طالبان کی قانونی نظام میں تبدیلیاں، افغان خواتین اب جج بننے کی 'اہل' بھی نہیں
- مصنف, مامون درانی
- عہدہ, بی بی سی افغان سروس

افغانستان کے اقتدار میں طالبان کی واپسی کے تین سال بعد یہ دیکھا جا رہا ہے کہ انھوں نے قانونی نظام میں جو تبدیلیاں کی ہیں اس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کی زندگیوں پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے سخت گیر جج نہ صرف موجودہ قوانین کی پاسداری کر رہے ہیں بلکہ وہ ماضی کے سابقہ فیصلوں پر نظر ثانی کرنے اور انھیں الٹنے کے لیے اوور ٹائم کام کر رہے ہیں۔
قانونی نظام میں وسیع اقدام کے تحت وہ عام لوگوں کے لیے مفت اپیلیں پیش کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے دسیوں ہزار پرانے عدالتی مقدمات طالبان کی نافذ کردہ شریعہ (اسلامی قانون) کے تحت دوبارہ زیر سماعت ہیں اور خاص طور پر خواتین اس کا اثر محسوس کر رہی ہیں۔
پرانے دور حکومت میں دی گئی کچھ طلاقوں کو کالعدم قرار دیا جا رہا ہے، خواتین کو دوبارہ ناپسندیدہ شادیوں پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور خواتین ججوں کو قانونی نظام سے خارج کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ 'خواتین فیصلہ کرنے کی لیاقت نہیں رکھتیں یا اس کی اہل نہیں ہیں کیونکہ شرعی اصولوں کے تحت عدلیہ کے کام کے لیے اعلی ذہانت والے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
دوبارہ عدالت میں طلبی
طالبان کی اقتدار میں واپسی کے دس دن بعد 20 سالہ بی بی نازدانہ باورچی خانے میں اپنی والدہ کی مدد کر رہی تھیں کہ ان کے والد گھر آئے۔
وہ واضح طور پر پریشان نظر آ رہے تھے اور اس لیے ان کے ذرا قریب پہنچیں کہ وہ یہ سن سکیں کہ ان کے والد بڑے بھائی سے کیا کہہ رہے ہیں۔
نازدانہ کہتی ہیں: 'جب میں نے اپنا نام سنا تو میرا دل دھڑکنے لگا اور میں رو پڑی۔'
ان کے آبائی صوبے ارزگان میں طالبان کی عدالت ان کا مقدمہ دوبارہ کھول رہی تھی۔ انھیں اپنی طلاق کے دفاع کے لیے واپس بلایا جا رہا تھا وہ بھی ایک ایسے شخص کے خلاف جس سے وہ کبھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب نازدانہ صرف سات سال کی تھیں تو ان کے والد نے رضامندی ظاہر کی تھی کہ وہ خاندانی جھگڑے کو طے کرنے کے لیے اپنی بیٹی کے جوان ہونے پر اس کی شادی کر دیں گے۔ اس طرح کی شادی کو 'بری شادی' کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ رواج خاندان کے 'دشمن' کو 'دوست' میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
جیسے ہی نازدانہ 15 سال کی ہوئیں حکمت اللہ 'اپنی بیوی' کو گھر لینے آیا۔ لیکن نازدانہ نے فوراً علیحدگی کے لیے درخواست دائر کر دی اور خلع حاصل کر لیا۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نازدانہ کہتی ہیں: 'میں نے بار بار عدالت کو بتایا کہ میں اس سے شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
'تقریباً دو سال کی لڑائی کے بعد بالآخر میں نے مقدمہ جیت لیا۔ عدالت نے مجھے مبارکباد دی اور کہا کہ 'اب تم دونوں علیحدہ ہو گئے ہو اور جس سے چاہو شادی کرنے کے لیے آزاد ہو۔'
اس بات کا جشن منانے کے لیے اس کے گاؤں میں ایک اجتماع منعقد ہوا جس میں مقامی مسجد میں دوستوں اور پڑوسیوں کو کھانا کھلایا گیا۔
لیکن ایک سال بعد طالبان نے اقتدار سنبھالا اور فوری طور پر پورے ملک میں شریعت کی سخت تشریح متعارف کرادی۔
اس کے سابق شوہر اور اب طالبان کے نئے نئے رکن نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ سابقہ حکومت کے دور میں کیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ اس بار نازدانہ کو شریعت کے مطابق کارروائی سے خارج کر دیا گیا۔
نازدانہ کہتی ہیں: 'عدالت میں طالبان نے مجھ سے کہا کہ مجھے عدالت میں واپس نہیں آنا چاہیے کیونکہ یہ شریعت کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بجائے میرا بھائی میری نمائندگی کرے۔'
نازدانہ کے 28 سالہ بھائی شمس کا کہنا ہے کہ 'انھوں نے ہمیں بتایا کہ اگر ہم نے عمل نہ کیا تو وہ میری بہن کو زبردستی اس (حکمت اللہ) کے حوالے کر دیں گے۔'
شمس کے جج سے استدعا کرنے کے باوجود نئے فیصلے سے اس کی بہن کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا، عدالت نے پچھلے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور حکم دیا کہ نازدانہ کو فوری طور پر اپنے سابق شوہر حکمت اللہ کے پاس واپس جانا چاہیے۔
نازدانہ نے ملک سے فرار ہونے کے لیے اور وقت حاصل کرنے کے لیے فیصلے کے خلاف اپیل کی اور اپنے بھائی کے ساتھ وہ اپنا آبائی شہر چھوڑ کر پڑوسی ملک فرار ہو گیں۔

ارزگان میں جج نے میڈیا سے بات نہیں کی تو ہم جواب حاصل کرنے کے لیے دارالحکومت کابل میں طالبان کی سپریم کورٹ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
سپریم کورٹ کے میڈیا آفیسر عبدالواحد حقانی نے کہا کہ 'ہمارے ججوں نے تمام زاویوں سے کیس کا مطالعہ کیا اور حکمت اللہ کے حق میں فیصلہ دیا۔ پچھلی بدعنوان انتظامیہ کا حکمت اللہ اور نازدانہ کی شادی کو منسوخ کرنے کا فیصلہ شریعت اور نکاح کے قواعد کے خلاف تھا کیونکہ عدالت کی سماعت کے وقت حکمت اللہ موجود نہیں تھے۔'
ہم نے حکمت اللہ سے رائے لینے کی کوشش کی لیکن ہم ان تک نہیں پہنچ سکے۔
نازدانہ کا معاملہ ان 355,000 مقدمات میں سے صرف ایک ہے جو طالبان حکومت نے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نمٹانے کا دعویٰ کیا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر فوجداری مقدمات ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق ان میں سے 40 فیصد زمین کے تنازعات اور مزید 30 فیصد طلاق سمیت خاندانی امور سے متعلق ہیں۔
بی بی سی طالبان کی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکتا۔
انصاف کے نظام میں خواتین
جب طالبان اقتدار میں واپس آئے تو انھوں نے ماضی کی بدعنوانی کو ختم کرنے اور ’انصاف‘ فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔
طالبان کی سپریم کورٹ میں خارجہ تعلقات اور مواصلات کے ڈائریکٹر عبدالرحیم راشد کہتے ہیں: 'خواتین فیصلہ کرنے کی اہل نہیں ہیں کیونکہ ہمارے شرعی اصولوں میں عدلیہ کے کام کے لیے اعلیٰ ذہانت کے حامل افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔'
افغان سپریم کورٹ کی سابق جج فوزیہ امینی طالبان کی جانب سے ہٹائی جانے والی خواتین ججوں میں سے ایک ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بی بی نازدانہ جیسی خواتین کو قانون کے تحت تحفظ ملنا چاہیے۔
امینی کہتے ہیں کہ 'اگر کوئی عورت اپنے شوہر کو طلاق دے دیتی ہے اور عدالتی دستاویزات ثبوت کے طور پر دستیاب ہیں تو یہ حتمی ہے۔ قانونی فیصلے تبدیل نہیں ہو سکتے چاہے حکومت بدل جائے۔'
امینی کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین ججوں کو ہٹانے سے خواتین کس لیے نیا قانونی تحفظ رک جاتا ہے۔
'ہم نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر 2009 میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا قانون ہماری کامیابیوں میں سے ایک تھا۔ ہم نے خواتین کے لیے پناہ گاہوں کے ضابطے، یتیموں کی سرپرستی اور انسدادِ انسانی ٹریفکنگ قانون پر بھی کام کیا۔

افغانستان کے قانونی نظام میں ایک دہائی سے زیادہ کام کرنے کے بعد جج امینی کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب طالبان نے اقتدار سنبھالا تو انھین ان مردوں کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں جنھیں وہ پہلے سزا دے چکی تھیں۔
امینی کہتی ہیں: 'ہمارا سول کوڈ نصف صدی سے زیادہ پرانا ہے۔ یہ طالبان کے قیام سے پہلے ہی سے رائج ہے۔ طلاق سمیت تمام دیوانی اور تعزیراتی قوانین قرآن سے اخذ کیے گئے ہیں۔'
اب، طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سابق حکمران کافی اسلامی نہیں تھے۔
شریعت
طالبان کی سپریم کورٹ میں اور ہمیں ایک کمرہ دکھایا گیا جہاں عدالتی مقدمات کی فائلوں کے ڈھیر الماریوں پر رکھے تھے۔ یہ ایک چھوٹی سی دفتری جگہ ہے جہاں پچھلی حکومت کے عملے اور طالبان کی طرف سے تعینات کیے گئے نئے ارکان دونوں کی میزیں مشترکہ تھیں۔
ہمیں بتایا گیا کہ زیادہ تر مقدمات گذشتہ حکومت کے دوران سنائے گئے فیصلوں پر مبنی ہیں جنھیں نئی عدلیہ نے تازہ اپیلوں کے بعد انھیں دوبارہ کھول دیا ہے۔
عبدالرحیم راشد کہتے ہیں کہ 'سابقہ عدالتیں تعزیرات اور سول کوڈ کی بنیاد پر فیصلے کرتی تھیں۔ لیکن اب تمام فیصلے شریعت پر مبنی ہیں۔'
طالبان زیادہ تر حنفی فقہ کے قانون پر انحصار کرتے ہیں جو آٹھویں صدی کا ہے اور سلطنت عثمانیہ پوری اسلامی دنیا میں اس پر عمل در آمد کیا جاتا رہا ہے اور بعض اسلامی ممالک میں یہ آج تک رائج ہے۔

تذبذب کا شکار
پڑوسی ملک میں فرار ہونے کے بعد سے نازدانہ نے ایک سال تو دو مصروف سڑکوں کے درمیان ایک درخت کے نیچے ایک پناہ گاہ میں گزارا۔ وہ دستاویزات کا ایک بنڈل مضبوطی سے پکڑے ہوئے بیٹھی ہیں جو کہ ایک آزاد عورت کے طور پر ان کی شناخت کا واحد ثبوت ہیں۔
انھوں نے کہا: 'میں نے اقوام متحدہ سمیت مدد کے لیے کئی دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کسی نے میری آواز نہیں سنی۔ حمایت کہاں ہے؟ کیا میں ایک عورت کی حیثیت سے آزادی کی مستحق نہیں ہوں؟'









