آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: خواتین کرکٹرز کے لیے مردوں جتنی میچ فیس مگر ’پکچر ابھی باقی ہے‘
- مصنف, جھانوی مولے
- عہدہ, بی بی سی
جمعرات 27 اکتوبر انڈین ویمنز کرکٹ کے لیے ایک زبردست خبر لے کر آیا۔ بورڈ فار کرکٹ کنٹرول ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری جے شاہ نے ٹویٹ کی کہ اب خواتین کرکٹرز کو بھی مرد کرکٹرز جتنی ہی میچ فیس ملے گی۔
جے شاہ نے ’کنٹریکٹ کرکٹرز کے لیے مساوی تنخواہوں کی پالیسی‘ کے نفاد کا اعلان کیا۔ اسے ’تفریق کے خاتمے کے لیے پہلا قدم‘ قرار دیتے ہوئے اُنھوں نے لکھا کہ ’مردوں اور خواتین کے لیے میچ فیس‘ برابر ہو گی ایسے وقت میں جب ہم انڈین کرکٹ کے صنفی مساوات کے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے ہی بی سی سی آئی نے اعلان کیا تھا کہ اگلے کرکٹ سیزن میں خواتین کا آئی پی ایل بھی منعقد کروایا جائے گا۔
اب تک خواتین کرکٹرز کو بین الاقوامی ون ڈے اور ٹی 20 کے لیے ایک لاکھ روپے اور ٹیسٹ میچ کے لیے چار لاکھ روپے مل رہے تھے۔
مگر اب اُنھیں ٹیسٹ میچ کے لیے 15 لاکھ روپے، بین الاقوامی ون ڈے کے لیے چھ لاکھ روپے اور ٹی 20 کے لیے تین لاکھ روپے ملا کریں گے۔
یہ خواتین کرکٹرز کی فیس میں بہت بڑا اضافہ ہے۔
’تاریخی فیصلہ‘
موجودہ اور سابقہ خواتین کرکٹرز نے اس فیصلے کا زبردست خیر مقدم کیا ہے۔ بی سی سی آئی کی انتظامی کمیٹی کی سابق رکن اور سابق کپتان ڈیانا ایڈلجی نے اس فیصلے کو خواتین کرکٹرز کے لیے ’دیوالی کا تحفہ‘ قرار دیا ہے۔
اُنھوں نے کہا: ’میں بی سی سی آئی کے اس اعلان سے بہت خوش ہوں اور جے شاہ، روجر بنی اور ایپکس کونسل کا اس تاریخی فیصلے کے لیے شکریہ ادا کرتی ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایڈلجی نے بی بی سی کو بتایا: ’اُنھوں نے خواتین کی کرکٹ کو دیوالی کا تحفہ دیا ہے اور میں خواتین کی کرکٹ کے لیے سوچنے پر ان کا شکریہ کرتی ہوں۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’خواتین کی آئی پی ایل اگلے برس سے شروع ہونے والی ہے۔ خواتین کی بین الاقوامی سطح پر کارکردگی اب ثمر لا رہی ہے۔ اب مجھے لگتا ہے کہ خواتین کی باری ہے کہ وہ بڑی آئی سی سی ٹرافی جیت کر بی سی سی آئی کو تحفہ دیں۔‘
اسی طرح سابق کپتان متھالی راج نے بھی ٹوئٹر پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے کہا: ’یہ انڈیا میں خواتین کی کرکٹ کے لیے ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ میچ فیس کا برابر ہونا اور اگلے برس سے آئی پی ایل بھی ہو گی، ہم انڈیا میں خواتین کے کرکٹ کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ شکریہ جے شاہ اور بی سی سی آئی اسے حقیقت بنانے کے لیے۔ میں آج بہت خوش ہوں۔‘
مساوی پالیسی کتنی مساوی ہے؟
بی سی سی آئی کی یہ مساوی تنخواہ کی پالیسی صرف ان خواتین کرکٹرز کے لیے ہے جن کے ساتھ بورڈ سالانہ کنٹریکٹ کرتا ہے۔ اگر ہم کنٹریکٹ کی بات کریں تو اس اعلان کے باوجود خواتین کو مرد کھلاڑیوں کے مقابلے میں کہیں کم پیسے ملیں گے۔
اس وقت ریٹینر گروپ میں خواتین کرکٹرز کو 50 لاکھ روپے ملتے ہیں، جبکہ گریڈ بی اور سی کی کھلاڑیوں کے بالترتیب 30 لاکھ اور 10 لاکھ روپے ملتے ہیں۔
مرد کھلاڑیوں کو چار زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اے پلس گریڈ کے کھلاڑیوں کو سات کروڑ، اے، بی اور سی گریڈ کے کھلاڑیوں کو بالترتیب پانچ، تین اور ایک کروڑ روپے ملتے ہیں۔
اس وقت گریڈ اے پلس میں تین اور گریڈ اے میں 10 مرد کھلاڑی ہیں جبکہ گریڈ اے میں صرف چھ خواتین کھلاڑی ہیں۔
چنانچہ مردوں کے مقابلے میں کہیں کم خواتین کنٹریکٹ کی حامل ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ بورڈ سے کنٹریکٹ میں بھی اُنھیں مردوں سے کہیں کم پیسے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے میچز کی تعداد پورے برس میں مردوں کے میچز سے کہیں کم ہوتی ہے۔
تو جہاں برابر میچ فیس ایک خوش آئند اقدام ہے وہیں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مزید کیا کیا جانا چاہیے۔
انڈیا میں حالیہ برسوں میں خواتین کی کرکٹ نے بہت ترقی کی ہے مگر مردوں کے مقابلے میں خواتین کے ٹورنامنٹس میں بہت فرق ہوتا ہے، حالانکہ یہ فرق اب بتدریج کم ہو رہا ہے۔
ڈیانا ایڈلجی کا کہنا ہے کہ آپ کو سب کچھ ایک ساتھ نہیں مل سکتا۔
انتظامی کمیٹی کے رکن کے طور پر ایڈلجی نے خواتین کی کرکٹ کو مردوں کے مقابل لانے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں۔
بی سی سی آئی میں ان کے دور میں کئی اقدامات اٹھائے گئے جن میں خواتین کھلاڑیوں کو مردوں کی طرح یکمشت الاؤنس، ٹیسٹ کھلاڑیوں کے لیے پینشن، سفری اور دیگر رہائش کی مساوی سہولیات شامل ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’بتدریج ہم اس مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں سینٹرل کنٹریکٹ کا معاملہ بھی حل ہو جائے گا۔‘
’پکچر ابھی باقی ہے‘
رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی پہلے ہی اس بات پر غور کر رہا ہے حالانکہ خواتین کو مردوں کی طرح مساوی کنٹریکٹس دلوانے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
مرد کرکٹرز کو زیادہ پیسے دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انھیں زیادہ سپانسرز ملتے ہیں اور ان کی برانڈ ویلیو خواتین کی کرکٹ سے زیادہ ہے۔
خواتین کرکٹرز حال ہی میں بی سی سی آئی کے ماتحت آئی ہیں اور انھیں بہتر سہولیات ملنی شروع ہوئی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے ان کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ مگر خواتین کرکٹرز کو مداحوں اور تماشائیوں کے علاوہ خود کھلاڑیوں سے بھی زیادہ سپورٹ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ڈیانا کہتی ہیں کہ ’خواتین کی آئی پی ایل براڈکاسٹ اور فرنچائزنگ، یہ سب خواتین کی کرکٹ کے لیے اچھی علامات ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر ہم خواتین کی کرکٹ کی اچھی مارکیٹنگ کریں اور کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی دیکھیں تو مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دن خواتین کی کرکٹ کے لیے کافی خوشگوار ہوں گے۔ بی سی سی آئی نے درست اقدامات اٹھائے ہیں مگر جیسے کہا جاتا ہے، پکچر ابھی باقی ہے۔‘
سنہ 2020 میں بی بی سی کی ایک تحقیق کے مطابق جب انعامی رقم کی بات آئے تو 85 فیصد انڈینز کا خیال ہے کہ مردوں اور خواتین کو مساوی آمدنی ملنی چاہیے۔ چنانچہ ملک بھر میں اسے خواتین کھلاڑیوں کے لیے ایک اچھی علامت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
دوسرے کھیلوں میں کیا صورتحال ہے؟
بلی جین کنگ کو اکثر کھیلوں میں خواتین کی غیر مساوی تنخواہ کے خلاف آواز اٹھانے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے 70 کی دہائی میں ٹینس میں مساوی تنخواہ کے لیے آواز بلند کی تھی۔
ان کی کوششوں کے باعث خواتین کو یو ایس اوپن ٹورنامنٹ میں مردوں جتنے پیسے دیے گئے اور بالآخر مردوں اور خواتین کو تمام چار گرینڈ سلیمز کی دونوں کیٹیگریز میں مساوی پیسے دیے گئے۔
مگر ایسا نہیں کہ ہر چھوٹی ٹورنامنٹ نے یہ قاعدہ اپنایا ہو۔ آج بھی کئی خواتین کو کنٹریکٹ میں پیسے کم دیے جاتے ہیں۔ ہاکی اور سکواش میں کھلاڑیوں کو مساوی رقم ملتی ہے تاہم سب سے بڑا فرق گولف، باسکٹ بال اور فٹ بال میں ہے۔
سنہ 2016 میں مساوی ادائیگی کے لیے ایک قانونی درخواست نے امریکی فٹ بال میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ اس وقت کی خاتون فٹ بالر ہوپ سولو امریکی فٹ بال فیڈریشن کے خلاف عدالت میں چلی گئی تھیں۔
امریکی مینز ٹیم اس برس ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 16 میں پہنچنے میں ناکام رہی تھی مگر اس کے باوجود اُنھیں خواتین کی فٹ بال ٹیم سے 70 لاکھ ڈالر زیادہ ملے جنھوں نے سنہ 2014 میں ملک کے لیے ویمنز ورلڈ کپ جیتا تھا۔
تنازعے کو حل کرنے کے لیے امریکی فٹ بال فیڈریشن نے مردوں اور خواتین کی قومی ٹیموں کو مساوی کنٹریکٹس کی پیشکش کی۔