ملتان ٹیسٹ میں انگلینڈ کو شکست: پاکستان کا ہوم گراؤنڈ پر فتح کے لیے تقریباً چار برس کا انتظار ختم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملتان میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میں سپنرز کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے ہوم گراؤنڈ پر 12 ٹیسٹ میچوں میں پہلی فتح حاصل کر لی ہے۔
297 رنز کے ہدف کے تعاقب میں تیسرے دن کے آخری سیشن میں دو وکٹوں کا نقصان اٹھانے والی انگلش ٹیم جمعے کو کھیل کے پہلے سیشن میں ہی بقیہ آٹھ وکٹوں سے محروم ہو گئی اور صرف 144 رنز ہی بنا سکی اور یوں 152 رنز سے فتح پاکستان کا مقدر بنی۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اپنی سرزمین پر آخری ٹیسٹ میچ فروری 2021 میں جنوبی افریقہ کے خلاف جیتا تھا۔
یہ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کی قیادت میں پاکستان کی پہلی ٹیسٹ فتح بھی ہے اور اس کے نتیجے میں انگلینڈ اور پاکستان کی ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی ہے۔
پہلی اننگز کے لیے پاکستان کے ہیرو ساجد خان نے انگلینڈ کی دوسری اننگز کے پہلے ہی اوور میں بین ڈکٹ کو آؤٹ کروا کے مہمان ٹیم کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی لیکن دوسری اننگز میں پاکستان کے سب سے کامیاب بولر نعمان علی رہے جنھوں نے آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جن میں جو روٹ، ہیری بروک اور بین سٹوکس جیسے اہم بلے باز بھی شامل ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے کسی ٹیسٹ میں میچ میں دونوں اننگز میں تمام وکٹیں سپنرز نے لی ہیں۔ نعمان علی نے اس میچ میں 11 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ساجد خان نو وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ ساجد خان کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
انگلینڈ کو اپنے کپتان سٹوکس سے امید تھی کہ وہ اسے مشکل حالات سے نکال پائیں گے کیونکہ وہ ماضی میں کئی بار اپنی کارکردگی سے ٹیم کو یقینی شکست سے بچا چکے ہیں لیکن جب نعمان علی نے انھیں سٹمپ کروا کر اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ لی تو انگلینڈ کی ٹیم کو ایک بڑا دھچکا لگا۔
ملتان میں دوسرا کرکٹ ٹیسٹ اسی پچ پر کھیلا گیا جس پرپہلا میچ ہوا تھا اور جہاں پہلا ٹیسٹ میچ ایک ہائی سکورنگ میچ ثابت ہوا تھا وہیں اس میچ کے آغاز سے ہی پچ سپنرز کے لیے موافق ثابت ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو کھیل کے تیسرے دن گرنے والی 16 وکٹوں میں سے 13 سپنرز نے حاصل کی تھیں اور جمعے کو بھی اب تک تمام وکٹیں سپنرز کے ہی حصے میں آئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال رہے کہ پاکستان نے اس میچ میں صرف ایک فاسٹ بولر عامر جمال کو ٹیم میں شامل کیا اور ٹیم میں تین سپنرز زاہد محمود، نعمان علی اور ساجد خان کو جگہ دی گئی تھی۔
ملتان کی پِچ پر سوشل میڈیا پر اتنی بات چیت ہوئی کہ میچ شروع ہونے سے پہلے انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اسے ’چھٹے روز‘ کی پِچ قرار دیا تاہم بعد میں یہ پوسٹ ایکس سے ڈیلیٹ کر دی گئی۔
اس ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے سابق کپتان بابر اعظم کے علاوہ فاسٹ بولرز شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کو بھی آرام دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث گرم رہی کہ کیا انگلینڈ جیسی بڑی ٹیم کے خلاف ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے بابر اعظم کو آرام دینا درست فیصلہ ہوگا لیکن بابر اعظم کی جگہ ٹیم میں شامل کیے جانے والے کامران غلام نے اپنے ٹیسٹ کریئر کی پہلی ہی اننگز میں سنچری سکور کر کے اپنے چناؤ کا فیصلہ درست ثابت کیا تھا۔
’ایسے نتائج کے لیے اچھی پچ بنائیں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سوشل میڈیا صارفین جہاں ایک طرف پاکستان کی فتح پر خوشی ظاہر کر رہے ہیں تو وہیں وہ ساجد خان اور نعمان علی کی کارکردگی کی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکے۔
ایک صارف نے لکھا کہ نعمان علی اور ساجد خان انگلینڈ کے لیے’ڈراؤنا خواب‘ ثابت ہوئے۔
ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ اس جوڑی سے زیادہ لوگوں کو میچ جتوانے کی امید نہیں تھی مگر اس نے سب کو غلط ثابت کیا۔
اسد نامی صارف کہتے ہیں کہ اگر سپنگ وکٹ ہو تو ان دونوں کے پاس بہترین موقع ہوتا ہے۔ ’ہم نے انھیں فلیٹ پچز پر کھلا کر ان سے زیادتی کی۔‘
صحافی ندیم فاروق پراچہ نے اس فتح کی وجہ بہتر ٹیم سلیکشن اور ٹرننگ پچ کو قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹیم بڑی دیر بعد ایک مقصد سے کھیلتی نظر آئی۔
اسی طرح زینب عباس نے کہا ’اگر اچھے نتائج درکار ہیں تو اچھی پچ بنائیں۔‘
دریں اثنا انگلش کمنٹیٹر ناصر حسین نے یہ تبصرہ کیا کہ شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ اِن ’کمر توڑ دینے والی‘ پچز پر بولنگ کرتے ہیں تو اس میں یہ حیرت کی بات نہیں کہ ان کی رفتار کم ہوئی ہے۔
اسامہ بنامی صارف نے طنزیہ کہا کہ ’آخری بار جب پاکستان ہوم ٹیسٹ جیتا تھا تو اس وقت عمران خان وزیر اعظم تھے، ڈالر کی قدر 160 روپے تھی اور پیٹرول کی قیمت 112 روپے فی لیٹر تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہPCB
دوسری اننگز میں پاکستان کے ہیرو نعمان علی کون ہیں؟
38 سالہ لیفٹ آرم سپنر نعمان علی کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ کے تعلقہ کِھپرو سے ہے جہاں انھوں نے اپنی کرکٹ کسی بھی دوسرے نوعمر لڑکے کی طرح ٹیپ بال سے شروع کی۔
جب وہ 13 سال کے تھے تو والد کی ملازمت کی وجہ سے ان کا خاندان حیدرآباد منتقل ہو گیا جہاں نعمان علی نے فضل الرحمن کلب کی طرف سے باقاعدہ کلب کرکٹ شروع کی۔
نعمان علی کو کرکٹ کا شوق اپنے ماموں رضوان احمد کو دیکھ کر ہوا جنھوں نے ایک ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔
نعمان علی ٹیپ بال میں تیز بولنگ کیا کرتے تھے لیکن ماموں کے کہنے پر سپن بولنگ شروع کر دی۔
نعمان علی فرسٹ کلاس کرکٹ میں حیدر آباد کے آرایل اور ناردن کی ٹیموں کی نمائندگی کر چکے ہیں جبکہ یو بی ایل کی طرف سے گریڈ ٹو کرکٹ کھیلے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وہ پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کی طرف سے بھی کھیل چکے ہیں۔انہوں نے انگلینڈ میں بریڈ فورڈ لیگ کرکٹ بھی کھیلی ہے۔
اب تک نعمان علی پاکستان کے لیے 16 ٹیسٹ میچوں میں 58 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے پانچ مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں اور ایک مرتبہ میچ میں دس وکٹیں لینے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
ملتان ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف 46 رنز دے کر آٹھ وکٹیں ان کے کریئر کی بہترین بولنگ بھی ہے اور اس اننگز کے دوران انھوں نے ٹیسٹ کریئر میں 50 وکٹوں کا سنگِ میل بھی عبور کیا ہے۔
نعمان نے 34 برس کی عمر میں پاکستان کے لیے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا اور اس وقت جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان کے پاس انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے زیادہ وقت نہیں رہا، تو ان کا کہنا تھا کہ عمر محض ایک عدد ہے اگر آپ فٹ ہیں اور میدان میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں تو پھرعمر کا کوئی تعلق نہیں۔













