پنجاب میں بچوں کے لیے برن یونٹس کی عدم موجودگی: ’ہسپتال میں بیٹی کے زخموں پر خود ہی مرہم لگاتا رہا‘

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • مصنف, شاہد اسلم
    • عہدہ, صحافی، لاہور

11 کروڑ سے زیادہ آبادی والے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے کسی علاقے میں بھی اگر کسی کو کوئی سنگین مرض لاحق ہو جائے یا کوئی گہری چوٹ لگ جائے تو مقامی طور پر علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہر کسی کی زبان پر ہوتا ہے کہ ’اسے لاہور لے جاؤ۔‘

17 اکتوبر کی رات نو بجے کے قریب اوکاڑہ کے رہائشی تنویر ساجد بھی یہی سوچ کر ریسکیو 1122 کی ایمبولینس میں سوار ہو رہے تھے کہ اب ان کی تین سالہ بیٹی علیزہ کو لاہور میں بہتر علاج کی سہولیات دستیاب ہو سکیں گی لیکن گرم پانی سے جھلسنے والی یہی علیزہ منگل کی صبح لاہور کے میو ہسپتال سے واپس اپنے گھر اوکاڑہ چلی گئی۔

علیزہ ایمبولینس میں لاہور آئی تھی اور بدقسمتی سے اس کا واپسی کا سفر بھی ایمبولینس میں ہی طے ہوا لیکن فرق یہ رہا کہ واپسی کے سفر میں اس کی سانسیں ساتھ چھوڑ چکی تھیں۔

’بھائی میں قبرستان آیا ہوں، علیزہ کی قبر کی جگہ دیکھنے۔ وہ صبح فوت ہو گئی ہے۔‘ علیزہ کے چچا عبدالوحید کو جب میں نے علیزہ کا حال ہوچھنے کے لیے فون کیا تو انھوں نے روتے ہوئے مجھے بتایا۔

عبدالوحید کا دعویٰ ہے کہ علیزہ کی حالت کافی دنوں سے بگڑ رہی تھی لیکن ہسپتال والے انھیں کھاریاں میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے برن سینٹر بھجوانے میں لیت و لعل سے کام لیتے رہے۔

کل ہسپتال انتظامیہ نے آ کر بتایا کہ ٹھیک ہے چلے جائیں کھاریاں۔ سارا سامان ایمبولینس میں رکھ لیا مگر جیسے ہی نکلنے والے تھے تو ہسپتال انتظامیہ نے آ کر کہا کہ ’کھاریاں برن سنٹر والے کہتے ہیں کہ پہلے بچی کی حالت کو مستحکم کریں پھر ہمارے پاس لائیں کیونکہ بچی کی حالت نازک ہے۔‘

چلڈرن ہسپتال

،تصویر کا ذریعہThe Institute of Child Health, Lahore

عبدالوحید کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے سے وہ علیزہ کو ایک شہر سے دوسرے شہر اور پھر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال لیے پھرتے رہے لیکن نامناسب علاج کی سہولیات کی وجہ سے وہ چل بسی۔

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نامناسب علاج و معالجے کی سہولیات اور ہسپتالوں کے عملے کے ناروا سلوک کے متعلق علیزہ کے خاندان کے تمام الزامات کو رد کرتی ہیں۔

بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’علیزہ 35 فیصد جھلس چکی تھی۔ جب اسے لاہور لایا گیا تو اسے تمام طبی سہولیات پہنچائی گئیں لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی‘۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر خود اس سارے معاملے کی نگرانی کر رہے تھے۔

’کسی نے جان بوجھ کرعلاج میں دیر نہیں کی۔ انھوں نے تو چلڈرن ہسپتال میں پرچی تک نہیں بنوائی تھی۔ چلڈرن ہسپتال کے ڈیوٹی سٹاف کو وارننگ دی جا چکی ہے کہ آئندہ جب بھی ایسا مریض آئے تو اپنے سینیئرز کو مطلع کریں۔‘

وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ علیزہ کے گھر والوں نے کھاریاں شفٹ کرنے کی بات کی تھی لیکن وہاں کے برن سنٹر نے یہ کہہ دیا تھا کہ بچی کی حالت مستحکم ہو گی تو وہ پھر ہی وہ داخل کریں گے۔

’میں اپنی بیٹی کے زخموں پر خود ہی ٹیوب لگاتا رہا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

علیزہ کی اس کہانی کا آغاز 15 اکتوبر کو اس وقت ہوا جب ان کی گردن، چہرے اور سینے سمیت جسم کا 35 فیصد حصہ گھر میں گرم پانی گرنے کی وجہ سے جھلس گیا۔

علیزہ کے والد جو کہ مستری کا کام کرتے ہیں، بیٹی کو لے کر فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال اوکاڑہ گئے لیکن ان کا الزام ہے کہ ہسپتال کے عملے نے ان سے تعاون کیا اور نہ ہی کوئی دوا دی جس کی وجہ سے ان کی بیٹی زخموں کی وجہ سے تڑپتی رہی۔

’میں اس رات اپنی بیٹی کے زخموں پر خود ہی مرہم لگاتا رہا اور اس روز پوری رات میں سات ٹیوبز اپنی بیٹی کے زخموں پر لگائیں۔ میں گلوز چڑھا کر جب ایک بار علیزہ کے زخموں پر ٹیوب لگاتا تو اس کا ایک گھنٹہ سکون سے گزر جاتا لیکن اس کے بعد وہ تکلیف سے پھر رونے، چیخنے لگتی جس کے بعد میں پھر دوسری ٹیوب اس کے زخموں پر لگا دیتا۔ اسی طرح پوری رات گزرگئی لیکن ہسپتال کے عملے نے کوئی تعاون نہ کیا۔‘

ساجد تنویر نے بتایا کہ ہسپتال کے عملے کی اس مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے اگلے روز وہ علیزہ کو خود ہی گھر لے آئے لیکن ان کے والد کے ایک ڈاکٹر دوست کے اصرار پر وہ اتوار کو دوبارہ اپنی بیٹی کو لے کر ڈی ایچ کیو ہسپتال اوکاڑہ چلے گئے جہاں ان کی دیکھ بھال تو شروع ہو گئی لیکن علاج کی مناسب سہولیات کی کمی کی وجہ سے انھیں لاہور کے چلڈرن ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔

لاہور میں مقیم علیزہ کے چچا عبدالوحید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب رات کے تقریباً ساڑھے دس بجے ریسکیو والے علیزہ کو لے کر چلڈرن ہسپتال پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ اس ہسپتال میں برن یونٹ نہیں، اس لیے بچی کو جناح ہسپتال لے جائیں۔

میو ہسپتال

،تصویر کا ذریعہKing Edward Medical University Alumni

عبدالوحید کے مطابق چلڈرن ہسپتال سے رات 12 بجے کے قریب بچی کو جناح ہسپتال لایا گیا تو وہاں بھی ردعمل کچھ مختلف نہیں تھا۔

’جب میں چلڈرن ہسپتال سے جناح ہسپتال پہنچا تو مجھ سے پہلے ریسکیو والے پہنچ چکے تھے اور جیسے ہی میں گیٹ پر پہنچا تو انھوں نے ریفرل والا فارم مجھے تھما دیا اور کہا کہ جناح والے کہہ رہے ہیں کہ پہلے اس پر مہر لگوا کر لائیں پھر دیکھیں گے۔‘

عبدالوحید کے مطابق ان مراحل سے گزر کر جب علیزہ کا چیک اپ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ 10 سال سے کم عمر کے بچوں کے برن کیسز نہیں لیتے اس لیے علیزہ کو میو ہسپتال لے جائیں۔

جب جناح ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی علیزہ کو داخل کرنے سے انکار کر دیا تو اوکاڑہ سے آنے والی ریسکیو 1122 کی ٹیم بھی واپس چلی گئی۔

عبدالوحید کے مطابق جب انھیں اوکاڑہ کے ڈی ایچ کیو ہسپتال سے لاہور ریفر کیا جا رہا تھا تب انھیں یہ بھی بتایا گیا کہ میو ہسپتال 10 سال سے کم عمر بچوں کے برن کیسز نہیں لیتا اس لیے جب جناح ہسپتال والوں نے انھیں میو ہسپتال ریفر کیا تو انھوں نے پہلے ایک جاننے والے کو معلومات کے حصول کے لیے میو ہسپتال بھیج دیا۔

عبدالوحید کے مطابق ان کا خدشہ درست ثابت ہوا اور میو ہسپتال کے ایمرجنسی سٹاف نے بھی یہی بتایا کہ وہ 10 سال سے کم عمر والے بچوں کو داخل نہیں کرتے۔

’جب تین جگہ سے یہ خبر مل گئی کہ میو والے بھی برن کیسز میں کم عمر بچوں کو داخل نہیں کرتے تو ہماری پریشانی مزید بڑھ گئی جس کے بعد ہم نے طے کیا کہ ابھی وہ سب لاہور میں ہی اپنے ایک عزیز کی طرف رکیں گے جس کے بعد کل صبح اس بچی کو لے کر میو جائیں گے پھر دیکھیں گے کہ آگے کیا بنتا ہے۔‘

اگلی صبح جب عبدالوحید کی آنکھ کھلی تو لاہور کے مقامی صحافی سدھیر چوہدری سے رات گئے ان کے رابطے کے نتیجے میں میڈیا پر یہ خبر نشر ہو چکی تھی اور متعلقہ حکام مسلسل انھیں کال کر رہے تھے کہ وہ بیٹی کو لے کر میو ہسپتال پہنچیں۔

یہ بھی پڑھیے

علیزہ کو میو ہسپتال کے برن یونٹ کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کر لیا گیا۔ عبدالوحید کے مطابق اگلی صبح ہسپتال کا ایم ایس بھی آگیا، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا وائس چانسلر اور ایوان وزیر اعلیٰ سے بھی حکام ان کی بیٹی کی عیادت کے لیے آگئے۔

لیکن علیزہ کے علاج میں جو ابتدائی تاخیر ہوئی اس کا نتیجہ اس کی موت کی صورت میں نکلا اور عبدالوحید اب تک اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں اگر جلنے والے بچوں کے لیے علاج کی سہولیات موجود نہیں تو کسی چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والے کیا کریں؟

لاہور میں بچوں کے امراض کے لیے مخصوص چلڈرن ہسپتال کو بنے 20 سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن وہاں برن یونٹ ابھی تک نہیں بن سکا۔

چلڈرن ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ہسپتال میں صرف بچوں کے جلنے کے کیسز کا علاج نہیں ہوتا اس کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہوتا ہے۔

’ہم نے برن یونٹ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کی تعمیر کا آغاز 2021 میں ہوا تھا اور ابھی تک سول ورک مکمل ہو چکا ہے۔ 40 کروڑ کی لاگت سے بننے والا برن یونٹ امید ہے اگلے آٹھ دس ماہ تک مکمل ہو جائے گا اور بچوں کا علاج یہاں بھی شروع ہو سکے گا۔‘

علیزہ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’چلڈرن ہسپتال میں تاحال ایسے کیسز کو ڈیل کرنے کی سہولت میسر نہیں تھی اور یہ متاثرہ خاندان کو بتا دیا گیا تو اس میں کیا برا کیا۔ ہمارے عملے کی اس سارے معاملے میں کوئی بدنیتی نہیں تھی بلکہ اس بچی کو فرسٹ ایڈ دے کر دوسرے ہسپتال ریفر کر دیا گیا تاکہ وہاں اس کا بروقت علاج شروع ہو۔‘

جناح ہسپتال

،تصویر کا ذریعہJinnah Hospital

بچوں کے لیے ایک بھی برن ہسپتال نہیں

ڈاکٹر مسعود صادق کے مطابق جب بھی برن کیسز ان کے پاس آتے ہیں تو وہ انھیں فرسٹ ایڈ دے کر لاہور کے میو اور جناح ہسپتال بھیج دیتے ہیں جہاں برن یونٹس کئی سال سے کام کر رہے ہیں۔

دوسری طرف جناح ہسپتال برن یونٹ پراجیکٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر معظم تارڑ بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کے یونٹ میں بھی آٹھ سال سے کم عمر بچوں کو داخل نہیں کیا جاتا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جناح ہسپتال میں برن یونٹ 2014 سے کام کر رہا ہے مگر جیسے اس ہسپتال میں بچوں کی دیگر بیماریوں کا علاج نہیں ہوتا اس لیے برن یونٹ بھی اس طرز پر بنایا گیا کہ یہاں صرف بڑی عمر کے مریضوں کا علاج ہی ہو سکے۔

تو کیا بچوں کے برن کیسز کے علاج کے لیے لاہور سمیت پورے صوبے میں کوئی مخصوص ہسپتال موجود ہے، اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر معظم تارڑ نے بتایا کہ بدقسمتی سے ایسا کوئی ہسپتال ابھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امیر آدمی کم ہی جلتا ہے اس لیے اس طرف توجہ کم ہے۔ ہمیشہ برن کیسز زیادہ ترغریب لوگوں کے آتے ہیں۔ اگر امیر لوگوں کے بچے اس سے متاثر ہوتے تو یقینا اس سے نمٹنے کے لیے بنیادی سہولیات بہت پہلے بن چکی ہوتیں۔‘

ڈاکٹر معظم تارڑ کے مطابق ’لاہور کے میو ہسپتال کے علاوہ ملتان اور فیصل آباد کے ہسپتالوں میں بھی برن یونٹس ہیں لیکن وہاں بھی سہولیات کی کمی ہے۔ میرے کچھ شاگردوں نے راولپنڈی میں ہولی فیملی ہسپتال میں بھی ایک چھوٹا سا برن یونٹ قائم کیا ہے۔‘

میو ہسپتال کے پلاسٹک سرجری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مستحسن بشیر کہتے ہیں کہ بچوں کے برن کیسز کے لیے سپیشلائزڈ علاج معالجے کی سہولیات ایک چھت تلے ہونی چاہیے جو تاحال ایک بھی ہسپتال میں دستیاب نہیں جبکہ میو ہسپتال کے برن یونٹ کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر مستحسن بشیر کا کہنا تھا کہ میو ہسپتال میں مانانہ بچوں اور بڑوں سمیت جلنے والے 70 سے 80 مریض آتے ہیں جبکہ اکتوبر سے جنوری کے درمیان یہ تعداد 150 تک پہنچ جاتی ہے کیونکہ سردیاں شروع ہو رہی ہوتی ہیں اور گرم پانی اور گیزر کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔

’حل صرف آگاہی میں ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ گہرے برن کے کیسز میں مریض کا بچنا مشکل ہوتا ہے۔ ’اگر کوئی بچہ تیس یا چالیس فیصد جل گیا ہے تو ایک پیڈریاٹک سرجن اس کا علاج برن یونٹ میں نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں تمام سہولیات میسر نہیں ہوتیں۔ ایسے مریض کے لیے سب سے پہلے اسے لائف سیونگ کنڈیشن میں لانا ہوتا ہے جس کے بعد پھر باقی علاج شروع ہوتا ہے اور اگر مریض 50 فیصد جل جائے تو بچنے کے چانسز کم ہو جاتے ہیں‘۔

میو ہسپتال کے پلاسٹک سرجری کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ برن کیسز اور آبادی کو مدنظر رکھ کر ہمیں کم از کم تین سپیشلائزڈ برن سنٹرز بنانے چاہیے جہاں بچوں کا علاج ہو۔

’جہاں جہاں بچوں کے ہسپتال موجود ہیں وہاں وہاں بچوں کے لیے صرف پیڈریاٹک برن یونٹ نہیں بلکہ برن سنٹرز موجود ہونے چاہیے تاکہ اگر سرجری کی ضرورت پڑے تو پھر وہاں علاج ہو سکے۔‘

ڈاکٹر مستحسن نے یہ بھی کہا کہ ’ہم جتنے مرضی ہسپتال بنا لیں لیکن اس معاملے سے نمٹنے کا حل صرف لوگوں کی آگاہی میں ہے۔ ہمیں قومی سطح پر ہر سال اکتوبر میں برن پریوینشن ڈے منانا چاہیے تاکہ لوگوں کو شعور دیا جاسکے کہ وہ کس طرح خود کو اور اپنے بچوں کو برن کیسیز سے بچا سکتے ہیں۔‘

ہسپتال، فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

علیزہ کے علاج میں مبینہ غفلت اور کوتاہی اور اسے بروقت سرکاری ہسپتالوں میں داخل نہ کرنے کا واقعہ سامنے آنے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ اور وزیر صحت پرائمری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر یاسمین راشد نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ صوبے کے تمام ہسپتالوں کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ، میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور پرنسپلز کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے پیڈریاٹک سرجری ڈیپارٹمنٹ میں 10 بیڈز سیرئس برن کے مریضوں کے لیے مختص ہوں گے۔

وزیر صحت کے مطابق ’جناح ہسپتال کے برنٹ یونٹ میں صرف بڑی عمر کے برن کیسیز ہی ڈیل کیے جاتے ہیں لیکن اب میں نے کہہ دیا ہے کہ یہاں بھی کم از کم 10بیڈز کم عمر کے برن کیسز کے لیے بھی مختص رکھیں‘

ہسپتالوں کے ریفرل نظام پر سوالیہ نشان

علیزہ کے چچا عبدالوحید کہتے ہیں کہ اگر چلڈرن ہسپتال میں جلنے والے مریضوں کے علاج کی سہولت ہی نہیں تھی تو پھر انہیں ڈی ایچ کیو اوکاڑہ سے وہاں کیوں ریفر کیا گیا اور اسی طرح اگر جناح ہسپتال میں بھی کم عمر بچوں کا علاج نہیں کیا جاتا تو انھیں وہاں بھی ریفر کرنے کا مقصد کیا تھا۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ’یہ کنفیوژن دور ہونی چاہیے کہ کس مریض کو کس ہسپتال لیجانا چاہیے تاکہ بچے اور متاثرہ خاندان مزید پریشانیوں کا شکار نہ ہوں۔‘

ڈاکٹر مستحسن بشیر کے مطابق علیزہ کو بھی میو ہسپتال لانے میں کم از کم دو دن ضائع کیے گئے۔

مریض کو ایک ہسپتال سے دوسرے میں منتقل کرنے لیے عام طور ریسکیو ایمرجنسی سروس 1122 استعمال ہوتی ہے لیکن اس ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی نظام ہی موجود نہیں جس کے ذریعے یہ پہلے سے معلوم ہو کہ کس مریض کو کس ہسپتال بھجوانا ہے اور کس ہسپتال میں اس مرض کے کتنے مریض پہلے سے زیر علاج ہیں۔

’میں نے محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ حکام کو لکھا ہے کہ ہمیں تمام ہسپتالوں کے متعلق معلومات شیئر کریں اس سے نہ صرف ریفرل سسٹم بہتر ہوگا بلکہ ہمارے سٹاف کو بھی پتا ہوگا کہ کس مریض کو کہاں لے جانا چاہیے۔‘

ڈاکٹر مستحسن بشیر بھی ریفرل سسٹم میں پائی جانے والی خرابیوں کو تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت سے مریض اس لیے بچ نہیں پاتے کیونکہ انھیں غلط ریفر کیا جاتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے جو بعض اوقات مریض کی جان تک لے لیتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریفرل سسٹم میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کیا جانا چاہیے اور ایسا نظام وضع ہونا چاہیے کہ تمام ہسپتالوں کو پتا ہو کہ کون سا مریض کس ہسپتال میں جائے گا اور کس ہسپتال میں کتنی مریضوں کی گنجائش ہے۔