے جو ان کے قابو میں ہو، اسی لیے اس نے پدورنگا کو الیکشن لڑنے کے لیے قائل کیا۔‘
نظام آباد پولیس کے کمشنر سائی چیتینا کہتے ہیں کہ پدورنگا کو ڈر تھا کہ وہ تین بچوں کے ہوتے ہوئے الیکشن نہیں لڑ سکتا، اس لیے اس نے اپنی ایک اولاد کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔
پولیس کمشنر کا کہنا تھا کہ پدورنگا نے اپنے ایک بچے کو لے پالک ثابت کرنے کی بھی کوشش کی لیکن سخت قوانین کے سبب اس کی یہ کوشش ناکام رہی۔
وہ اپنے بیٹے کو لے پالک ثابت کرنا چاہتا تھا اور اس لیے پونے کارپوریشن کے دفتر بھی گیا لیکن چونکہ بچے کے برتھ سرٹیفکیٹ میں باپ کا نام پدورنگا درج تھا اس لیے یہ کوشش ناکام ہو گئی۔
پولیس کمشنر کہتے ہیں کہ اس شخص نے سوچا کہ اگر وہ پراچی کو قتل کر دے تو الیکشن میں حصہ لے پائے گا۔
’بچی اپنے باپ سے مجبت کرتی تھی‘
سرکل انسپیکٹر وجے بابو کہتے ہیں کہ ’پراچی اپنے باپ پدورنگا سے بہت محبت کرتی تھی۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ فوراً چلی جاتی اور اس کی ہر بات پر عمل کرتی۔‘
’جبکہ اس کی دوسری بیٹی زیادہ وقت اپنی ماں کے ساتھ گزارتی تھی اور پدورنگا اپنے بیٹے کو قتل نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ اسے اپنا وارث سمجھتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس کا دعویٰ ہے کہ پدورنگا نے اعتراف کیا ہے کہ اگر وہ پراچی کو مہاراشٹر میں قتل کرتا تو وہ پکڑا جا سکتا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پدورنگا اپنی بیٹی کے قتل کے بعد اس کے لاپتا ہونے کا مقدمہ بھی درج کروانا چاہتا تھا۔
نظام آباد پولیس کے کمشنر سائی چیتنیا نے تصدیق کی ہے کہ گنیش شندے کو بھی اس قتل کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔













