گجرات فسادات: گواہی دینے والے افراد اتنے برس بعد بھی خوف کا شکار کیوں ہیں؟

    • مصنف, روکسی گاگڈیکر چھارا
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، احمد آباد

سلیم شیخ سنہ 2002 میں انڈین ریاست گجرات میں ہونے والے فسادات میں نرودا پاٹیا کیس کے اہم گواہ ہیں۔

ان کی گواہی کے سبب احمد آباد کی خصوصی عدالت نے اس وقت کی بی جے پی کی رکن اسمبلی مایا کوڈنانی اور چار دیگر کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ شیخ نے شناختی پریڈ میں عدالت کے سامنے کوڈنانی کی شناخت کی تھی۔

اس مقدمے میں تین سو سے زائد گواہ تھے جن کی گواہی سپریم کورٹ کی قائم کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ریکارڈ کی تھی۔ زیادہ تر گواہ یا تو خود شکار تھے یا فسادات میں ان کے کسی رشتہ دار کی جان گئی تھی۔ ان میں سے کچھ لوگ شکایت کرنے والے بھی تھے۔

گجرات میں ہونے والے 'مسلم کش' فسادات میں ایک شکایت کرنے والی بلقیس بانو بھی ہیں جن کا ریپ کرنے والے اور جن کے خاندان کے متعدد افراد کو قتل کرنے والے ایک مجرموں کو گذشتہ دنوں انڈیا کے 76ویں یوم آزادی کے موقعے پر گجرات حکومت کی جانب سے معافی دے کر رہا کر دیا گیا۔

حکومت کی اس اقدام کی بہت سے گوشوں سے مذمت کی گئی ہے جبکہ ایک خاص طبقے کی جانب سے رہا کیے جانے والوں کا استقبال کیا گیا ہے۔

ایسے میں بی بی سی نے ان کچھ گواہوں سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہت سے لوگوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا جبکہ کچھ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

بلقیس بانو کیس میں 11 مجرموں کی رہائی کے بعد بلقیس نے ایک بیان جاری کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے فکرمند ہیں۔

ان کے قریبی لوگوں نے بتایا کہ ان کا خاندان زیادہ دیر تک ایک جگہ نہیں رہتا اور پچھلے دس سالوں میں وہ گھر بدلتے رہے ہیں۔ بلقیس نے اپنے بیان میں تمام 11 مجرموں کو واپس جیل بھیجنے کی اپیل کی ہے۔

’کبھی کبھی پچھتاوا ہوتا ہے‘

گجرات فسادات میں سلیم شیخ نے اپنا خاندان کھو دیا تھا اور 27 فروری سنہ 2002 کو کوڈنانی کو دور سے دیکھا تھا۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے کوڈنانی کو فسادیوں سے بات کرتے ہوئے دیکھا تھا، جنھوں نے علاقے سے بھاگنے کے بجائے مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔

انھوں نے کہا: 'میں نے شناختی پریڈ میں ان (کوڈنانی) اور ان کے چار حامیوں کی شناخت کی تھی۔ میرے بیان کے بعد انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔'

شیخ رکشہ چلاتے ہیں اور ان کے پانچ بچے ہیں۔ ان کی تین بیٹیاں شادی شدہ ہیں، ایک بیٹا کالج میں پڑھتا ہے اور دوسرا بیٹا بے روزگار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب انھیں اپنے خاندان کی فکر ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'میں نے آگے آ کر طاقتور لوگوں کے خلاف بیان دیا، وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ابھی میں نے اپنے ایک بیٹے کو دوسری ریاست بھیج دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔ کبھی کبھی مجھے نرودا پاٹیا کیس میں اہم گواہ بننے پر افسوس ہوتا ہے۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس چیز سے ڈرتے ہیں تو ان کا کہنا ہے کہ عمر قید کی سزا پانے والے لوگ اس علاقے میں رہتے ہیں اور جب بھی وہ آمنے سامنے ہوتے ہیں تو ان کے اشارے انھیں ڈرا دیتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جنھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن وہ ضمانت پر باہر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں ڈر ہے کہ انھیں کسی غلط کیس میں پھنسایا جائے گا، شیخ کہتے ہیں کہ یہ لوگ جیل سے باہر آ چکے ہیں اور اب بی جے پی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

بی بی سی نے اس بارے میں گجرات میں بی جے پی کے ترجمان یگنیش دوے سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ میں کسی چیز کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔

ایک گواہ بشیر خان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ملزمان کی حمایت کر رہی ہیں، جنھیں ان کی گواہی کے بعد جیل بھیج دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 'یہ سب کو معلوم ہے کہ انھیں بہت زیادہ سپورٹ مل رہی ہے، پہلے ایسا نہیں تھا۔ میں خوفزدہ ہوں کیونکہ میں نہ صرف گواہ ہوں بلکہ شکایت کنندہ بھی ہوں۔'

27 فروری سنہ 2002 کو جب ان کے علاقے میں فسادات پھوٹ پڑے تو رشید خان وہیں موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں: 'اس کے بعد میں نے آگے آنے اور قانونی طور پر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے شکایت درج کروائی، گواہ بنا اور انصاف کے لیے عدالت کے چکر لگاتا رہا کیونکہ تمام ملزمان جیل سے باہر آنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔'

20 سال میں دیوالیہ ہو گیا

بشیر خان کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ انھوں نے سڑک کے کنارے کھانے کا سٹال لگانے کی کئی بار کوشش کی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس اُنھیں بہت تنگ کرتی رہی کیونکہ انھوں نے پارٹی کے ایک بڑے رہنما کو جیل بھیجا تھا۔ خان نے اب آن لائن کھانے کی ترسیل کا کاروبار شروع کیا ہے تاہم مقامی پولیس انسپکٹر کے وی ویاس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ پولیس کسی کو ہراساں نہیں کرتی۔

ہم نے گلبرگ سوسائٹی کیس کے گواہوں سے بھی بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں بھی ایسی ہی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ایک گواہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقامی پولیس نے تیستا سیتلواڑ کی گرفتاری کے سلسلے میں کئی لوگوں کو پیش ہونے کو کہا ہے۔

خیال رہے کہ تیستا سیتلواڑ انسانی حقوق کی کارکن ہیں اور انھیں رواں سال 25 جون کو سنہ 2002 کے فسادات کے سلسلے میں شواہد تیار کرنے اور 'معصوم لوگوں' پھنسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نام نہ بتانے کی شرط پر گلبرگ سوسائٹی کے معاملے کے ایک گواہ کا کہنا ہے کہ وہ خوفزدہ ہیں، بہتر ہے کہ اس معاملے میں کچھ نہ کہا جائے۔

ایک اور گواہ نے بتایا کہ انھیں فسادات کے معاملے میں ایک شخص نے جو ضمانت پر باہر تھا غلط کیس میں پھنسا دیا تھا۔ گواہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ 'میں ہی وہ گواہ ہوں جس کی گواہی کی وجہ سے وہ جیل میں ہے اور وہ بلا وجہ مجھ سے جھگڑا مول لے رہا ہے، ہمیں مقامی پولیس پر بھروسہ نہیں ہے، اس لیے ہم ان کے پاس نہیں جاتے۔'

عمران قریشی نرودا گام کیس کے گواہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیس میں گواہ بننے کے بعد وہ کبھی اپنے آبائی گھر نہیں گئے۔ وہ کہتے ہیں: 'میں نے اپنے علاقے کے کچھ بہت بااثر لوگوں کے خلاف گواہی دی، میں سنہ 2002 میں بچ گیا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں دوبارہ بچ سکوں گا۔ اس لیے میں نے نرودا گام کے باہر کہیں اور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔'

گواہوں کے تحفظ سے متعلق سوالات

بشیر خان کو بھی کئی فسادات کے دیگر گواہوں کی طرح سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ ان میں سے کئی گواہوں کو سپریم کورٹ کے حکم پر تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ مسٹر خان کا الزام ہے کہ پولیس کی سکیورٹی ان کی زیادہ مدد نہیں کرتی کیونکہ ہر وقت کوئی بھی ان کی سکیورٹی میں موجود نہیں ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'وہ مہینے میں ایک بار مجھ سے ملنے آتے تہیں اور مہینے میں ایک یا دو بار مجھے فون کرتے ہیں۔ باقی وقت وہ میرے ساتھ نہیں بلکہ کہیں اور رہتے ہیں۔'

بی بی سی نے اس بارے میں احمد آباد شہر کے پولیس کمشنر سے بات کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور انھیں اس قسم کے الزامات کا علم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ان کے پاس یہ شکایات لے کر آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس سے متعلق معلومات اکٹھا کریں گے اور غلط پائے جانے پر سخت کارروائی کریں گے۔

فسادات کے متاثرین کا مقدمہ لڑنے والے ایک سینیئر وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ متاثرین اپنے کام کی جگہ یا کسی اور جگہ پولیس کی موجودگی میں بے چینی محسوس کرتے ہیں، وہ خود نہیں چاہتے کہ پولیس ان کے ساتھ رہے۔

وٹنس پروٹیکشن سکیم کے بارے میں بتاتے ہوئے وکیل شمشاد پٹھان نے کہا کہ مختلف کیسوں میں گواہوں کو مختلف تحفظ دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ انھوں نے فسادات کے بہت سے متاثرین کی جانب سے مقدمے کی پیروی کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے فسادات کے معاملے میں سی آئی ایس ایف کی جانب سے تحفظ فراہم کرایا جاتا تھا۔ لیکن بعد میں گجرات پولیس نے سکیورٹی فراہم کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ 'اصول کے مطابق گواہ کی حفاظت ہر وقت، ہر جگہ ہونی چاہیے۔'