’میری بھاری چھاتیاں اذیت کا باعث ہیں مگر میں انھیں کم نہیں کروا سکتی‘

،تصویر کا ذریعہMelissa Ashcroft
- مصنف, کلیئر تھامسن
- عہدہ, بی بی سی ، سکاٹ لینڈ
ایک خاتون جو اپنی چھاتیوں کے سائز کی وجہ سے کئی سالوں سے مستقل درد کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں کہتی ہیں کہ انھیں چھاتی کی کمی کی سرجری کروانا پہلے سے بھی زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے۔
میلیسا ایشکرافٹ کا کہنا ہے کہ ان کی بڑے سائز کی چھاتیاں ان کی زندگی کے کئی کاموں کو مشکل، تکلیف دہ اور پریشان کن بنا دیتی ہیں، یہاں تک کہ کبھی کبھار وہ اپنی نومولود بیٹی کو جھولے سے بھی نہیں اٹھا پاتیں۔
دو بچوں کی 30 سالہ ماں کو اس سال کے شروع میں بتایا گیا کہ ان کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) تقریباً 35 ہے، جو چھاتی کی کمی کی سرجری کے لیے این ایچ ایس کے مقررہ معیار سے زیادہ ہے۔
تاہم میلیسا کہتی ہیں کہ ان کی چھاتیوں کا سائز جو تقریباً 16 کلوگرام وزن تک ہے انھیں ورزش میں مشکل پیدا کرتا ہے جو ان کا وزن کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہMelissa Ashcroft
انھوں نے بی بی سی ریڈیو سکاٹ لینڈ کے مارننگ پروگرام کو بتایا کہ ’مجھے ورزش کرنا مشکل لگتا ہے کیونکہ میرے کندھوں اور کمر کے نچلے حصے میں درد ہوتا ہے۔‘
’پھر جب میں ٹریڈمل پر جاتی ہوں تو میں شرمندگی کے ساتھ ساتھ ایسا محسوس کرتی ہوں کہ جیسے لوگ مجھے بری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔۔۔ جبکہ میں صرف ورزش کرنا چاہتی ہوں، یہ سب نہیں چاہتی۔‘
اس کے بجائے میلیسا فٹ رہنے کے لیے تیراکی کا سہارا لیتی ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہ ان کے جوڑوں کے لیے نسبتاً آسان ہوتی ہے، لیکن پھر بھی کبھی کبھار وہ سوئمنگ سوٹ پہن کر خود کو جنسی نگاہوں کا شکار محسوس کرتی ہیں۔
میلِسا نے فٹ رہنے کے لیے اب سوئمنگ کا سہارا لیا ہے کیونکہ یہ جوڑوں پر نسبتاً کم دباؤ ڈالتی ہے۔ لیکن سوئمنگ کاسٹیوم پہن کر بھی وہ کبھی کبھی خود کو غیر ضروری طور پر بری نظروں کا شکار محسوس کرتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ’میں ایسی توجہ نہیں چاہتی۔ میں صرف چلتی پھرتی چھاتیوں کی جوڑی نہیں ہوں، میری ایک شخصیت ہے اور میں ایک حقیقی انسان ہوں۔‘
وہ کہتی ہیں ’یہ میرے لیے مذاق نہیں ہے، یہ واقعی بہت سنجیدہ اور پریشان کن ہے، بالکل کسی بھی قسم کے دائمی درد کی طرح۔‘
میلیسا پہلی بار 20 سال کی عمر میں چھاتی کے سائز میں کمی کے لیے اپنے ڈاکٹر کے پاس گئیں۔
لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا کہ اگر وہ یہ سرجری کرواتی ہیں تو ممکن ہے کہ وہ مستقبل میں اپنے بچوں کو دودھ پلانے میں مشکلات کا سامنا کریں۔
اب میلیسا کے دو بچے ہیں سات سالہ بیٹا اور نو ماہ کی بیٹی اور ان کی چھاتیاں حمل کے دوران مزید بڑھ گئی ہیں۔
انھوں نے درد کم کرنے کے لیے فزیوتھیراپی سمیت کئی چیزیں آزمائیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھیں ایک معمول کی زندگی گزارنے کے لیے چھاتی کی کمی کی سرجری کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہMelissa Ashcroft
عورتوں کو چھاتی کے سائز میں کمی سے کیوں منع کیا جاتا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
چھاتی کی کمی کی سرجری کے لیے این ایچ ایس کے معیار اس بات پر منحصر ہوتے ہیں کہ کوئی شخص کہاں رہتا ہے، لیکن بہت سی خواتین جیسے کہ میلیسا کو اس لیے انکار کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کا بی ایم آئی بہت زیادہ تھا۔
زیادہ بی ایم آئی رکھنے والے افراد کے لیے خطرات میں اینستھیزیا کے مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ زخم بھرنے، خون کے لوتھڑے بننے اور انفیکشن کے مسائل شامل ہیں۔
چھاتی کی کمی کی سرجری کے لیے اہل ہونے کے لیے مریضوں کو عام طور پر ایک سال تک اپنا بی ایم آئی 20 سے 27 کے درمیان برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
میلیسا کا کہنا ہے کہ وہ اپنا وزن کم کرنے میں کامیاب رہی ہیں کیونکہ حمل اور زچگی کے بعد ان کے ہارمونز متوازن ہو گئے ہیں لیکن وہ اس بات سے بے یقینی کا شکار ہیں کہ اتنی بھاری چھاتیوں کی وجہ سے وہ معیار پر پورا کیسے اتریں گی۔
گذشتہ دس برسوں میں اس بات پر بحث ہوتی رہی ہے کہ آیا بی ایم آئی مجموعی صحت ظاہر کرنے کا سب سے قابلِ اعتماد طریقہ ہے یا نہیں خصوصاً جب جسمانی ساخت، جیسے میلیسا کی ہے واضح طور پر عدم توازن کا شکار ہو۔
جِل بیئرڈ، جو کاسمیڈیکئر کی مالک اور سینٹ ایلنز ہاسپٹلز کی بانی ہیں، کہتی ہیں کہ اگرچہ میلیسا معیار پر پورا اتر بھی جائیں، تب بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ انھیں این ایچ ایس سے سرجری کی ضمانت نہیں مل سکتی۔
انھوں نے بی بی سی سکاٹ لینڈ کو بتایا کہ ’کووڈ سے پہلے کے ہزاروں مریض اب بھی سرجری کے انتظار میں ہیں اور این ایچ ایس اس وقت صرف انتہائی سنگین کیسز کو دیکھ رہی ہے۔‘
’این ایچ ایس کے وسائل لامحدود نہیں، انہیں ترجیحات طے کرنا پڑتی ہیں۔‘
’بی ایم آئی ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ اگر آپ انتہائی سنگین کیسز دیکھیں تو آپ کو سائز جی، ایچ یا ایم کپ والی عورتیں بی ایم آئی 30 سے کم کے ساتھ نظر نہیں آئیں گی۔‘
سکاٹش حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’بریسٹ ریڈکشن جیسی سرجریز تک طبی طور پر مناسب رسائی بہت اہم ہے۔ رسائی کا نظام منصفانہ، شفاف اور شواہد پر مبنی ہونا چاہیے۔‘
’نیشنل ریفرل پروٹوکول (این آر پی)، جسے ماہر ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے تیار اور منظور کیا ہے، وہ معیار بیان کرتا ہے جو مریض کو این آر پی کے تحت کسی بھی طریقۂ علاج کے لیے پورا کرنا ہوتا ہے۔
’یہ معیار طبی شواہد کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں۔ ان کا مقصد رسائی کو محدود کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ جن لوگوں کو ان طریقۂ علاج سے فائدہ ہو سکتا ہے، وہ فائدہ حاصل کر سکیں۔‘












