آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’لاش پر بنے ٹیٹو‘ جن کی مدد سے پولیس ملزم تک پہنچی
- مصنف, بھاگیہ شری راوت
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
انڈیا کے شہر ممبئی میں ایک ’سافٹ ٹچ سپا‘ سینٹر میں 23 سے 24 جولائی کی درمیانی شب ایک قتل ہوا۔
پولیس نے مقتول کے جسم پر بنے ٹیٹوز کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا اور بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ سپا سینٹر کے مالک نے ہی قتل کا حکم دیا تھا۔
پولیس اب تک تین ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے لیکن اس ٹیٹو پر ایسا کیا لکھا تھا کہ ورلی پولیس براہ راست ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی؟
مرنے والے کا نام گروسیداپا واگھمارے ہے، گرفتار ہونے والے ملزموں کے نام فیروز انصاری اور شکیب انصاری ہیں اور سپیری سپا سنٹر کے مالک کا نام سنتوش شیریکر ہے۔
واگھمارے 23 جولائی کو اپنی گرل فرینڈ کی سالگرہ منانے کے لیے سیون میں ایک شراب خانے میں گئے تھے۔ ان کے ساتھ سپا سنٹر کے دو کارکن بھی تھے۔
پارٹی ختم ہونے کے بعد تقریباً سبھی ساڑھے بارہ بجے سپا سنٹر پہنچے۔ اس وقت دونوں ملزمان فیروز اور شکیب انصاری نے اُن کا پیچھا کیا۔
واگھمارے کے ساتھ موجود سپا سنٹر کے دو کارکنوں کے جانے کے بعد ان دونوں نے گروسیداپا واگھمارے کو مار ڈالا اور یہ واقعہ نصف شب کے قریب پیش آیا۔
اس کے بعد 24 جولائی کی صبح ورلی پولیس کو واقعہ کی اطلاع ملی۔ ورلی پولیس نے سپا سنٹر میں تحقیقات کی اور لاش کو تحویل میں لے لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیٹو پر کیا لکھا تھا؟
گروسیداپا واگھمارے کو اس بات کا اندازہ تھا کہ اُن کی زندگی میں کچھ اچھا یا برا ہو سکتا ہے اس لیے انھوں نے اپنے جسم پر ٹیٹو بنوایا تھا۔
پوسٹ مارٹم کے دوران پولیس کو گروسیداپا واگھمارے کی دونوں رانوں پر ٹیٹو ملے جن میں لکھا تھا کہ ’میرے دشمنوں کے نام ڈائری میں درج ہیں‘ انھوں نے دونوں رانوں پر ٹیٹو بنوایا تھا کہ ’تحقیقات اور کارروائی کرو۔‘
ایک ٹیٹو میں 10 لوگوں کے نام اور ایک پر 12 لوگوں کے نام لکھے گئے تھے۔ اس میں سپا سنٹر کے مالک سنتوش شیریکر کا نام بھی لکھا گیا تھا جہاں گروسیدپا کا قتل ہوا تھا۔ اس لیے پولیس نے ان سے اس سلسلے میں تفتیش کی۔
ٹیٹو پر جو لکھا تھا اس کے مطابق جب پولیس نے واگھمارے کے گھر کی تلاشی لی تو انھیں کچھ ڈائریاں بھی ملی جن میں سبز، نیلے اور سرخ رنگوں میں بہت سی تفصیلات درج تھیں۔
اس میں سپا سنٹر سے ملنے والی رقم کے بارے میں بھی معلومات درج تھیں۔ اس سے پولیس کے لیے ملزمان تک پہنچنا آسان ہو گیا۔
پولیس نے ملزم کو پکڑا کیسے؟
ٹیٹو پر سپا سنٹر کے مالک سنتوش شیریکر کا نام تھا۔ چنانچہ پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا۔ بعد میں جب پولیس نے جائے وقوعہ پر لگے سی سی ٹی وی کو چیک کیا تو اس میں فیروز اور شکیب نظر آئے۔
دونوں قتل کے بعد موٹرسائیکل پر نکل گئے تھے۔
فیروز اس کے بعد اپنے گھر چلے گئے جب کہ شکیب نے دہلی کے لیے ٹرین پکڑی۔ ان دونوں نے گروسیداپا کا پیچھا کرتے ہوئے سیون میں تمباکو خریدا تھا اور آن لائن ادائیگی کی تھی۔ اس سے پولیس کو ملزم کا نمبر ملا۔
پولیس نے دونوں ملزمان کی تلاشی لی تو پتہ چلا کہ شکیب ٹرین میں تھا۔ شکیب کو راجستھان کے قریب سے گرفتار کیا گیا جبکہ فیروز انصاری کو نالاسوپارہ سے گرفتار کیا گیا، پولیس نے ان کی تصویر ریلوے پولیس کو بھیج دی۔
قتل کی وجہ کیا بنی؟
واگھمارے ممبئی اور اس کے آس پاس کے سپا مالکان سے بھتہ طلب کرتے تھے۔ واگھمارے نے ورلی میں سافٹ ٹچ سپا سنٹر کے مالک سنتوش شیریکر سے بھی تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
واگھمارے اکثر پیسے کے لیے شیریکر کو پریشان کرتے تھے۔ ان دونوں میں جھگڑا بھی ہوا۔
یعنی سپا سنٹر کے مالک سنتوش شیریکر واگھمارے کی بھتہ خوری سے تنگ آچکے تھے۔
اسی وجہ سے انھوں نے فیروز انصاری اور شکیب انصاری کو واگھمارے کو قتل کرنے کے لیے معاوضہ دیا تھا۔ اس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ دونوں نے سپا سنٹر میں گھس کر واگھمارے کا قتل کر دیا۔
بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر آف پولیس دتا نالاودے نے بتایا کہ اس معاملے میں سنتوش شیریکر، فیروز اور شکیب کو گرفتار کیا گیا ہے۔