’ویٹ فار آرڈر‘: اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کا احوال

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ حانہ کے مقدمے میں دی گئی تین سال قید کی سزا کی معطلی کے بارے میں ان کی درخواست کی سماعت جب پیر کی صبح اسلام آباد ہائی کورٹ میں شروع ہوئی تو سب کو اور بالخصوص وکلا کو یقین ہو چلا تھا کہ آج عدالت چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے سزا معطل کر دے گی۔
یہ یقین اس وقت مزید پختہ ہوگیا جب سماعت شروع ہونے سے قبل ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے منھ سے یہ نکل گیا کہ آج سزا کی معطلی سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
دو رکنی بینچ کے سربراہ سے یہ ریمارکس سنتے ہی الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر معزز عدالت نے آج ہی اس درخواست پر فیصلہ سنانے کا ذہن بنا رکھا ہے تو پھر میں دلائل نہیں دیتا اور بہتر ہے کہ عدالت مجرم عمران خان کی سزا کی معطلی کے بارے میں دائر درخواست پر فیصلہ سنا دے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا مطلب تھا کہ دلائل سننے کے بعد اس درخواست پر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے جب دلائل دینا شروع کیے تو پھر دلائل دیتے ہی چلے گئے اور پی ٹی آئی کے وکلا جو کہ یہ ذہن بنا کر بیٹھے تھے کہ محض ایک ڈیڑھ گھنٹے میں الیکشن کمیشن کے وکیل اپنے دلائل مکمل کر لیں گے جس کے بعد تو انھیں جواب الجواب بھی دینے کی ضرورت نہیں ہوگی اور چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بینچ عمران خان کی سزا کی معطلی کے بارے میں فیصلہ سنا دے گا اور عدالت کا یہ فیصلہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے کسی حد تک ریلیف کا باعث بنے گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پی ٹی آئی کے وکلا کی جھنجھلاہٹ میں اس وقت اضافہ ہوا جب عدالت کے استفسار پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے دلائل کے دوران جو چھ نکات اٹھائے گئے تھے، وہ ان کا تفصیلی جواب دیں گے اور اس کے لیے انھیں مزید کچھ دن درکار ہوں گے۔
سردار لطیف کھوسہ جو عمران خان کی اس درخواست کی پیروی کر رہے ہیں، اُٹھ کر روسٹم پر آئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل جو دلائل دے رہے ہیں وہ فیصلے کے خلاف اپیل کے مرحلے پر آتے ہیں لیکن ان کی درخواست تو سزا کی معطلی کے بارے میں ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل اپنے دلائل میں اس بات پر زور دیتے رہے کہ الیکشن کمیشن سزا کی معطلی کے بارے میں دفاع کو نوٹس جاری کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیکشن کمیشن کے وکیل نے جب اپنے دلائل تین گھنٹے سے بھی زیادہ دے دیے تو عدالت نے امجد پرویز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے تو ابھی سزا کی معطلی کا ہی معاملہ ہے تو آپ اپنے دلائل اس حد تک ہی رکھیں اور انھیں مکمل کریں۔
عدالتی حکم کے باوجود امجد پرویز نے مزید چالیس منٹ تک دلائل دیے تو عدالت نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ’اپنے دلائل مختصر کریں ورنہ کھوسہ صاحب دوبارہ آجائیں گے۔‘ عدالتی ریمارکس پر کمرۂ عدالت میں قہقہہ بلند ہوا۔
عدالت نے جب عمران خان کی درخواست پر سماعت مکمل کی تو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وکلا کی ایک بڑی تعداد جو اس وقت کمرۂ عدالت میں موجود تھی اپنی نشستوں سے اُٹھ گئی۔ اس پر چیف جسٹس نے اونچی آواز میں انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیٹھے رہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سابق وزیر اعظم عمران خان کی دونوں بہنیں بھی پیر کو کمرۂ عدالت میں موجود تھیں اور انھوں نے اپنے بھائی سے اٹک جیل میں ملاقات کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور عدالت نے کہا تھا کہ وہ اس پر مناسب حکم جاری کرے گی۔
سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں عمران خان کو اٹک جیل میں ملنے والی سہولتوں کے بارے میں اٹارنی جنرل آفس کی طرف سے جمع کروائی گئی رپورٹ بھی زیر بحث رہی اور وکلا یہ تبصرہ کرتے رہے کہ عمران خان جیل میں ہونے کے باوجود بھی وہاں پر ’دیسی گھی میں پکا دیسی مرغ‘، ’دیسی بکرے‘ کھا رہے ہیں اور ’منرل واٹر‘ پی رہے ہیں۔
عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل بیرسٹر گوہر خان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان مفت کا نہیں بلکہ اپنے پیسوں کا کھانا کھاتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے جب وہ عمران خان کو ملنے اٹک جیل گئے تھے تو انھوں نے جیل کی انتظامیہ کو ’35 ہزار روپے‘ دیے تھے اور یہ رقم انھیں عمران خان کی طرف سے گذشتہ ہفتے کھانے کی مد میں ادا کیے گئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت مکمل کی تو چیف جسٹس نے اُٹھتے ہوئے کہا کہ ’ویٹ فار آرڈر۔‘
یہ سننے کے بعد پی ٹی آئی کے تمام وکلا کمرۂ عدالت میں ہی موجود رہے کہ ابھی اس پر عدالتی حکم آجائے گا اور سزا معطل ہو جائے گی لیکن عدالتی عملے نے وکلا کو بتایا کہ ان کی درخواست پر فیصلہ کل سنایا جائے گا۔











