گجرات کے فسادات اور نفرت کی سیاست کا عروج: ’آپ نے مودی کو بچایا۔۔ ایل کے اڈوانی رونے لگے‘

گجرات کے2002 کے فسادات کے وقت سلمان شیخ (تبدیل کیا ہوا نام) کی عمر 35 سال تھی۔ وہ اپنے تین بچوں اور بیوی کے ساتھ راجکوٹ میں ایک اپارٹمنٹ میں رہتے تھے۔

سلمان کا فلیٹ گراؤنڈ فلور پر تھا۔ اس اپارٹمنٹ میں یہ واحد مسلمان خاندان تھا۔ باقی فلیٹس میں ہندو خاندان رہائش پذیر تھے۔ 27 فروری 2002 میں فسادات شروع ہونے کے بعد راجکوٹ میں بھی خوف کا ماحول تھا۔ سلمان شیخ بھی ڈرے ہوئے تھے۔

سلمان شیخ سے جب یہ پوچھا کہ کیا ہندوؤں میں واحد مسلم خاندان ہونے کی وجہ سے وہ ڈرے ہوئے تھے؟ سلمان شیخ کہتے ہیں، ’اپارٹمنٹ کی اوپری منزل پر ایک ہندو خاندان رہتا تھا وہ ہر رات ہمیں اپنے گھر میں پناہ دیتے تھے۔ کئی راتیں ہم پورے خاندان کے ساتھ ان کے گھر میں سوتے بھی رہے ہیں۔

وہ گجرات حکومت کے لینڈ اینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں ڈرائیور تھے۔ ان کا نام بتانے کو دل کرتا ہے، لیکن مجھے ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے ان کے خاندان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اب وہ اس دنیا میں بھی نہیں ہیں۔ دو سال قبل ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

سلمان شیخ کہتے ہیں، ’راجکوٹ میں فسادات کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا لیکن پھر بھی ومہ میرے خاندان کی حفاظت کے بارے میں فکر مند تھے۔ 2002 سے پہلے، میں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا تھا کہ میں ایک مذہبی اقلیت ہوں، اس لیے مجھے ڈر کے رہنا چاہیے‘۔

انکا کہنا تھا ’ہم ہمیشہ ہندوؤں کے درمیان رہتے تھے اور کبھی عدم تحفظ کا احساس نہیں رکھتے تھے۔گجرات کے سوراشٹرا علاقے میں ہندو مسِلم کا کوئی احساس ہی نہیں تھا۔

2002 کے فسادات کا سلمان شیخ کی زندگی پر کیا اثر ہوا؟

وہ کہتے ہیں، ’اس کا اثر یہ ہوا کہ میں اس ہندو خاندان کا نام لینے سے ڈرتا ہوں جو حفاظت کے لیے ہر رات میرے خاندان کو اپنے گھر میں پناہ دیتا تھا۔ انہوں نے انسانیت کے لحاظ سے زبردست کام کیا ہے لیکن اس کے باوجود میں ان کا نام ظاہر کرنے سے ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے خاندان کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں۔ دوسری طرف میں اپنی شناخت ظاہر کرنے سے بھی ڈرتا ہوں۔ 2002 سے پہلے ایسا کوئی خوف نہیں تھا۔

سلمان شیخ کے دونوں بیٹے کینیڈا میں رہتے ہیں۔ دونوں ڈاکٹر ہیں۔ سلمان چاہتے ہیں کہ دونوں وہاں کی شہریت لے لیں۔

56 سالہ سلمان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے بیٹوں کے بغیر اکیلے زندگی گزاریں گے؟ تو ان کا جواب تھا، ’ہر ماں باپ اپنے بچوں کو اچھا ماحول فراہم کرنا چاہتا ہے، جہاں وہ محفوظ رہ سکیں۔ یہ میری مادر وطن ہے اور مجھے یہیں مرنا ہے‘۔

گزشتہ دو ہفتوں سے گجرات الیکشن کے حوالے سے میں مختلف علاقوں میں گھوم رہا ہوں۔ جس گاڑی میں ہم سفر کر رہے ہیں اس کا ڈرائیور ہندو ہے۔ جہاں جہاں بھی پل، فلائی اوور، نئی سڑکیں، ندی کے خوبصورت کنارے اور سٹیڈیم نظر آتے ہیں، وہ گاڑی کی رفتار دھیمی کرتے ہوئے جوش اور خوشی سے بتاتا ہے ’جناب دیکھیں یہ سب مودی جی نے کیا ہے۔ یہاں کوئی فلائی اوور نہیں تھا اس لیے بہت جام رہتا تھا۔ دیکھیں جناب یہ سٹیڈیم کتنا خوبصورت ہو گیا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غنڈہ گردی بالکل ختم ہو چکی ہے‘۔ میں نے پوچھا غنڈہ گردی کیسے ختم ہوئی؟ وہ بلا تاخیر بولا، ’2002 کے بعد غنڈہ گردی نہیں رہی۔ 2002 سے پہلے غنڈہ گردی اتنی تھی کہ نہ کوئی کاروبار کر سکتا تھا اور نہ ہی بہن بیٹیاں محفوظ تھیں‘۔

اس کا مطلب کیا تھا؟

احمد آباد میں مقیم سینئر صحافی راجیو شاہ کا کہنا ہے کہ ’آپ 2002 کے بعد گجرات میں ہونے والی تبدیلی کو اس طرح بھی واضح کر سکتے ہیں کہ جس شخص نے کسی کا گھر جلایا وہ آپ کو فخر سے بتا سکتا ہے کہ اس نے کیا کیا، لیکن جو فسادیوں کے خوف سے مسلمانوں کو اپنے گھر میں رکھتا ہے وہ یہ بات بہت ڈرتے ہوئے بتاتا ہے۔

راجیو شاہ کہتے ہیں، ’2002 کے فسادات کے بعد، بی جے پی گجرات میں اب تک کوئی الیکشن نہیں ہاری ہے۔ گجرات کے شہری ہندو متوسط طبقے نے 2002 کے فسادات کی کچھ زیادہ مخالفت نہیں کی۔ دوسری ریاستوں کے مقابلے گجرات میں اربنائزیشن بہت تیزی سے ہوا ہے اورمعاشی طور پرمتوسط طبقہ بھی ابھرا ہے۔

اربنائزیشن اور متوسط طبقے کے عروج کے درمیان براہ راست تعلق ہے۔ شہروں اور متوسط طبقے میں بی جے پی کی اچھی گرفت ہے۔ اس بارے میں نے کانگریس کے ایک سینئر رہنما سے پوچھا کہ گجرات کا انتخابی نتیجہ کیا ہوگا؟ ان کا جواب تھا ’شہر کی 60 سیٹیں بی جے پی کے لیے چھوڑ دیں اور 160 سیٹیں آدھی آدھی تقسیم کریں۔ گجرات انتخابات کا نتیجہ وہی رہے گا۔ شہری ہندو متوسط طبقے کو لگتا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کو ٹھیک کر کے رکھتی ہے‘۔ راجیو شاہ کہتے ہیں، ’گجرات میں کسی اپوزیشن پارٹی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ہندوؤں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرے کہ 2002 میں جو کچھ ہوا وہ غلط تھا۔ احمد پٹیل کہتے تھے کہ وہ ہار جائیں گے، اس لیے الیکشن لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کانگریس صدر بننے سے بھی انکار کر دیا۔ انکا کہنا تھا کہ اس کا منفی اثر پڑے گا۔ احمد پٹیل نے محسوس کیا کہ ان پر مسلمانوں کی خوشنودی کا الزام لگے گا۔

سوچئے کہ ہندو نواز ظاہر کرنے کا بی جے پی کا دباؤ کس حد تک کام کرتا ہے۔ عام آدمی پارٹی پر بھی اتنا دباؤ ہے کہ وہ نوٹوں پر گنیش اور لکشمی کی تصویریں لگانے کی بات کر رہی ہے۔

ریاست بہار میں فسادات کے بعد کانگریس کا صفایا ، گجرات فسادات کے بعد بی جے پی مضبوط

1989 میں بہار کے بھاگلپور علاقے میں ایک ہولناک فساد ہوا۔ اس فساد کے بعد کانگریس آج تک اقتدار میں واپس نہیں آسکی۔ فسادات کے وقت کانگریس کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ ستیندر نارائن سنگھ تھے۔ ستیندر نارائن سنگھ اس فساد کے بعد بہار کی سیاست سے غائب ہو گئے۔

تب راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے اور انہوں نے بھاگلپور کے اس وقت کے ایس پی کے ایس دویدی کا تبادلہ روک دیا تھا۔ دویدی پر فسادات کے دوران فسادیوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام تھا۔ تب ستیندر نارائن سنگھ نے راجیو گاندھی کے اس فیصلے پر ناراضی ظاہر کی تھی۔

ستیندر نارائن سنگھ نے کہا تھا کہ کے ایس دویدی کے ٹرانسفر کو روکنے سے مسلمانوں میں غلط پیغام گیا ہے۔ اسی طرح 1987 میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نارائن دت تیواری تھے اور اس وقت میرٹھ ضلع کے ہاشم پورہ علاقے میں 42 مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔ اس قتل عام کے بعد یوپی میں بھی کانگریس کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

بھاگلپور فسادات کے بعد بہار کے لوگوں نے کانگریس کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا۔ یوپی میں کانگریس کے ہاشم پورہ کے بعد بھی یہی حال ہوا۔ لیکن گجرات میں ایسا کیا ہوا کہ 2002 کے فسادات کے بعد بی جے پی کبھی نہیں ہاری اور نریندر مودی کی مقبولیت گجرات سے باہر بھی بڑھ گئی۔

معروف ماہر سماجیات اچیوت یاگنِک کہتے ہیں، ’گجرات میں متوسط طبقے میں ہندوتوا کو کافی عرصے سے مضبوط کیا جا رہا تھا۔ اسے کھاد اور پانی دینے کا کام کبھی نہیں رکا۔ گجرات میں فرقہ وارانہ سیاست کو مضبوط کرنے میں وہاں کے فرقوں کا بھی ہاتھ ہے۔ جیسے سوامی نارائن فرقہ اور سوادھیائے فرقہ۔

ان فرقوں کی وجہ سے ذات کا تصور کمزور ہوتا گیا۔ شہروں میں آنے کے بعد نسلی شناخت کمزور ہو جاتی ہے۔ اربانائزیشن کی وجہ سے ذات پات کے رشتے کمزور ہو گئے ہیں۔ ایسے میں جب لوگ شہروں میں آتے ہیں تو یہاں کے فرقے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہاں کے فرقے بالواسطہ طور پر ہندوتوا کی سیاست کو آگے لے بڑھا رہے ہیں۔

اچیوت یاگِنک کہتے ہیں، ’گجرات کے مقابلے بہار میں اربانائزیشن کی رفتار بہت سست ہے۔ اس لیے یہاں ذات پات کا سلسلہ مضبوط ہے۔ جیسے جیسے اربانائزیشن میں اضافہ ہوگا، ذات پات کا تعلق کمزور ہوگا۔ اس کا کوئی متبادل ہونا چاہیے۔ فرقہ ایک متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے اور وہ ہندوتوا کی سیاست کو بڑھاوا دے رہا ہے اور آر ایس ایس زمین پر مضبوط ہوتی جا رہی ہے ۔

اچیوت یاگنک کہتے ہیں، ’کانگریس نے اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اپنی تنظیموں کو مضبوط نہیں کیا۔ گجرات کانگریس میں جھنا بھائی درجی جیسے رہنما ہوا کرتے تھے۔ ان کے پاس گجرات کے کونے کونے کی معلومات تھی۔ وہ ذات پات کی مساوات کو انگلیوں پر گنتے تھے۔ کانگریس میں اب ایسے لیڈر نہیں ہیں اور نہ ہی کانگریس ان لیڈروں سے کچھ سیکھنے کو تیار ہے۔

گجرات کے ایک سینئر صحافی درشن دیسائی کہتے ہیں، ’کانگریس اپنے دور حکومت میں ہونے والے فسادات کو پالیسی اور فلسفے کی بنیاد پر جائز نہیں ٹھہرا سکتی حالانکہ بی جے پی بھی سرکاری طور پر پالیسی اور فلسفے کی بنیاد پر فسادات کو جائز نہیں ٹھہراتی، لیکن اس کا واضح ایجنڈا ہندوتوا ہے‘۔

’وہ ہندوتوا کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہیں۔وہ ہندوؤں کے درمیان گجرات فسادات کا جواز فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

اگر یہ پوچھاجائے کہ کیا آپ گجرات سے باہر بھی 2002 کے فسادات کی بات کریں گے، تو ہندوؤں کی اکثریت کہتی ہے کہ پہلے گودھرا کی بات کرو۔ گجرات فسادات کے بعد مودی نے عمل اور ردعمل کی بات کی تھی۔ لوگ مودی کے اس بیان سے بڑے پیمانے پر متفق نظر آتے ہیں کہ 2002 کے فسادات گودھرا کا ردعمل تھے۔

درشن دیسائی کہتے ہیں، ’کانگریس نہ تو اس طرح کے فساد کا جواز پیش کرنے کے قابل ہے اور نہ ہی اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بلکہ وہ فسادات میں ولن بن کر ابھرتی ہے۔ بھاگلپور ہو یا ہاشم پورہ۔ 2002 کے فسادات کے صرف دو سال بعد کانگریس مرکز میں برسراقتدار آئی لیکن جس طرح اسے گجرات فسادات کی تحقیقات کرانی چاہیے تھی، اس نے موقع ہاتھ سے جانے دیا اس کے برعکس کانگریس والے احمد پٹیل کا نام لیتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

صحافی پردیپ سنگھ کا خیال ہے کہ 2002 کے فسادات کے بعد نریندرمودی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔وہ کہتے ہیں، ’2002 کے بعد، انڈیا میں دوسرے درجے کے شہریوں کے طور پر نہیں رہنے دے گا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گجرات میں فسادات گودھرا کے بعد ہوئے تھے۔

ایسے میں بی جے پی کے لیے یہ بتانا آسان تھا کہ فسادات کیوں ہوئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ گجرات کے ہندو بہت مذہبی ہیں۔ وہ اپنی چیزوں پر بہت فخر کرتے ہیں۔ یوپی بہار کی طرح گجرات میں مسلمانوں کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ یعنی یہاں مسلمانوں کی آبادی کم ہے۔ آپ گجرات کو ہندوتوا کی تجربہ گاہ کہہ سکتے ہیں، لیکن یہاں بی جے پی نے اپنی تنظیموں کو سب سے زیادہ مضبوط کیا ہے۔ تاہم، گجرات کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور گجرات کے سینئر بی جے پی رہنما نتن پٹیل اس دلیل سے متفق نہیں ہیں کہ 2002 کے فسادات کے بعد گجرات میں کوئی تبدیلی آئی، جس سے جمہوریت کمزور ہوئی ہو یا کسی کے ساتھ امتیازی سلوک کی حوصلہ افزائی ہوئی ہو۔

وہ کہتے ہیں، ’ 2002 کے فسادات پر ’عدالت نے سب کچھ صاف کر دیا ہے۔ مجرموں کو سزا بھی مل گئی۔ مودی جی کی قیادت میں گجرات کی ہمہ گیر ترقی ہوئی ہے، اسی لیے یہاں بی جے پی مضبوط ہوئی ہے۔

2002 کے فسادات اور نریندر مودی کی مقبولیت

2001 میں 7 اکتوبر کو نریندر مودی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ مودی نے 24 فروری 2002 کو راجکوٹ سے اسمبلی ضمنی انتخاب جیتا تھا۔ مودی کے سیاسی کیرئیر میں یہ پہلا الیکشن تھا۔ تب جیت کا مارجن صرف 14700 ووٹ تھا۔ 27 فروری 2002 کو گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کے ڈبے میں آگ لگ گئی اور 59 کار سیوکوں کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد گجرات کے کئی علاقوں میں شدید فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ گجرات اسمبلی انتخابات دسمبر 2002 میں ہوئے تھے اور اس بار مودی نے راجکوٹ کے بجائے گاندھی نگر کے قریب مانی نگر اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑا۔ فروری میں مودی نے ضمنی انتخاب 14,000 ووٹوں سے جیتا تھا لیکن اس سال دسمبر میں انہوں نے کانگریس کے یتن اوجھا کو 75,331 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ 2007 میں مودی کی جیت کا فرق مزید بڑھ گیا۔ وہ 2007 میں منی نگر سے ہی 87,000 ووٹوں کے فرق سے جیتے تھے۔ 2012 کے گجرات اسمبلی انتخابات میں منی نگر سے مودی کی جیت کا مارجن 86,373 تھا۔بی جے پی 1995 سے گجرات میں انتخابات جیت رہی ہے لیکن سب سے بڑی جیت گجرات میں 2002 کے فسادات کے بعد اسی سال دسمبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ملی تھی۔

1995 میں بی جے پی نے 182 رکنی گجرات اسمبلی میں 121 سیٹیں جیتی تھیں۔ 1998 میں وسط مدتی انتخابات ہوئے اور بی جے پی نے 117 سیٹیں جیتیں۔ پھر دسمبر 2002 میں اسمبلی انتخابات ہوئے اور بی جے پی نے سب سے بڑی جیت حاصل کی۔

بی جے پی نے 127 سیٹیں حاصل کیں۔ اس نے 2007 میں 116 اور 2012 میں 115 نشستیں حاصل کیں۔ سب سے چھوٹی کامیابی 2017 میں ملی۔

2013 میں، بی جے پی نے مودی کو اپنے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیا، اور 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں، پارٹی نے گجرات کی تمام 26 لوک سبھا سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔2019 میں بھی بی جے پی نے اس جیت کو برقرار رکھا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر اور معروف سماجی سائنسدان گھنشیام شاہ کہتے ہیں، ’2002 سے پہلے گجرات میں بھی نریندر مودی کو کوئی نہیں جانتا تھا۔

مودی نے منصوبہ بندی سے اپنی سیاست کو آگے بڑھایا ہے۔ مودی نے مسلم مخالف سیاست کے ساتھ ساتھ کرپشن مخالف نعرے بھی لگائے۔ مودی نے کہا کہ وہ نہ کھائیں گے اور نہ کھانے دیں گے۔ متوسط طبقے نے اس سیاست کو پسند کیا۔ متوسط طبقے کو بھی لگا کہ مودی کا کوئی خاندان نہیں ہے تو وہ کرپشن کس کے لیے کریں گے۔ مودی نے فسادات کے حوالے سے عمل اور ردعمل کی بات کی تھی۔ لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ مودی کی مقبولیت صرف ہندوتوا سیاست کی وجہ سے بڑھی۔ مودی بھی ترقی کی بات کرتے رہے۔ مودی کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ جذبہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا۔ مودی کے لیے ہندوتوا ایک مشن ہے اور اقتصادی ترقی کے ساتھ گڈ گورننس کی بات کرنا اس مشن کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ساتھ ہی ہندوتوا ٹرمپ کارڈ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

مہاراجہ سیا جی راؤ یونیورسٹی میں سیاسیات کے سابق پروفیسر افتخار خان کہتے ہیں کہ 2002 کے فسادات کے بعد گجرات میں کچھ چیزیں طے ہو گئیں۔انکا کہنا ہے کہ ’اب یہ چونکانے والی بات نہیں ہے کہ ہندو گجرات میں مسلمانوں کو کرائے پر مکان نہیں دیں گے یہ اب عام لگتا ہے ، مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوگا، یہ بھی اب کوئی تعجب کی بات نہیں رہی۔ ’بی جے پی کے خوف کی وجہ سے ہر سیاسی پارٹی ریاست کے انتخابات میں مسلمانوں کو ٹکٹ دینے سے گریز کرے گی۔ مسلمانوں کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے کسی بھی جرم کے الزام میں برسوں تک قید کیا جا سکتا ہے۔ اگر متاثرین مسلمان ہیں اور مجرم ہندو ہیں تو مجرموں کو کسی خاص مذہب سے تعلق رکھنے کا فائدہ مل سکتا ہے۔ یہ ہم بلقیس بانو کیس میں دیکھ سکتے ہیں‘۔

سورت میں سوشل سائنس سٹڈی سینٹر کے پروفیسر کرن دیسائی کہتے ہیں، ’گجرات میں 2002 کے فسادات کے بعد لبرل سپیس ختم ہو گیا ہے۔ ہندوتوا کا نظریہ ہر علاقے میں گھر گھر پہنچ چکا ہے۔ بی جے پی نے انتخابی سیاست میں آمریت کو قابل قبول بنایا ہے۔ اٹل بہاری واجپائی اور پرمود مہاجن جیسے نسبتاً اعتدال پسند لیڈروں کے لیے بی جے پی میں کوئی جگہ نہیں ہے‘۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ مودی کو انتخابی سیاست میں جیت کی زبان پر عبور حاصل ہے اور اپوزیشن اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنے سے قاصر ہے‘۔ 28 فروری 2002 کو احمد آباد کے نرودا پاٹیہ اور آس پاس کے علاقوں میں فسادیوں نے اقلیتی فرقے کے 97 افراد کو قتل کر دیا تھا ۔ اس قتلِ عام میں 32 لوگوں کو مجرم قرار دیا گیا تھا ان میں مقامی رہنما منوج ککرانی بھی شامل تھے۔اس اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے منوج ککرانی کی بیٹی پائل کوکرانی کو ٹکٹ دیا ہے۔

سلیم شیخ نرودا پاٹیہ فسادات کا شکار ہیں۔ پائل ککرانی کو ٹکٹ دینے پر ان سے سوال پوچھا تو ان کا جواب تھا- پائل ککرانی کے والد نے 2002 کے فسادات میں غریب مسلمانوں کو مارنے کے لیے بہت محنت کی۔ ایسی حالت میں انہیں انعام تو ملنا ہی تھا۔ قانون کے مطابق یہ ٹکٹ مجرم کو نہیں دیا جا سکتا اس لیے ٹکٹ ان کی بیٹی کو دے دیا‘۔ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ اور 1995 میں پہلی بار بی جے پی کو اقتدار میں لانے والے شنکر سنگھ واگھیلا کا کہنا ہے کہ 2002 کے فسادات کے بعد اٹل بہاری واجپائی نریندر مودی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے، لیکن اڈوانی اڑ گئے تھے۔ واگھیلا کہتے ہیں، ’اپریل 2002 میں، بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ گوا میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں واجپائی نے مودی کو گجرات کی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کا ذہن بنا لیا تھا، لیکن اڈوانی تیار نہیں تھے۔ 2016 میں جب اڈوانی جی کی بیوی کملا جی کا انتقال ہوا تو میں ان سے ملنے گیا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے گوا میں مودی کو بچایا تھا اور اب پارٹی میں آپکی کیا حالت ہو گئی ہے؟ اڈوانی نے کچھ نہیں کہا اور رونے لگے۔