کراچی ٹیسٹ کے تیسرے روز علیم ڈار کو ریٹائر ہونے کے مشورے، ’ان کے فیصلوں کو بدلتا دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے‘

کراچی میں جاری ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے تیسرے روز کھیل کے اختتام پرچھ وکٹوں کے نقصان پر 440 رنز بنا لیے ہیں اور اس طرح اسے پاکستان پر دو رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔

سابق کپتان کین ولیمسن 105 بنا کر ناٹ آؤٹ ہیں۔ کپتانی چھوڑنے کے بعد یہ کین ولیمسن کی پہلی اننگز تھی جس وہ سنچری بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ چار سال بعد ٹیم میں واپس آنے والے سرفراز احمد نے کین ولیمسن کو سٹمپ آؤٹ کرنے کے دو مواقع ضائع کیے۔

ادھر امپائر علیم ڈار کو بھی ان کے حالیہ فیصلوں کی وجہ سے ریٹائر ہونے کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔

تیسرے روز کا کھیل جب شروع ہوا تو نیوزی لینڈ کے دونوں اوپنر کریز پر موجود تھے۔ نیوزی لینڈ کی پہلی وکٹ 183 کے مجموعی سکور پر گری جب قائم مقام کپتان سرفراز احمد نے ایک کامیاب ریویو لیا۔ ڈیون کانوے 93 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار پائے۔

البتہ ٹام لیتھم نے سنچری بنانے کا موقع ضائع نہیں کیا اور 113 رنز بنا کر ابرار احمد کی میچ میں پہلی وکٹ بن گئے۔ ابرار احمد ابھی تک پاکستان کے سب سے کامیاب بولر رہے ہیں اور نیوزی لینڈ کی گرنے والی چھ وکٹوں میں تین ان کے حصے میں آئیں۔

نیوزی لینڈ کی مڈل بیٹسمینوں نے کین ولیمسن کے ساتھ مل کر ٹیم کے سکور کو آگے بڑھایا اور کھیل کے اختتام پر ٹیم کو پاکستان سے بہتر پوزیشن میں لاکھڑا کیا۔

پاکستان کے فاسٹ بولر بے بس

پاکستان کے تیز بولرز نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کے سامنے بلکل بے بس نظر آ رہے ہیں۔ مڈل آرڈر بیٹسمین ڈیرل مچلز نے جارجانہ انداز اپناتے ہوئے پاکستانی فاسٹ بولروں کو آڑے ہاتھوں لیا اور محمد وسیم کے ایک اوور میں چار چوکے لگا کراپنے ارادے ظاہر کیے۔ البتہ ڈیرل میچلز 47 گیندوں پر 42 رنز بنا کر ابرار احمد کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

محمد وسیم 24 اووروں میں 81 رنز دے کر ایک وکٹ لے سکے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے لیفٹ آرم میڈیم فاسٹ بولر میر حمزہ 20 اووروں میں کوئی وکٹ لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ میر حمزہ اپنے زندگی کا دوسرا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں اور ابھی دوسری ٹیسٹ وکٹ کی تلاش میں ہیں۔

ایک موقع پر جب تمام بولر وکٹیں حاصل کرنے میں بے بس نظر آ رہے تھے تو کپتان بابر اعظم نے خود بولنگ کا فیصلہ کیا۔ بابر اعظم نے تین اوور کرائے لیکن کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔

امپائر علیم ڈار کو ریٹائرمنٹ کے مشورے

آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شامل پاکستانی امپائر علیم ڈار جو ڈی آر ایس کے دور میں اپنے صحیح فیصلوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں آجکل اچھی فارم میں نہیں ہیں اور ان کے غلط فیصلوں کی فہرست میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

 انگلینڈ کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران بھی علیم ڈار کے غلط فیصلے سوشل میڈیا پر زیر بحث رہے۔ نوجوان سپنر ابرار احمد شاید ساری زندگی علیم ڈار کے فیصلوں کو کبھی نہ بھول پائیں۔ ابرار احمد نے انگلینڈ کے خلاف اپنے پہلے میچ کی پہلی اننگز میں سات وکٹیں حاصل کیں لیکن ان سات میں سے چار وکٹیں ریویو پر ملی تھیں جنہیں علیم ڈار نے ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا۔

کراچی میں جاری ٹیسٹ میں بھی علیم ڈار کے فیصلے چیلنج ہو رہے ہیں۔ میچ کے دوسرے روز جب انھوں نے بابر اعظم کو آؤٹ دیا تو بابر نے فوراً ریویو لیا۔ بابر اعظم ناٹ آؤٹ قرار پائے۔ تیسرے روز امپائر علیم ڈار نے ڈیون کانوے کے خلاف زور دار اپیل کو مسترد کیا اور جب کپتان سرفراز احمد نے ریویو لیا تو ڈیون کانوے آؤٹ قرار پائے۔

ٹوئٹر صارفین علیم ڈار کو مشورے دے رہے ہیں کہ اب انھیں ریٹائر ہو جانا چاہیے۔

محمد دانش لکھتے ہیں:’ اب انھیں وقار کے ساتھ ریٹائر ہو جانا چاہیے۔ وہ ہمارے ہیرو ہیں اور اپنے کیرئر کو غیرضروری طول نہ دے کر ہمارے ہیرو ہی رہنا چاہیے۔ ان کے فیصلوں کو بدلتا دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔‘

 ایم ذیشان صدیقی نے علیم ڈار کو مشورہ دیا ’علیم ڈار کے لیے یہ ریٹائر ہونے کا وقت ہے۔ اب ان کی نظر کمزور ہے۔ وہ کیوں اپنے اچھے کیرئر کو خراب کر رہے ہو۔‘

بابر اور سرفراز کی کپتانی کا موازنہ

تیسرے روز جب بابر اعظم طبعیت کی خرابی کی وجہ سے گراؤنڈ میں نہ آئے تو ٹیم کی قیادت سرفراز احمد کے پاس آ گئی۔ سرفراز احمد نیوزی لینڈ کے اوپنر ڈیون کانوے کے خلاف اپیل مسترد ہونے پر ریویو لیا جو کامیاب ہوا جس کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے سرفراز احمد کی کپتانی کی تعریفیں شروع کر دیں۔

ابراہیم مہدی نے لکھا ’تینوں وکٹیں سرفراز کی وجہ سے، مجھے بتانا جب بابر بطور کپتان وکٹ حاصل کر لے۔‘

سرفراز کی کپتانی کی تو تعریف ہوئی لیکن کچھ سوشل میڈیا صارفین نے سرفراز احمد کی وکٹوں کے پیچھے کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور کین ولیمسن کو سٹمپ آؤٹ کرنے کے دو مواقع ضائع کرنے پر سرفراز سے ناراض نظر آئے۔

وحید بھٹی نے ٹوئٹر پر لکھا ’سرفراز سٹمپنگ کے دو چانس مس کر چکا ہے۔ وہ کیا کر رہا ہے، یہ تو پاکستان کو مہنگا پڑے گا‘