آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعود شکیل نے انگلش ارمانوں پر پانی پھیر دیا
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
آف سٹمپ سے باہر پڑتی اس گیند کی فلائٹ بلے باز کو الجھانے کے لیے کافی تھی۔ عامر جمال مخمصے میں پڑ گئے اور عین آخری لمحے پر ان کے ہاتھ حرکت میں آئے مگر ان کے سنبھلتے تک ریحان احمد کی وہ گگلی بلے کا اندرونی کنارہ چھوتے ہوئے سٹمپس منتشر کر چکی تھی۔
اس وکٹ کے ساتھ ہی پاکستانی اننگز بھی اس گڑھے میں جا گری جہاں ایک روز پہلے انگلش اننگز گری تھی اور اسے نکالنے کو جیمی سمتھ کی اننگز جیسا جادو ناگزیر ہو گیا تھا۔
پاکستانی اننگز 90 رنز کے خسارے میں تھی اور باقی ماندہ تین وکٹوں کے عوض نہ صرف اسے یہ انگلش برتری ختم کرنا تھی بلکہ اپنی آخری اننگز کی متوقع کم مائیگی کے لیے بھی کچھ جمع کرنا تھا۔
سٹوکس کا خیال تھا کہ وہ بہت جلد پاکستانی اننگز کی بساط لپیٹ ڈالیں گے۔
سعود شکیل اگرچہ ڈٹے ہوئے تھے مگر سٹوکس کی حکمتِ عملی ان کی وکٹ بٹورنے سے زیادہ رنز روکنے پہ مرکوز ہو گئی اور یہیں سٹوکس سے غلطی ہو گئی۔
بلے کے اردگرد جارحانہ فیلڈنگ کا جھرمٹ سجانے کی بجائے سٹوکس نے فیلڈ پھیلانے کی یہ چال ایک لحاظ سے درست بھی تھی کہ دھیمے باؤنس کی اس پچ پہ وکٹوں سے بھی زیادہ اہم کرنسی وہ رنز تھے جن کا حصول یہاں سخت دشوار تھا۔
جو بیز بال اپروچ چار سے کم رن ریٹ کو کبھی خاطر میں نہیں لائی، اس کی اپنی اننگز بھی بمشکل رینگ کر اس مجموعے تک پہنچی تھی جو اگر برتر نہ سہی، مسابقتی ضرور تھا۔ اور جو مدافعت یہاں پاکستانی مڈل آرڈر سے متوقع تھی، وہ ریحان احمد کے پے در پے وار لے اڑے تھے۔
مگر سٹوکس یہ سمجھنے میں چُوک گئے کہ سعود شکیل ان بلے بازوں میں سے نہیں ہیں جو بوریت کے ہاتھوں اپنی وکٹ پھینک دیں گے۔ سو، جہاں بین سٹوکس نے ان کے سبھی بڑے سکورنگ شاٹ بلاک کرنے کی تدبیر اپنائی، وہیں سعود نے عاجزی سے وکٹوں کے بیچ دوڑے چلے جانے کی راہ نکالی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عہدِ حاضر کی ٹیسٹ کرکٹ میں وکٹوں کے بیچ دوڑنے کا اس قدر رواج باقی نہیں رہا جس پہ یہاں سعود عمل پیرا نظر آئے۔ یہ خاصی حیران کن بات تھی کہ ان کی سینچری میں کوئی دو تہائی رنز باؤنڈریز کے بغیر تھے۔
انگلینڈ کا یہ گمان ہی رہ گیا کہ دفاع کرنے کو جو رنز میسر تھے، وہاں وکٹ کی چال بازیاں خود ہی سعود شکیل کے دفاعی حصار میں کوئی شگاف ڈال دیں گی۔ لیکن فرنٹ فٹ ڈیفنس کی ٹھوس تکنیک کے سامنے انگلش سپنرز کی کوئی لینتھ کارگر نہ ہو پائی۔
یہ اننگز سعود شکیل کے لیے اشد ضروری تھی کہ وہی اس طرح کی پچ پہ سپن بولنگ سے نمٹ سکتے تھے۔ جو خلجان ان سے پہلے بلے بازوں کی شاٹ سلیکشن میں نظر آیا، وہ پاکستانی اننگز کو یکسر سعود کے ہی آسرے پہ چھوڑ گیا تھا۔
دو روزہ کرکٹ کے بعد اب یہ تو بخوبی واضح ہو چکا ہے کہ اگلے دو روز یہ پچ کیا کیا گل کھلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسی پچز پہ اننگز در اننگز بیٹنگ کا دشوار تر ہوتے جانا یقینی ہوتا ہے اور پاکستانی بلے بازوں کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ اپنے اسی موقع سے اتنی برتری سمیٹ لیتے جو آخری اننگز کا ہدف مختصر کر سکے۔
بین سٹوکس کی فیصلہ سازی اور سعود شکیل کے عزم نے پاکستانی لوئر آرڈر کو بھی جمنے کا خوب موقع فراہم کیا۔ پرانی ہوتی گیند کے ٹرن میں کمی آتی گئی اور نعمان علی کے بعد ساجد خان نے بھی اس کوتاہی کا بھرپور مداوا کیا جو دیگر پاکستانی بلے بازوں سے سرزد ہوئی۔
جہاں نعمان علی کے ہمراہ ساجھے داری میں سعود نے انگلش برتری مٹائی، وہیں ساجد خان کی دھواں دھار بلے بازی نے انگلش سپنرز کے قدم بالکل اکھاڑ دئیے اور چائے کے بعد پلک جھپکتے میں ہی پاکستان نے وہ ساری برتری واپس پا لی جو پہلے روز جیمی سمتھ نے چرائی تھی۔
اب انگلش ٹیم کے لئے میچ میں واپس آنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان کی برتری مٹانے سے پہلے ہی انگلش اننگز جو روٹ اور بین سٹوکس کو گنوا بیٹھی تو پھر تیسری دوپہر کی دھول اڑاتی پچ پہ انگلش ارمان بھی ہوا ہو سکتے ہیں۔