کیا انڈیا کے ساتھ تناؤ بنگلہ دیش کی قیادت کو پاکستان اور چین کے قریب لے آیا ہے؟

    • مصنف, مقیم الاحسن
    • مقام, بی بی سی بنگلہ

بنگلہ دیش میں گذشتہ سال اگست کے دوران طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں عوامی لیگ کی حکومت گرنے کے بعد ایک سال میں ملک کی سفارت کاری کے انداز اور موقف میں واضح تبدیلی آئی ہے۔

شیخ حسینہ کی حکومت جانے کے بعد بنگلہ دیش کا اپنے دیرینہ اتحادی ملک انڈیا کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔

گذشتہ ایک برس میں بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کو انڈیا سے دور اور چین کے قریب دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔

انڈیا کے بنگلہ دیش کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات بھی خراب ہوئے اور سرحد پر تصادم کی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔

بنگلہ دیش نے الزام لگایا ہے کہ انڈیا میں پکڑے جانے والے نام نہاد غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کو بنگلہ دیش کی سرحد میں دھکیلا جا رہا ہے۔

سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی گذشتہ ایک سال میں سب سے بڑی سفارتی تبدیلی اس کا ’ایک ملک کی خارجہ پالیسی‘ سے ہٹنا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر صاحب انعام خان نے بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بنگلہ دیش کی نئی حکومت پہلے کی نسبت زیادہ عملی ہو گئی ہے۔ کسی خاص ملک پر مرکوز خارجہ پالیسی سے ہٹنے کی وجہ سے بنگلہ دیش کی جغرافیائی اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی طرف سے گذشتہ سال کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں پر رپورٹ پروفیسر یونس کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔

اس کے علاوہ اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بنگلہ دیش تمام ممالک پر عائد محصولات سے کیسے نمٹے گا؟

تاہم پروفیسر محمد یونس نے روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر میانمار کی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اپنے پہلے سال میں سفارت کاری کے میدان میں کتنا کامیاب رہی؟

انڈیا کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری

گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں عوامی لیگ کی حکومت کے دوران انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات جن بلندیوں پر پہنچے تھے وہ 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ کی حکومت گِرنے کے ساتھ زوال کا شکار ہوئے۔

بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا میں اقلیتوں اور ہندوؤں کے خلاف حملوں اور مظالم کی خبروں اور افواہوں نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا۔

سابق سفارت کار ایم ہمایوں کبیر نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’بنگلہ دیش سے بھاگ کر انڈیا آنے والی شیخ حسینہ کے خلاف بنگلہ دیشی عدالتوں میں مقدمہ چل رہا ہے۔‘

’سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو کئی بار دلی میں سیاسی بیانات دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔‘

رواں برس اپریل کے دوران بینکاک میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس کے درمیان ملاقات سے معاملہ پھر زیر بحث آیا۔

اس کے علاوہ گذشتہ ایک سال میں دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔

گذشتہ ایک سال میں انڈیا اور بنگلہ دیش نے ایک دوسرے پر کئی تجارتی پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔

انڈیا نے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزا قوانین کو سخت کر دیا ہے۔ خاص طور پر شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سیاحتی ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔

انڈیا بہت کم بنگلہ دیشیوں کو علاج کے لیے طبی بنیادوں پر ویزے دے رہا ہے۔

اس سے قبل تقریباً 20 لاکھ بنگلہ دیشی ہر سال علاج، تعلیم، کاروبار اور سیاحت جیسے مختلف مقاصد کے لیے انڈیا آتے تھے۔

پہلے کے مقابلے ویزا ملنے کی شرح میں 80 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں اگرتلہ میں بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے دفتر پر حملے کے بعد بھی کافی غصہ دیکھا گیا تھا۔

بنگلہ دیش کا چین کی طرف بڑھتا جھکاؤ

اقتدار سے بے دخل ہونے سے پہلے اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے جولائی 2024 کے اوائل میں چین کا دورہ کیا تھا۔ عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پروفیسر محمد یونس نے اپنا پہلا سرکاری دورہ مارچ میں چین ہی کا کیا۔

اس دوران بنگلہ دیش میں چینی سرمایہ کاری، دریاؤں کے انتظام اور روہنگیا بحران جیسے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

بات چیت کے دوران چین نے کہا کہ وہ مونگلا بندرگاہ پر کام کرے گا۔ ماضی میں چین اور انڈیا اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اب یہ سارا کام اکیلے کر سکتا ہے۔

انڈیا کے سفر کے لیے ویزا کی مشکلات کی وجہ سے چین اب بنگلہ دیشی مریضوں کے لیے ایک نیا مرکز بننے کی کوشش کر رہا ہے۔

چینی حکومت نے بنگلہ دیشیوں کے علاج کے لیے کنمنگ میں چار ہسپتال نامزد کیے ہیں۔

بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے چین کے متعدد اقدامات میں بنگلہ دیشی سیاست دانوں، صحافیوں اور مختلف کاروباروں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملک کے دورے پر لے جانا شامل ہے۔

اس کے تحت گذشتہ سال چین نے بی این پی، جماعت اسلامی، این سی پی اور بائیں بازو کی تنظیموں کے رہنماؤں کو اپنے ملک کے دورے کی دعوت دی تھی۔

دوسرے لفظوں میں بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان سفارتی تعلقات کی کمی کا فائدہ چین نے اٹھایا ہے۔

پروفیسر صاحب انعام خان نے بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چین کے لیے بنگلہ دیش کی اہمیت پہلے بھی اتنی ہی تھی جتنی اب ہے۔

’تاہم انڈیا پر کم انحصار کی وجہ سے چین بنگلہ دیش کو خاص اہمیت دے رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ چین اس وقت نہ صرف حکومت بلکہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی خصوصی تعلقات استوار کر رہا ہے۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق چین بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو اسی سطح پر لے جانا چاہتا ہے جس سطح پر شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات تھے۔

بنگلہ دیش بھی چین کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جسے کچھ لوگ پروفیسر یونس کی حکومت کی سفارتی کامیابی سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہے ہیں۔ تاہم عوامی لیگ کے دور میں اور خاص طور پر جنگی جرائم کے مقدمات کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے۔

تاہم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد جس طرح انڈیا کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے اسی طرح پاکستان کے ساتھ تناؤ میں کمی آئی۔

دونوں ممالک کے درمیان اپریل میں خارجہ سیکریٹری کی سطح پر باضابطہ ملاقات بھی ہوئی۔

ڈیڑھ دہائی کے بعد ہونے والی اس ملاقات کو اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان تعلقات کی بحالی سمجھا گیا۔

اجلاس میں بنگلہ دیش نے پاکستان سے 1971 کی جنگ پر معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ تین زیر التوا مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔

گذشتہ سال جون کے دوران بیجنگ کے اجلاس میں بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں شریک تھے۔ اس دوران سہ فریقی اتحاد کی تشکیل پر بات چیت کی اطلاعات بھی آئیں۔ تاہم بعد میں وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ بنگلہ دیش اس اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔

بنگلہ دیش اور پاکستان نے 28 جولائی کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔

ملک میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی ہیں۔

پروفیسر صاحب انعام خان نے بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بیان بازی سے بھرے ہوئے ہیں۔ مستقبل میں شاید بنگلہ دیش اور پاکستان کاروباری پہلوؤں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے۔

امریکہ اور مغربی ممالک کا کیا موقف ہے؟

جب اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت گر گئی تو جو بائیڈن امریکہ میں برسرِ اقتدار تھے۔

عوامی لیگ کی حکومت کے دوران اس وقت کی بائیڈن انتظامیہ نے بنگلہ دیش میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے مسائل پر سخت موقف اختیار کیا۔ دسمبر 2021 میں پیرا ملٹری فورس پر پابندیاں عائد کر کے امریکہ نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا تھا جس سے اس وقت امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان جمہوریت اور انتخابات کے معاملات پر تناؤ واضح ہو گیا تھا۔

بعد ازاں 25 مئی 2023 کو امریکہ نے بنگلہ دیش کے لیے ویزا پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اس وقت کی شیخ حسینہ حکومت پر دباؤ میں ڈالا۔

اس وقت شیخ حسینہ اور ان کی کابینہ کے ارکان نے امریکہ پر کڑی تنقید کی تھی۔

شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے صرف ایک ماہ بعد بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے امریکہ کا دورہ کیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی پروفیسر یونس سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے بنگلہ دیش کے نئے اصلاحاتی پروگرام کے لیے ’امریکی حمایت جاری رکھنے‘ کا وعدہ بھی کیا۔

اس وقت بنگلہ دیش میں پروفیسر یونس کے اقتدار سنبھالنے پر امریکہ سمیت مغربی ممالک کی طرف سے حوصلہ افزا ردعمل ملا۔

تاہم اس سال جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد سے حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں، خاص طور پر جب انھوں نے امریکہ کو برآمد کی جانے والی بنگلہ دیشی مصنوعات پر محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم سابق سفیر ہمایوں کبیر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی تعلقات کا عکاس نہیں ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ نے بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں۔ ہمیں وہاں چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم خدشہ ہے کہ اس سے نہ صرف بنگلہ دیش، بلکہ کئی دوسرے ممالک بھی متاثر ہوں گے۔‘

اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے بنگلہ دیش میں گذشتہ سال جولائی اور اگست میں مظاہروں اور حکومت مخالف تحریک میں ہلاکتوں کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی تھی۔

اگرچہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے اقتدار سے ہٹائی گئی عوامی لیگ کو قصوروار ٹھہرایا لیکن بعض مبصرین اسے پروفیسر یونس کی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔