پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات پر آمادہ مگر ’عمران خان کو مطمئن کرنا مشکل ہوگا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
طویل احتجاجی مہم اور حکومتی اداروں سے جھڑپوں کے بعد بالآخر پاکستان تحریک انصاف نے باضابطہ طور پر حکومت سے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک پانچ رُکنی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ لیکن پھر بھی فریقین کے درمیان مذاکرات کی فی الحال کوئی راہ نظر نہیں آ رہی۔
ابھی گذشتہ مہینے کی ہی بات ہے کہ پی ٹی آئی کے مظاہرین عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے دھرنا دینے اسلام آباد آئے تھے اوراس دوران پاکستانی دارالحکومت دو دنوں تک بند رہا۔ اس دوران پانچ سکیورٹی اہلکار اور پی ٹی آئی کے 12 کارکنان ہلاک ہوئے تھے۔
اس وقت بھی پی ٹی آئی کی جانب سے یہی کہا جاتا رہا کہ مذاکرات 'بااختیار' افراد سے ہوں گے اور یہاں بااختیار لوگوں سے مراد پاکستان کی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہی تھی۔
پھر ایسا کیا ہوا کہ چند ہی ہفتوں میں اچانک پی ٹی آئی کے مؤقف میں تبدیلی آ گئی اور انھوں نے حکومت سے مذاکرات کے لیے حامی بھرلی؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں جو ایک اور سوال سامنے آیا وہ یہ تھا کہ مذاکراتی کمیٹی بننے کے باوجود کوئی بات چیت کیوں نہیں ہو رہی؟
پی ٹی آئی اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین سے گفتگو کے نتیجے میں یہ بات دیکھنے کو ملی کہ فریقین ایک دوسرے سے بات چیت میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے۔
نہ ہی حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل دی ہے اور نہ ہی دونوں کے درمیان کوئی رابطے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم پاکستانی سیاست کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو کم ہوتا ہوا دیکھنے کی خواہش رکھنے والوں کو ایک امید کی کرن اس وقت نظر آئی تھی جب قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی ہمشیرہ کی موت پر تعزیت کرنے کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے علاوہ پی ٹی آئی کا وفد بھی آیا۔
لوگوں کو امید تھی کہ شاید اب قومی اسمبلی کے سپیکر کے دفتر سے مذاکراتی عمل شروع ہو سکے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت اتنے 'یوٹرن' لے چکی ہے کہ ان کی بات پر حکومت کو کوئی اعتبار نہیں ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جب تک پی ٹی آئی کی قیادت 9 مئی کے واقعات پر سرِعام معافی نہیں مانگتی اس وقت تک اس جماعت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔‘
اگرچہ حکومتی وزرا 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراؤ پر تحریک انصاف کی قیادت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تاہم خود تحریک انصاف نے اُن پُرتشدد واقعات سے لاتعلقی ظاہر کی تھی، بلکہ عمران خان نے عسکری تنصیبات سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر حملوں کو ’فالس فلیگ آپریشن‘ کہا تھا۔
ادھر پاکستانی سیاسی تجزیہ کار طلعت حسین کا بھی ماننا یہی ہے کہ 9 مئی کے واقعات پر کسی طور بھی مذاکرات نہیں ہوں گے اور 'ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے یہ پیغام واضح ہے۔'
رانا ثنا اللہ کے مطابق اگر حکومت اور پی ٹی آئی کی کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوں بھی جائیں تب بھی 'عمران خان کو مطمئن کرنا مشکل ہوگا کیونکہ اس جماعت میں اعتماد کا فقدان ہے۔'
پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم اور رانا ثنا اللہ دونوں نے تصدیق کی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان کوئی رابطے میں نہیں۔
ایک طرف تو پی ٹی آئی کی قیادت حکومت سے مذاکرات کی بات کر رہی ہے اور دوسری طرف جماعت کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں ایک درخواست دائر کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 26 نومبر کو احتجاج کے دوران ڈی چوک پر کارکنان کے خلاف کارروائی کا مقدمہ وزیر اعظم سمیت دیگر افراد کے خلاف درج کیا جائے۔
خیال رہے کہ گذشتہ مہینے پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت پر اسلام آباد کے ایک تھانے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے خلاف رینجرز کی مدعیت میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے آمادہ کیسے ہوئی؟
پی ٹی آئی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ بتاتے ہیں کہ ان کی جماعت 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کروانے کے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد حکومت نے عدلیہ سمیت دیگر اداروں کو اپنے 'تابع کرلیا ہے تو پھر ان واقعات سے متعلق عدالتی تحقیقات کروانے سے کیوں بھاگ رہی ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'عمران خان نے ہر ایک سے مذاکرات کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی ضرور بنائی ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائے۔'
تاہم پی ٹی آئی رہنما کے مطابق مذاکرات میں تمام ’سٹیک ہولڈرز‘ کو شامل کرنے سے ہی کامیابی مل سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیاسی صوتحال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار طلعت حسین کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار دراصل اسٹیبلشمنٹ سے بڑھتی ہوئی دوری کا نتیجہ ہے۔
'مذاکرات کی بات اس وجہ سے کی جا رہی ہے کہ ان (پی ٹی آئی) کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں اور ان کا مقصد اس بات سے توجہ ہٹانا ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر 26 نومبر کے واقعات میں پی ٹی آئی کے کارکنان ہلاک ہوئے ہیں یا ان کے کچھ لوگ لاپتہ ہوئے ہیں تو خیبرپختونخوا میں ذمہ داران کے خلاف مقدمات کیوں نہیں درج کروائے گئے؟‘
’خیبر پختونخوا میں عدلیہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ریلیف دے رہی ہے تو پھر 26 نومبر کے واقعات سے متعلق عدالتی کمیشن تشکیل دینے کے لیے کوئی درخواست کیوں دائر نہیں کی گئی؟‘
انھوں نے کہا کہ 'پی ٹی آئی کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ مذاکرات کی بات کرکے خود کو معقول جماعت بنائیں۔'
تاہم سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ’26 نومبر کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کے لیے رضامندی کا اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ 26 نومبر کا سخت حکومتی ردعمل ان کی سوچ میں تبدیلی کا سبب بنا ہے۔‘
'کیونکہ تحریک انصاف کی قیادت اس طرح کے حکومتی ردعمل کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ چونکہ اس لمحے پر اندرونی اختلافات، کارکنوں میں مایوسی کی وجہ سے تحریک کسی خونی انقلاب یا مزید جلاو گھیراؤ کی متحمل نہیں ہو سکتی اس لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔'
تاہم طلعت حسین کے مطابق پی ٹی آئی کا مقصد عمران خان کے خلاف درج مقدمات کو ختم کروانا ہے۔
'اگر پی ٹی آئی حکومت کے سامنے یہ مطالبہ رکھتی کہ کچھ انتحابی حلقے کھول دیے جائیں یا الیکشن ٹربیونلز جلد درخواستوں پر فیصلہ سنا دے پھر تو کہا جاسکتا تھا کہ حکومت ان کے مطالبات ماننے کو تیار ہے۔ لیکن جب یہ کہا جائے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تو یہ معاملہ تو خود حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔'
دیگر سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں اسٹیبلشمنٹ اب بھی پی ٹی آئی سے بات کرنے کو تیار ہے جس کی وجہ ملک کے معاشی حالات ہیں۔
ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ’ملک کے نامساعد معاشی حالات اور سیاسی عدم استحکام کے پیشں نظر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اس معاملے کو حل کرنے کی خواہش مند ضرور نظر آتی ہے۔
’لیکن اسٹیبلشمنٹ یہ بھی چاہتی ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کو اس قدر کمزور اور مجبور کر دیا جائے کہ وہ مذاکرات کی میز پر من پسند شرائط کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے عملی طور پر ممکن معاملات پر بات کریں۔'












