عورت کو مکھی سے تشبیہ دینے پر تنقید: ’عدنان صدیقی کو تمغہ امتیاز کے سائیڈ ایفیکٹس شروع ہو گئے ہیں‘

عدنان صدیقی

گذشتہ روز پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پر میزبان ندا یاسر نے اپنے شو میں حال ہی میں ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے معروف پاکستانی اداکار عدنان صدیقی کو مدعو کیا۔

عدنان صدیقی شو میں ایک موقع پر اپنی دادی کے بارے میں بتانے لگے کہ والدہ کی وفات کے بعد ان کی پرورش دادی نے کی اور پھر اسی دوران ان کے ہاتھ پر مکھی بیٹھی جس پر انھوں نے معذرت کرتے ہوئے خواتین کو مکھی سے تشبیہ دے دی۔

خواتین کے بارے میں ایسی رائے کا اظہار کرنے پر سوشل میڈیا پر عدنان صدیقی پر شدید تنقید ہوئی، جس کے بعد عدنان صدیقی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پیغام لکھا۔

عدنان صدیقی نے لکھا کہ ’میں اپنے حالیہ تبصرے پر بات کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا مقصد مزاح تھا، اشتعال دلانا نہیں۔ استعارے جیسے ’Slippery as a snake‘ اکثر استعمال کیے جاتے ہیں۔ پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ میرے الفاظ کو غلط سمجھا گیا اور مجھے اس پر پچھتاوا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آگے بڑھتے ہوئے میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ میرے الفاظ وضاحت اور حساسیت کے ساتھ آگے پہنچیں۔‘

عدنان صدیقی نے پروگرام میں کیا کہا؟

ٹی وی پروگرام کے دوران میزبان ندا یاسر نے عدنان صدیقی کو کہا کہ ’مٹھاس آپ میں ہے یا نہیں، پتہ نہیں دوستوں کے لیے ہو گی لیکن عدنان صدیقی نے کہا ’مکھی کا مٹھاس سے کوئی تعلق نہیں۔‘

اور پھرعدنان صدیقی نے کہا ’میں ایک بات کہنے لگا ہوں اس کا برا نہیں مانیے گا۔ مکھی اور خواتین کی مثال ایک جیسی ہے، آپ جتنا خواتین کے پیچھے بھاگیں گے وہ اتنا دور بھاگیں گی۔ آپ جب ایسے بیٹھیں گے ناں تو ہاتھ پر آ کر بیٹھ جائے گی۔‘

بطور میزبان ندا نے انھیں روکا نہیں لیکن مکھی اور خواتین کا موازنہ کرتے ہوئے عدنان نے جو بھی کہا اس کے درمیان کچھ ادھورے اور کچھ مکمل جملے ضرور بولے۔

ندا نے کہا کہ ’اللہ رحم کرے۔۔۔ رمضان ہے۔۔۔ مجھے وائرل کروائیں گے آپ پھر سے۔۔۔ مجھے اتنے سٹریٹ فارورڈ لوگ نہیں چاہیے اپنے شو پر لائی۔۔۔ کچھ اور بول دیں گے تو میں پھنس جاؤں گی بھائی۔۔۔

ADNAN SIDDIQUE

،تصویر کا ذریعہADNAN SIDDIQUE

’بولنے والے کو جھجھک محسوس ہوئی نہ سننے والی کو اس میں قباحت نظر آئی‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یوٹیوب پر ایک دن کے اندر 70 ہزار سے زیادہ صارفین اس شو کو دیکھ چکے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عدنان صدیقی کے اس بیان پر شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔

صحافی سعدیہ احمد، جو صنفی برابری پر بھی کام کرتی ہیں، نے عدنان صدیقی کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ کے ڈرامے زیادہ تر عورتیں ہی دیکھتی ہیں اور اگر آپ انھیں مکھیوں سے تشبیہ دیں گے تو وہ آپ کو اپنا ہیرو کیسے بنائیں گی، اگر آپ ان کو مکھیوں سے تشبیہ دیں گے تو وہ بھی آپ کو چلتا پھرتا لال ترنگا کہیں گی۔‘

صارف مصطفیٰ عثمانی نے لکھا کہ ’عورت سے نفرت کے اظہار کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور اس قسم کے بیان معاشرے میں عورتوں کے لیے خطرناک رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

تاہم عاصمہ اعظم نے لکھا کہ گفتگو میں عورت سے نفرت کا اظہار مرد اور عورت دونوں ہی کر رہے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یاد رکھیے عورتوں سے نفرت کا رویہ صرف مردوں یا خواتین کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اکثر اوقات ایسا دونوں طرف سے ہو رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک عمومی رویہ ہے تبھی نہ بولنے والے (عدنان صدیقی) کو کوئی جھجھک محسوس ہوئی نہ سننے والی (ندا یاسر) کو اس میں قباحت نظر آئی۔‘

ملک رمضان نامی صارف نے اپنی ٹویٹ میں عدنان صدیقی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ’عدنان صدیقی ایک معروف اداکار ہیں، ڈراموں میں کام کرتے ہیں ان کا معروف ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ تو یاد ہو گا۔ آپ ان کی سوچ اور عقل کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہ خواتین کو ایک مکھی سے تشبیہ دیتے ہوئے فرما رہے ہیں جیسے آپ مکھی کے پیچھے بھاگتے ہیں تو وہ دور ہو جاتی ہے، اسی طرح خواتین بھی ان کی طرح ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

کچھ صارفین ایسے بھی ہیں جو ان کو حال ہی میں تمغہ امتیاز ملنے پر طنز کر رہے ہیں۔ جیسے خواجہ یاسین نے لکھا ’عدنان صدیقی کو تمغہ امتیاز کے سائیڈ ایفیکٹس ہونے شروع ہو گئے ہیں۔‘

سیماب سمجھتی ہیں کہ زیادہ تر مردوں کی عورت کے بارے میں ایسی ہی سوچ ہے۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’یہ ایک عدنان صدیقی نہیں پوری دنیا کے مرد حضرات کا مسئلہ ہے۔ خواتین کو کم تر سمجھنا اُن سے چھپی ہوئی نفرت کرنا۔ حقیقت یہی ہے کہ شاید عام طور پر مرد حضرات خواتین کو جنس سے آگے نہیں دیکھ سکتے۔ ظاہر ہے اچھے لوگ بھی ہیں لیکن میں نے زیادہ تر مرد ایسے ہی دیکھے ہیں۔ عورت کے بغیر گزارہ بھی نہیں اور اُس سے نفرت بھی کرنی ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

عالیہ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے عدنان صدیقی سے ایک ایسا سوال کیا گیا جس نے شاید یہ ساری بحث ہی سمیٹ دی۔

انھوں نے عدنان سے پوچھا کہ ’کیا وہ ایسا ہی موازنہ اپنے گھر کی خواتین کے لیے بھی کریں گے۔‘