آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینز، جنھوں نے میسی کے خواب کو ادھورا نہ رہنے دیا
- مصنف, گیری روز
- عہدہ, بی بی سی سپورٹ
ارجنٹائن اور فرانس کے درمیان اتوار کو ہونے والے ورلڈ کپ فائنل کے ناقابل یقین مقابلے سے پہلے تمام باتیں لیونل میسی اور کیلین ایمباپے کے بارے میں تھیں لیکن میچ کے آخر میں سب کے ہونٹوں پر ایک اور نام تھا اور وہ نام ایمیلیانو مارٹینز کا تھا۔
120 منٹ کے پرجوش، نشیب و فراز سے بھرپور اور پل پل آپ کو جذباتی طور پر نچوڑ لینے والے کھیل کے بعد دونوں ٹیمیں 3-3 گول کی برابری پر تھیں اور فٹبال کا سب سے بڑا اعزاز کون اٹھائے گا، اس کا تعین کرنے کی بات پینلٹی شوٹ آؤٹ تک پہنچ گئی تھی۔
جہاں ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے پرسکون انداز سے اپنی چاروں پینلٹی کو گول میں تبدیل کر دیا وہیں فرانس کے سامنے ان کا دل توڑنے کے لیے مارٹینیز دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔
فرانس کے ایمباپے نے کھیل کے دوران دو پینلٹی سکور کی تھیں لہذا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کہ انھوں نے شوٹ آؤٹ میں فرانس کے لیے پہلی پینلٹی کو گول میں تبدیل کر دیا، حالانکہ مارٹنیز اسے روکنے سے زیادہ دور نہیں تھے۔
بہرحال اس کے بعد سے ایسٹن ولا کے گول کیپر نے سٹیج سنبھال لیا۔ انھوں نے کنگسلے کومن کے گول کو روک کر فرانس پر ذہنی دباؤ ڈال دیا۔
جس کی وجہ سے جب اورلین چاؤمینی اپنی باری کے لیے گئے تو وہ ذہنی دباؤ ان پر پہلے سے ہی طاری تھا اور اس کے بوجھ تلے انھوں گيند کو مارٹنیز سے دور رکھنے کے لیے گول پوسٹ سے باہر مار دیا۔
مارٹینز کی اچھل کود کے لیے ایک لفظ ہے جسے یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کا مطلوبہ اثر ہوا اور 22 سالہ چومینی نے اس کا خمیازہ بھگتا۔
اس گول کو روک لینے نے ارجنٹائن کو سنہ 1986 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ ٹرافی پانے کے مزید قریب پہنچا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ فرانس کے رینڈل کولو موانی نے فرانس کی اگلی پینلٹی کو گول میں تبدیل کر دیا لیکن ارجنٹائن کے متبادل کھلاڑی گونزالو مونٹیل کی پینلٹی نے جنوبی امریکیوں کے جشن کا سلسلہ شروع کر دیا۔
ارجنٹائن کے باس لیونل سکالونی نے بتایا کہ ’ایمی مارٹنیز ایک بہت مثبت شخص ہیں اور انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا تھا کہ وہ کچھ گول بچانے جا رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
فٹبال کے شعبے میں بی بی سی سپورٹس کے پنڈت بھی اس بات پر متفق تھے کہ مارٹنیز کی حرکات نے جیت میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔
انگلینڈ کے سابق مڈفیلڈر جرمین جیناس نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ شوٹ آؤٹ میں اس (حرکتوں) کا ذہنی طور پر بہت زیادہ اثر پڑا۔‘
انگلینڈ کے سابق سٹرائیکر ایلن شیرر نے کہا کہ ’وہ انھیں ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے، وہ گیند کو لات مار رہے تھے، وہ کھلاڑیوں سے بات کر رہے تھے، (اور اس طرح) وہ ان پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال رہے تھے۔‘
انگلینڈ کے سابق ڈیفینڈر ریو فرڈینینڈ نے کہا کہ ’لائن کے پیچھے وہ حرکت کر رہے تھے اور پینلٹی لینے والے شخص کی نظر کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
اضافی وقت کے آخری سیکنڈز میں اگر مارٹینز نے ایک گول کو شاندار طریقے سے نہ بچایا ہوتا تو یہ گیم شوٹ آؤٹ تک بھی نہیں جاتا۔
لیورپول کے ڈیفینڈر ابراہیم کوناٹے نے گیند کو آگے بڑھایا اور موانی نے گول کرنے کے لیے دوڑ لگا دی، صرف مارٹینز ہی تھے جنھوں نے آگے بڑھے کر راستہ تنگ کر دیا اور اسے گول میں تبدیل ہونے سے روک دیا۔
یہ قطر میں مارٹینز کی جانب سے کئی بڑے گول بچانے کے کارناموں میں سے ایک تھا اور اس کے لیے انھیں ٹورنامنٹ کا ’گولڈن گلوو ایوارڈ‘ دیا گيا۔
انھوں نے قومی ٹیم کے ساتھ اپنے مختصر سے وقت میں یقیناً بڑا اثر چھوڑا۔ پچھلے سال اپنا ڈیبیو کرنے کے بعد سے انھوں نے کوپا امریکہ اور اب ورلڈ کپ جیتنے میں ارجنٹائن کی مدد کی ہے۔
انھیں اپنے کریئر کے آغاز کے لیے صبر آزما دور سے گزرنا پڑا۔ مارٹنیز نے آٹھ سال آرسنل میں گزارے، چھ بار دوسری ٹیموں نے ان کی خدمات لیں اور انھوں نے صرف 11 پریمیئر لیگ میچوں میں شرکت کی۔
مارٹنیز نے اتوار کے فائنل کے بعد کہا کہ ’میرے پاس اس کے لیے الفاظ نہیں۔ میں شوٹ آؤٹ کے دوران پرسکون تھا اور ہر چیز ہماری خواہش کے مطابق ہوتی چلی گئی۔ میں نے جس کا خواب دیکھا تھا وہ سب حاصل ہو گیا۔‘