ڈائٹنگ اور نمک سے پرہیز سری دیوی کی موت کی وجہ بنے: بونی کپور

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈین اداکارہ سری دیوی کی موت بہت سے لوگوں کے لیے ابھی ایک معمہ ہے لیکن ان کے شوہر اور فلم ساز بونی کپور نے ایک حالیہ انٹرویو میں ایسے ہی ایک راز سے پردہ اٹھایا ہے۔
اگرچہ دبئی کے حکام نے کہا تھا کہ سری دیوی کی موت حادثاتی طور پر باتھ ٹب میں ڈوبنے سے ہوئی لیکن ان کے شوہر بونی کپور نے گذشتہ دنوں ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ڈاکٹروں نے صرف ڈوبنے پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھی جبکہ سری دیوی کی موت کے پس پشت ڈائٹنگ کے حوالے سے ان کا رویہ اور نمک سے پرہیز تھا۔
بہر حال اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ بیسویں صدی کے اواخر میں بالی وڈ کی سب سے کامیاب اور لاکھوں دلوں پر راج کرنے والی اداکارہ دبئی میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے چل بسیں۔
’دی نیو انڈین‘ کے صحافی روہن دوآ کے ساتھ بات چیت کے دوران فلم ساز بونی کپور نے کہا کہ ان کی موت ’قدرتی‘ نہیں تھی بلکہ ’حادثاتی‘ تھی اور یہ کہ انھیں ’سری دیوی کے قتل کے پریشان کن الزامات کو برداشت کرنا پڑا۔‘
انھوں نے کہا: ’یہ قدرتی موت نہیں تھی۔ یہ ایک حادثاتی موت تھی۔ میں نے اس کے بارے میں بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ میں نے موت کے بعد تفتیش کے دوران اس کے بارے میں تقریباً 24 یا 48 گھنٹے تک بات کی تھی۔ درحقیقت، افسران نے کہا کہ ہمیں انڈین میڈیا کے دباؤ میں ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور انھیں پتا چل گیا کہ انھیں قتل نہیں کیا گیا تھا۔ میں جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ سمیت ہر طرح کے ٹیسٹ سے گزرا۔ اور پھر جو رپورٹ سامنے آئی وہ واضح طور پر بتاتی ہے کہ یہ حادثاتی موت تھی۔‘

انٹرویو کے دوران انھوں نے خوراک میں نمک نہ چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے آپ ہوش کھو سکتے ہیں جیسا کہ سری دیوی کے ساتھ ہوا تھا اور وہ گر پڑی تھیں جس سے ان کا آگے کا ایک دانت ٹوٹ گیا تھا۔
’مسٹر انڈیا‘ فلم کے پروڈیوسر بونی کپور نے کہا کہ سری دیوی ’آن سکرین‘ اپنی شبیہہ سے متعلق بہت حساس تھیں اور وہ اپنی موت سے قبل بھی ڈائٹنگ پر تھیں۔
انھوں نے کہا: ’وہ اکثر بھوکی رہتی تھیں۔ وہ خوبصورت نظر آنا چاہتی تھیں۔ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی تھی کہ وہ سکرین پر اچھی نظر آئیں۔ مجھ سے شادی کے بعد وہ ایک دو موقعوں پر بلیک آؤٹ ہوئی تھیں اور ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انھیں لو بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ڈاکٹر انھیں کہتے کہ آپ کو لو بی پی کا مسئلہ ہے اس لیے آپ سخت ڈائٹ پر عمل پیرا نہیں ہو سکتیں اور نمک نہیں چھوڑ سکتیں۔‘
بونی کپور کا کہنا تھا کہ ’زیادہ تر خواتین سمجھتی ہیں کہ نمک سے بدن میں پانی رکتا ہے اور آپ پھولے نظر آتے ہو۔ یہ ایک وجہ تھی۔ میں بھی ان سے کہتا کہ نمک کو پوری طرح نہ چھوڑو۔ میں کہتا کہ سلاد کھاتے ہوئے اس میں تھوڑا سا نمک ضرور چھڑکیں۔‘
’یہ صرف فلموں کے لیے نہیں تھا جو وہ اس وقت کر رہی تھیں۔ وہ 45-46 کلو وزن تک آ گئی تھیں۔ آپ فلم انگلش ونگلش میں بھی اسے دیکھ سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSUJIT JAISWAL
'باتھ روم میں گری اور ان کے دانت ٹوٹ گئے'
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انھوں نے بتایا کہ سری دیوی کی موت کے بعد اداکار ناگارجن ان سے اظہار تعزیت کے لیے آئے تو انھوں نے بتایا کہ جب وہ ان کے ساتھ فلم کر رہی تھیں تو وہ کریش ڈائٹ پر تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’وہ باتھ روم میں گر پڑی تھیں اور ان کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور پھر مصنوعی کیپ لگائے گئے تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پنکج پراشر کی نامکمل فلم میں بھی ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ ناگارجن نے جو کہا میں اس سے واقف نہیں تھا لیکن پراشر کے حالات سے واقف تھا۔ میں سری دیوی سے ایسا کرنے کو نہیں کہہ سکتا تھا لیکن میں جانتا تھا کہ وہ سخت ڈائٹ کی پابندی کرتی ہے اور نمک چھوڑ دیتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اپنے ڈاکٹر سے بھی کہتے کہ وہ زور دیں اور میں خود بھی اس بات پر زور دیتا کہ وہ نمک نہ چھوڑیں۔ میں کھانے کی میز پر مزاق کرتا کہ 'بغیر نمک کا سوپ' اور 'بغیر نمک کا کھانا' لیکن بد قسمتی سے انھوں نے ہماری باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور پھر وہ جان لیوا واقعہ سامنے آ گیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی نے اس بارے میں ڈاکٹر منظر نسیم سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ نمک نہ لینے سے یا جسم میں سوڈیم کی انتہائی کمی سے بلیک آوٹ جیسے واقعات تو ہو سکتے ہیں لیکن اس سے موت واقع ہونا سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں ہے۔
بہر حال سخت ڈائٹ یا کیٹو ڈائٹ کے بارے میں ماہرین انتباہ جاری کرتے رہتے ہیں۔ اکتوبر سنہ 2020 میں بنگالی فلموں کی اداکارہ مشٹی مکھرجی کی گردے کی ناکامی کے سبب موت ہو گئی تھی اور ان کے نمائندے نے کہا تھا کہ کیٹو ڈائٹ کی وجہ سے ان کے گردے ناکام ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہر حال اس بارے میں ماہر غذا ڈاکٹر نوشین عباس نے بی بی سی اردو کے اعظم خان سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کیٹو ڈائٹ سے خالص غذاؤں کی طرف چلے جاتے ہیں، کریم اور گھی جیسی غذا کے استعمال سے فیٹس کو روک دیتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ لائف سٹائل نہیں بن سکتا ہے۔ ہمیشہ کے لیے اس پر عمل نہیں کر سکتے ایسا کرنے سے آپ جسم کو غیر متوازن کردیتے ہیں۔ ایسی غیر متوازن غذا جسم کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ غذائیت کے توازن کے بگاڑ کا ذریعہ ہوتی ہے۔
بہر حال سری دیوی کے شوہر بونی کپور نے کہا کہ وہ اس کے بعد سے بہت زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’میں جب کسی دوست سے یا ان کی بیوی سے ملتا ہوں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ اپنے بی پی کو نارمل رکھیں۔ آپ کی صحت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر آپ ڈائٹنگ بھی کر رہے ہیں تو انتہا پسندی سے بچیں ایسی شدید چیز سے بچیں جس سے آپ کے لیے ضروری چیز کو چھوڑنا پڑے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سری دیوی 13 اگست سنہ 1963 کو انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں پیدا ہوئی تھیں اور سنہ 1978 میں انھوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز فلم ’سولہواں ساون‘ سے کیا تھا۔
سنہ 2020 میں ریلیز ہونے والی ’مام‘ ان کی 300 ویں فلم تھی۔ سنہ 1986 میں صرف ہندی میں ان کی دس فلمیں ریلیز ہوئیں۔ انھوں نے اس ایک سال میں ایک درجن سے بھی زیادہ فلموں میں اداکاری کی تھی۔
فلم چال باز کے لیے انھیں پہلی بار بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ ملا لیکن اس سے قبل انھیں تمل فلموں کے لیے کئی بار بہترین اداکارہ کے ایوارڈز مل چکے تھے۔
ان کی مشہور ترین فلموں میں ’چاندنی‘، ’لمحے‘، ’مسٹر انڈیا‘، ’خدا گواہ‘ ’صدمہ‘ اور ’نگینہ‘ شامل ہیں۔
انھوں نے ہندی فلموں کے علاوہ جنوبی ہند میں تمل، تیلیگو، ملیالم، اور کنڑ زبانوں کی فلموں میں بھی کام کیا۔
سری دیوی نے فلم پروڈیوسر بونی کپور سے سنہ 1996 میں شادی کی تھی اور ان کی دو بیٹیاں خوشی اور جھانوی کپور ہیں۔ جھانوی کپور اب خود اداکارہ ہیں۔
سری دیوی کو 2013 میں حکومت کی جانب سے پدم شری اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ پانچ بار فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔
انھوں نے جب 90 کی دہائی میں اپنے فلمی کریئر کو الودع کہا تھا تو اس وقت ان کی فلمیں اچھی طرح سے نہیں چل رہی تھیں۔ لیکن اس طویل وقفے کے بعد جب وہ واپس آئیں تو اپنی اداکاری سے ایک بار پھر سے ہنگامہ مچا دیا تھا۔













