کیا میسی ارجنٹائن کو تیسرا ورلڈ کپ جتوا سکیں گے یا فرانس مسلسل دوسری بار فاتح ہو گا؟

کیا لیونل میسی ارجنٹائن کے لیے ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں یا پھر کیلین ایمباپے فرانس کو مسلسل دو بار ورلڈ کپ کا فاتح بنانے میں مدد کر سکتے ہیں؟

18 دسمبر بروز اتواریعنی آج قطر کے سب سے بڑے سٹیڈیم لوسیل میں پاکستانی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے ارجنٹائن اور فرانس کے درمیان ورلڈ کپ کا فائنل مقابلہ ہو رہا ہے۔

’بیلن ڈی اور‘ ایوارڈ اپنے نام کرنے والے 35 سالہ میسی ابھی تک فٹبال میں سب سے بڑا انعام یعنی ورلڈ کپ کبھی نہیں جیت سکے۔

ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹنیز نے کہا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ فرانس فیورٹ ہے لیکن ہمارے پاس اب تک کا سب سے عظیم کھلاڑی ہونے کا فائدہ ہے۔

’ہم ہمیشہ یہ سننا پسند کرتے ہیں کہ مخالف پسندیدہ ٹیم ہے کیونکہ ہم کسی سے برتر یا کمتر محسوس نہیں کرتے لیکن، جیسا کہ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں، ہمارے پاس اب تک کا سب سے بڑا کھلاڑی ہے اور اچھے دفاع کے ساتھ، ہمارے پاس اپنے مقصد تک پہنچنے کے بہت سے مواقع ہیں۔‘

فرانس کے مینیجر دیدیئر دیسچیمپس نے اپنے ملک کو سنہ 1998 میں کپتان کی حیثیت سے ورلڈ کپ جیتنے میں مدد کی تھی اور پھر چار سال قبل روس میں ایک اور کامیابی کے لیے وہ فرانس کی ٹیم کے منیجر تھے۔

انھوں نے کہ کہ ’میں ارجنٹائن کو جانتا ہوں، دنیا بھر کے بہت سے لوگ اور شاید کچھ فرانسیسی لوگوں کو بھی یہ امید ہے کہ لیونل میسی ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں لیکن ہم اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرنے جا رہے ہیں۔‘

کیا سنہ 1986 کے بعد میسی ارجنٹائن کو پہلی بار ورلڈ کپ جیتنے میں مدد کر سکتے ہیں؟

فائنل میں گولڈن بوٹ جیتنے کی دوڑ میں ٹورنامنٹ کے سرفہرست دو گول سکوررز کو آمنے سامنے دیکھا جا سکتا ہے۔

میسی اور ایمباپے دونوں نے قطر میں پانچ پانچ گول کر رکھے ہیں جبکہ فرانس کے اولیور جیروڈ اور ارجنٹائن کے جولین الواریز چار چار گول کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

میسی نے ارجنٹائن کو برازیل میں سنہ 2014 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچنے میں مدد کی تھی لیکن بازی جرمنی نے صفر کے مقابلے ایک گول سے جیت لی تھی۔

لیکن معروف فٹبال کلب پیرس سینٹ جرمین کے کھلاڑی میسی قطر میں ارجنٹائن کی مہم کا محرک رہے ہیں۔

انھوں نے اپنے پہلے میچ میں ابتدائی پنالٹی کو گول میں تبدیل کیا اس سے پہلے کہ ان کے ملک کو سعودی عرب کے خلاف 2-1 سے شکست کا بڑا جھٹکا لگا اور پھر میکسیکو کے خلاف صفر کے مقابلے دو گول کی اہم جیت میں انھوں نے گول سکور کیا۔

ارجنٹائن کی پولینڈ کے خلاف دو صفر کی جیت نے انھیں گروپ سی میں سرفہرست کر دیا۔ پھر میسی نے 16 ٹیموں کے ناک آؤٹ راؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف 2-1 کی جیت میں بھی ہدف پر نشانہ لگایا اور گول کیا۔

پھر ارجنٹائن نے اپنے کوارٹر فائنل میں نیدرلینڈز کے خلاف میچ کے 82ویں منٹ تک صفر کے مقابلے دو گول کی برتری حاصل کیے رکھی کہ اس کے بعد ڈچ کھلاڑی واؤٹ ويگہورسٹ نے یکے بعد دیگرے گول کر کے میچ برابر کر دیا اور کھیل اضافی وقت میں چلا گیا۔

اور پھر وہ میچ بالآخر پینالٹیز میں چلا گیا لیکن مارٹینز نے دو گول بچا لیے اور ارجنٹائن آگے بڑھتا رہا کیونکہ پہلے میسی نے ایک گول کیا اور پھر مانچسٹر سٹی کے الواریز کے دو گول نے انھیں سیمی فائنل میں کروشیا کے خلاف 3-0 سے جیت دلا دی۔

ارجنٹائن نے 1978 میں ہوم گراؤنڈ پر اور 1986 میں میکسیکو میں ٹورنامنٹ جیتا ہے اور اتوار کو اپنی تیسری کامیابی کے لیے کوشاں ہے۔

مینیجر لیونل سکالونی نے کہا ہے کہ ’میں پہلے سے ہی جذباتی ہو رہا ہوں کیونکہ انھوں نے سب کچھ پورے خلوص کے ساتھ دیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم ٹائٹل جیتیں گے اور اگر ایسا نہیں بھی ہو سکا تو انھیں فخر ہوگا کیونکہ یہ لطف اندوز ہونے کا لمحہ ہے۔‘

فرانس کی تیاریوں میں بیماری رکاوٹ

23 سالہ ایمباپے ورلڈ کپ میں اپنی دوسری کامیابی کے پیچھے ہیں اور فرانس کو فائنل تک پہنچانے میں اب تک اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف اپنی 4-1 کی جیت میں ایک بار اور ڈنمارک کے خلاف 2-1 کی فتح میں دو بار گول کیا کیونکہ فرانس کا ابھی ایک ميچ باقی ہی تھا کہ وہ آخری 16 ٹیموں میں پہنچ گیا۔

اس کی وجہ سے ڈیسچیمپس کو اپنے کھلاڑیوں کو آرام دینے کا موقع ملا اور تیونس سے ایک صفر سے شکست کے باوجود وہ گروپ ڈی میں سر فہرست رہے جبکہ پولینڈ کے خلاف میچ میں ایمباپے نے تین میں سے دو گول کیے اور ایک گول کے مقابلے تین گول سے فتح حاصل کی۔

کوارٹر فائنل میں ان کا مقابلہ گیرتھ ساؤتھ گیٹ کی رہنمائی والی ٹیم انگلینڈ سے ہوا جس میں اورلین چومینی کے گول کے ذریعے فرانس نے برتری حاصل کی لیکن ہیری کین نے پنالٹی سے برابری کر دی اور پھر اولیور جیروڈ نے فرانس کو برتری دلا دی جبکہ کین دوسرا پنلٹی گول پوسٹ میں ڈالنے سے چوک گئے اور فرانس نے یہ میچ ایک کے مقابلے دو گول سے جیت لیا۔

یہ بھی پڑھیے

فرانس نے ٹورنامنٹ کے سرپرائز پیکج مراکش کو سیمی فائنل میں 2-0 سے ہرا کر سات ٹورنامنٹس میں چوتھی بار ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اس نے سنہ 1998 اور 2018 میں مقابلہ جیتا تھا جبکہ سنہ 2006 کے میں فائنل میں اسے شکست ہوئی تھی۔

لیکن بیماری کی وجہ سے ان کی تیاریوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ مڈفیلڈر ایڈرین ریبیوٹ، ڈیفنڈر ڈیوٹ اپامیکانو اور ونگر کنگسلے کومان بیماری کی زد میں آنے والوں میں شامل ہیں۔

ڈیسچیمپس نے کہا ہے کہ طہمارے ہاں فلو جیسی علامات کے چند کیسز سامنے آئے ہیں۔ ہم محتاط رہنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ مزید نہ پھیلے اور کھلاڑیوں نے میدان میں بہت محنت کی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی وجہ سے ان کے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچا۔‘

میچ سے متعلق حقائق

  • دونوں ٹیمیں اس سے پہلے ورلڈ کپ میں تین بار آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ ارجنٹائن نے 1930 اور 1978 میں دونوں گروپ میچ جیتے تھے، لیکن فرانس نے اپنے واحد ناک آؤٹ مقابلے میں سنہ 2018 میں آخری 16 میں 4-3 سے کامیابی حاصل کی تھی۔
  • ارجنٹائن اپنے چھٹے ورلڈ کپ کے فائنل میں مقابلہ کر رہا ہے، صرف جرمنی (آٹھ بار) اس سے آگے ہے۔ ارجنٹائن کو 1978 اور 1986 میں کامیابی ملی جبکہ 1930، 1990 اور 2014 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
  • میسی 1930 میں گیلرمو سٹیبل اور 1978 میں ماریو کیمپس کے بعد ورلڈ کپ میں گولڈن بوٹ جیتنے والے ارجنٹائن کے تیسرے کھلاڑی بن سکتے ہیں۔
  • فرانس سنہ 1998 کے بعد سے چوتھی بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا ہے۔ یہ اس عرصے میں کسی بھی دوسرے ملک سے دو گنا زیادہ ہے۔
  • فرانس کی ٹیم، اٹلی (38-1934) اور برازیل (62-1958) کے بعد مسلسل دو بار ورلڈ کپ جیتنے والی تیسری ٹیم بن سکتی ہے۔