انڈین نوجوان اپنے بوسیدہ آبائی گھروں کو کیسے بچا رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہDEWANJEA FAMILY
- مصنف, چیریلان مولان
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ممبئی
جب روحن دیوانجیا بچے تھے تو وہ اور ان کے کزن موسم سرما کی دوپہریں اپنے آبائی گھر میں گزارتے تھے اور وینس طرز تعمیر کی بنی کھڑکیوں کے رنگین شیشوں سے منعکس ہوتی روشنی سے محظوظ ہوتے تھے۔
انڈیا کے مشرقی شہر کولکتہ میں قائم 120 سالہ پرانے اس گھر ’جگت نواس‘ کو انھوں نے رواں ماہ دیکھا تو یہ کھڑکیاں دیکھ کر انھیں اپنے بچپن کی یاد آ گئی۔ ان کے خاندان کی جانب سے مقامی بلڈر کو یہ عمارت بیچے جانے کے بعد اب وہ بوسیدہ ہو چکی ہے۔
یہ گھر بیچنے کا فیصلہ قابل فہم تھا کیونکہ وہ اس تین منزلہ عمارت کا مزید خیال نہیں رکھ سکتے تھے۔
مگر اس عمارت کو گرائے جانے سے چند دن قبل دیوانجیا اور آرٹسٹ کے ایک گروہ نے اس شاندار گھر کو ایک خراج عقیدت پیش کیا اور اس گھر میں دو دن کے لیے ایک عوامی آرٹ ایونٹ کا انعقاد کیا تھا۔
’ہوا اور مٹی کا عجائب گھر‘ نامی اس آرٹ ایونٹ کو منعقد کرنے والی 32 سالہ آرٹسٹ اما بینرجی کا کہنا ہے کہ ’اس کا مقصد لوگوں کو اس شاندار گھر اور اس سے جڑی یادوں کے تجربے کے متعلق بتانا تھا۔
’ہم اس کے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانے سے قبل اس کی ایک نئی اور خوشگوار یاد کے طور پر محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔‘
لیکن ایسا کچھ کرنے میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔ بہت سے انڈین نوجوان اپنے صدیوں پرانے آبائی گھروں کی تزئین آرائش یا ان پر توجہ دیتے ہوئے انھیں ہمیشہ کے لیے گرائے جانے اور ان کی یادداشت سے ختم ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ نوجوان سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایسی عمارات کا حساب رکھ رہے ہیں جہاں کے بسنے والے خاندان اپنے گھروں کی دلچسپ کہانیاں بتا رہے ہیں۔ اور بعض اوقات وہ یہ سوچ بچار بھی کر رہے ہیں کہ ان عمارتوں کی دیکھ بھال کے لیے فنڈز کیسے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا بھر میں ایسے سینکڑوں آبائی گھر ہے، یہاں کے رہنے والے خاندانوں کے لیے یہ نہ صرف یادوں کا ایک خزانہ ہے، بلکہ سماجی اور معاشی طور پر ان کے اثر و رسوخ کی علامت بھی ہے۔
ممبئی میں قدیم عمارتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے آرکیٹکٹ ابھا نارین لامباہ کہتی ہیں کہ ان عمارتوں کی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہUMA BANERJEE
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ گھر نہ صرف اس دور کے فن تعمیرات کی عکاسی کرتے ہیں جس میں تعمیر کیے گئے بلکہ ہمارے مشترکہ ماضی کے متعلق بھی بتاتے ہیں۔‘
کولکتہ (سابقہ کلکتہ) جو کبھی ہندوستان میں برطانوی دور حکومت میں دارالحکومت ہوا کرتا تھا اپنے یورپی اور انڈین فن تعمیر کے امتزاج سے بنے ہوئے بڑے بڑے مینشن اور عمارتوں کے لیے مشہور ہے۔
آج بھی گوا میں بہت سی عمارتیں اس کے پورتگال سے تعلق کا ثبوت دیتی ہیں۔ جہاں پرتگال نے چار صدیوں سے زیادہ عرصے تک نوآبادیاتی علاقے کے طور پر حکمرانی کی ہے۔
بدقسمتی سے ان میں سے بہت سے گھر کھنڈرات کی حالت میں ہیں یا بیچے جانے یا گرائے جانے کے دہانے پر ہیں۔
ابھا لامبا کہتی ہیں کہ ’انڈیا نجی ملکیتی ورثے کی جائیدادوں کے لیے بہت کم مدد فراہم کرتا ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ان گھروں کو برقرار رکھنا اور بحال کرنا مشکل ہے۔ گھروں کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والا روایتی تعمیراتی میٹریل جیسے برما ٹیک ووڈ اور اینکاسٹک ٹائلز، اب مہنگی اور انھیں لانا مشکل ہے۔ جبکہ ان عمارتوں کو بنانے کی بہت سی طریقے بھی متروک ہو چکی ہیں۔
ایک اور چیلنج یہ ہے کہ والدین سے الگ رہنے کا رحجان عام ہے اور ایسے میں لوگ کام کے لیے ہجرت کر رہے ہیں۔ ایسے میں وہ لوگوں جو یہاں باقی رہ گئے ہیں جن میں سے اکثر بزرگ ہوتے ہیں ان کے لیے ان گھروں کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہے۔

،تصویر کا ذریعہMAKE IT HAPPEN
ایسا ہی مسئلے کا سامنا 54 سالہ راجکمار واسودیون کو ہے جو ریاست کیرالا میں چھ سو برس پرانے آبائی گھر کے مالک ہے جہاں کبھی پورا خاندان آباد تھا مگر آج وہ اور ان کی والدہ یہاں اکیلے ہیں۔
یہ گھر کیرالہ کے روایتی نالوکیٹو آرکیٹیکچرل انداز میں بنایا گیا ہے اور اس میں مرکزی کھلے صحن کے ساتھ گھر کے شمال، جنوب، مشرق، اور مغربی حصے شامل ہیں۔ واسودیون کہتے ہیں کہ وہ لکڑی سے بنے اس گھر کو دیمک کے حملے اور گلنے سڑنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کے لیے مدد حاصل کرنے کی تلاش انھیں دھرینی تک لے گئی، جو کیرالہ میں ماحولیات اور ورثے کے تحفظ کے لیے قائم ایک ٹرسٹ ہے جسے تین آرکیٹیکٹس چلاتے ہیں۔
2021 میں، دھرینی نے ’آرکیٹیکچر کے ذریعے ذمہ دار سیاحت‘ کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا جو سیاحوں کو ان گھروں میں رہنے کی دعوت دے کر نجی ثقافتی گھروں کے لیے فنڈز تیار اکٹھے کرتا ہے۔ جس کے بدلے میں، ان سیاحوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ جائیداد کے تحفظ کے لیے اپنی مہارت اور صلاحیتیں استعمال کریں۔
دھیرینی کی بانی اور 32 سالہ گسنی جارج کہتی ہیں کہ ’سول انجنیئرز اور فن تعمیری سے منسلک طلبا کو ان پرانے گھروں کی پیمائش کے حوالے سے ڈرائنگز بنانے، تعلیمی ماہرین کو تحقیق کرنے اور فوٹوگرافرز کو اس کو فوٹوز کے ذریعے محفوظ بنانے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ ان کی ٹیم اس گھروں کی تزئین و آرائش اور بحالی کے لیے مفت مشورے بھی دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہDHARINNI
اسی طرح گوا میں ’میک اٹ ہیپن‘ یعنی ممکن بنائیں کے نام سے ایک سیاحتی اقدام اٹھایا گیا ہے جسے 37 سالہ مورالی شنکر اور ان کی اہلیہ ماریہ وکٹر نے شروع کیا ہے اور یہ بھی ان آبائی گھروں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ لوگوں کو قدیم گھروں میں وقت گزارنے، مالکان سے ملنے اور ان کی کہانیاں سننے کی دعوت دیتے ہیں۔ ٹکٹوں کی فروخت سے ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ ان گھروں کی دیکھ بھال میں خرچ ہوتا ہے۔
ان میں چھ سو سال پرانی فرنینڈس حویلی بھی ہے اور یہ اس گروپ کے چندور ہیریٹیج ٹریل کا حصہ ہے۔
چندور کبھی کادابا سلطنت کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔ کادابا سلطنت ایک ہندو خاندان کی حکمرانی کا دور تھا جنھوں نے 10ویں صدی سے 14 ویں صدی تک گوا پر حکومت کی تھی۔
محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق کبھی یہ حویلی چندور قلعے کا حصہ تھی۔
یہاں آنے والے زائرین اس خاندان کے جانب سے لڑی جانے والی جنگوں، ان کی مسیحی مذہب میں تبدیلی اور ان کی مقامی آبادی میں اہمیت کے متعلق کہانیاں سنتے ہیں۔
وہ یہاں تہہ خانے میں بنے اسلحہ خانے، جنگوں میں استعمال ہونے والی تلواروں اور ایک سرنگ کو بھی دیکھتے ہیں جسے اب بند کر دیا گیا ہے جو کبھی یہاں سے فرار ہونے کا راستہ ہوا کرتا تھا۔
شنکر کہتے ہیں کہ ’کہانیاں ماضی کو محفوظ کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ اور یہ خاندان اور گھر گوا کی پیچیدہ تاریخ کو بیان کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔‘
اس کے علاوہ ان گھروں کو سنبھالے رکھنے کے کچھ اور کمرشل طریقے بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMAKE IT HAPPEN
گسنی جارج کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے اپنے وراثتی گھروں کو لگژری ہوٹلوں یا بوتیک ہوٹلوں میں تبدیل کر دیا ہے، لیکن ہر کسی کے پاس اس طرح کی اپ گریڈیشن کے لیے ضروری ابتدائی سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’آپ کے پاس اپنے پراپرٹی کو منافع بخش بنانے اور اچھے سے چلانے کے لیے کاروباری سمجھ بوجھ ہونا بھی چاہیے۔‘
پروجیکٹ دھرینی ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنے گھروں کو ہوٹلوں میں بدلنا نہیں چاہتے۔
گسنی جارج کہتی ہیں کہ ’ اس کا مقصد یہاں کی بودو باش کو بھی قائم رکھنا ہے جو ان گھروں کی ثقافت کا حصہ تھے نہ کہ ان کو بڑے سیاحتی مرکز میں ہی صرف تبدیل کر دیا جائے۔‘
وہاں کولکتہ میں دیونجیا کے پرانا گھر گر چکا ہے۔ لیکن جس طرح سے اسے خدا حافظ کہا گیا وہ برسوں یاد رکھا جائے گا۔
نومبر میں دو دنوں کے دوران، بینرجی اور دیگر فنکاروں نے جگت نواس اور اس کے باشندوں کے بارے میں کہانیاں سنانے کے لیے انٹرایکٹو پرفارمنس کا استعمال کیا۔ جاپانی طرز کی سیاہی اور برش سے بنی پینٹنگز نے میانمار میں دیونجیا کے دادا کے ماضی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ساڑھی سے بنا ہوا ایک خالی جھولا کئی جنموں اور اموات کی طرف اشارہ کرتا تھا جسے گھر نے دیکھا تھا۔ باڈی میسج نامی ایک پرفارمنس نے گھر کے ٹوٹنے کو کسی کے جسم کے ٹوٹنے سے تشبیہ دی تھی۔
دیوانجیا کا کہنا ہے ان کے خاندان اور دوستوں کے لیے جنھوں نے اس گھر کو دہائیوں پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑے دیکھا ہے اس طرح کا فیر ویل بہت پرسکون احساس تھا۔
ان کے ہمسایوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی گھر آنے والوں کو راستہ سمجھانے کے لیے ایک بڑی اہم نشانی کا کام کرتا تھا۔ ان کے بچپن کے دوستوں کے لیے یہ اپنے ماربل سے بنے فرش، آئیوری کے مجسموں اور اس کی اوپری منزلوں میں بد روحوں کی کہانیاں ایک عجوبہ تھا۔
دیوانجیا اور ان کا خاندان جگت نواس کے گرائے جانے سے کچھ عرصہ قبل یہاں سے منتقل ہو گئے تھے۔ خاندان کے اپنے علیحدہ گھروں میں منتقل ہونے کے سبب وراثت تقسیم ہو گئی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم انسانوں نے دوسرے گھر تلاش کر لیے ہیں لیکن میں سوچتا ہو کہ افواہوں کے مطابق جگت نواس میں رہنے والی جو روحیں تھی وہ کہاں گئی ہو گیں؟











