زہران ممدانی: نیویارک کے پہلے مسلمان میئر جو کبھی ’مسٹر الائچی‘ کے نام سے جانے جاتے تھے

زہران ممدانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنزہران کوامے ممدانی 1991 میں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے

زہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے ساتھ ساتھ ایک صدی میں کم عمر ترین میئر بن کر تاریخ رقم کی ہے۔

اس مرتبہ امریکہ کے اس اہم ترین شہر کا میئر بننے کی دوڑ نے معمول سے زیادہ توجہ پائی۔

نیویارک کی ریاستی اسمبلی کے 34 سالہ رکن ممدانی نے سال کا آغاز ایک ’غیر معروف امیدوار‘ کے طور پر کیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب سے اوپر پہنچ گئے۔ ان کا انتخاب ترقی پسندوں کے لیے اس بدلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے ، جو شہر کی سیاست کے مرکز میں تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن سے قبل ووٹرز پر زور دیا کہ وہ ممدانی کو منتخب نہ کریں اور ان کے دیرینہ ناقدین میں سے ایک، سابق گورنر اینڈریو کومو کی حمایت کریں ، جو ڈیموکریٹک پرائمری میں شکست کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب میں شریک تھے۔

الیکشن سے ایک دن قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’چاہے آپ ذاتی طور پر اینڈریو کومو کو پسند کریں یا نہ کریں، آپ کے پاس واقعی کوئی چارہ نہیں ہے۔ آپ کو انھیں ووٹ دینا چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ وہ شاندار کام کریں گے۔ وہ اس کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ممدانی میں نہیں ہے!‘

کومو نے، جو کبھی نیویارک کی ریاستی سیاست میں ایک غالب شخصیت تھے ، اس حمایت کا جواب یوں دیا ’وہ میری حمایت نہیں کر رہے، ممدانی کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘

زہران ممدانی کون ہیں؟

زہران ممدانی اور میرا نائر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنزہران کی والدہ میرا نائر فلمساز ہیں اور انھوں نے بالی وڈ اور ہالی وڈ میں کئی مشہور فلمیں بنائی ہیں

ان کا پورا نام زہران کوامے ممدانی ہے۔ وہ 1991 میں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے۔

ان کے والد محمود ممدانی ایک انڈیا یوگنڈا نژاد سیاست کے ماہر پروفیسر ہیں جبکہ ان کی والدہ میرا نائر بالی وڈ اور ہالی وڈ میں فلمساز ہیں۔ انھوں نے مون سون ویڈنگ اور دی نیم سیک جیسی اہم فلمیں بنائی ہیں۔

زہران اپنی خاندان کے ساتھ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں بھی رہے ہیں لیکن جب وہ سات سال کے تھے تو خاندان کے ساتھ نیو یارک آ گئے۔

انھوں نے نیویارک کے علاقے برونکس میں پرورش پائی جو کہ ایک ملازت پیشہ آبادی کا علاقہ ہے اور ثقافتی تنوع سے بھرپور ہے۔ انھوں نے 'افریکانا سٹڈیز' میں گریجویشن کیا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہے ہیں۔

سنہ 2024 میں ان کی شادی شامی نژاد امریکی آرٹسٹ راما دواجی سے ہوئی۔

تعلیم حاصل کرنے کے بعد زہران نے بطور ’فورکلوزر پریوینشن کونسلر‘ کام کیا جس کا مطلب ایک ایسا مشیر ہے جو غریب خاندانوں کو گھروں سے قرض کی وجہ سے جبری بے دخلی سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور جس کا اثر ان کی عوام کی فلاح و بہبود پر مبنی سیاست پر واضح ظاہر ہے۔

جب زہران ’مسٹر الائچی‘ کے نام سے جانے جاتے تھے

سیاست کی طرف رخ کرنے سے پہلے زہران ممدانی نے فنکاری میں اپنی قسمت آزمائی۔

وہ ’مسٹر کارڈیمم‘ یعنی الائچی والا کے نام سے ریپ گانا گایا کرتے تھے اور 2019 میں ان کا گانا ’نانی‘ خاصا زیر بحث رہا، جس میں عالمی شہرت یافتہ مصنفہ مدھور جعفری نے ایک بےباک نانی کا کردار ادا کیا۔

ان کے ایک ریپ گانے میں پاکستانی گلوکار علی سیٹھی نے بھی حصہ لیا تھا اور جو کہ ان کی حالیہ انتخابی مہم کے حمایت میں نظر آئے ہیں۔

اپنے ریپ گانوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ممدانی نے نیویارک میں مقیم ایک اخبار کو بتایا کہ ’فنکار اس دنیا کے کہانی نگار ہوتے ہیں، اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ صرف برائے نام ہمارے ساتھ نہ ہوں بلکہ ہم ان کے شانہ بشانہ ساتھ چل رہے ہوں۔‘

زہران ممدانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روٹی، کپڑا، مکان اور مفت بسوں کا انتخابی نعرہ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنہ 2020 میں انھوں نے نیویارک کی ریاستی اسمبلی کے لیے انتخاب لڑا اور دس سال تک جیتنے والے رکن کو شکست دے دی۔ وہ ریاستی اسمبلی میں منتخب ہونے والے پہلے جنوبی ایشیائی مرد، پہلے یوگنڈا نژاد اور صرف تیسرے مسلمان بنے۔

میئر کے الیکشن کے لیے ان کی مہم میں نیویارک کے عام لوگوں نے کافی دلچسپی دکھائی کیونکہ انھوں نے ایسے مسائل اٹھائے ہیں جو کہ نیویارک جیسے مہنگے شہر کے عام لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔

زہران کی میئرشپ کی مہم بنیادی طور پر ایک سوشلسٹ نظریہ پیش کرتی تھی جس میں انھوں نے شہر میں رہائش، نقل و حمل اور کھانے کی سہولیات کو زیادہ منصفانہ بنانے کا وعدہ کیا۔ تاہم ان کے ناقدین، مثلا نیویارک ٹائمز اخبار کے ادارتی بورڈ، کا خیال ہے کہ یہ منصوبے مالی طور پر ممکن نہیں ہیں۔

انہوں نے اپنے مسلم عقیدے کو بھی اپنی انتخابی مہم کا ایک نمایاں حصہ بنایا اور جہاں باقاعدگی سے مساجد کا دورہ کیا وہیں شہر کے اخراجات کے بحران کے بارے میں اردو میں ایک ویڈیو بھی جاری کی۔

موسم بہار میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’ہم جانتے ہیں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے عوام میں کھڑے ہونا اس تحفظ کی قربانی دینا بھی ہے جو ہمیں کبھی کبھی سامنے نہ آ کر مل سکتا ہے۔‘

زہران ممدانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیاسی مہم کا مزاحیہ طریقہ کار

اگرچہ زہران کا اندازِ سیاست مزاحیہ ضرور تھا لیکن اس میں سنجیدگی بھی تھی۔

ان کی انتخابی مہم کی ویڈیوز بالی وڈ کے حوالوں کے ساتھ سماجی انصاف کے پیغامات سے بھرپور تھیں۔

ایک ویڈیو میں وہ آم کی لسی کے پانچ گلاس لے کر رینکڈ چوائس ووٹنگ (نیو یارک کا انتخابی نظام جہاں ووٹر امیدواروں کو پہلی سے پانچویں نمبر تک ترجیح دیتے ہیں) کی وضاحت کرتے دکھائی دیے تو ایک پاڈ کاسٹ پر یہ بتایا کہ ان کی مہم لوگوں میں اتنی مقبول ہوئی ہے کہ لوگ اکثر ان کی ڈائریکٹر والدہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا اسے انھوں نے بنایا ہے۔

لیکن جب معاملہ سنجیدہ ہو تب بھی ظہران کافی اثر انگیز نظر آئے ہیں۔

ایک ٹی وی پر نشر مباحثے کے دوران اینڈریو کومو نے بار بار زہران ممدانی کا غلط نام لیا۔

زہران نے تحمل سے ان سے کہا کہ 'ان کا نام مم-دا-نی ہے۔‘ اور پھر مسکراتے ہوئے کومو کے 2021 میں جنسی ہراسانی کے الزام کے بعد استعفے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کبھی شرمندگی کے باعث استعفیٰ نہیں دیا۔ میں نے کبھی میڈیکیڈ (غریبوں کے لیے صحت کا امریکی منصوبہ) میں کٹوتی نہیں کی۔ میں نے کبھی خواتین سے ان کی زچگی کے میڈیکل ریکارڈز کی بنیاد پر مقدمہ نہیں کیا۔ میں نے یہ سب کبھی نہیں کیا کیونکہ۔۔۔ میں آپ نہیں ہوں، مسٹر کومو۔‘

یہ ایک سینیئر ڈیموکریٹ رہنما کے لیے طاقتور تردید تھی اور ویڈیو فوراً وائرل ہو گئی۔

زہران ممدانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انتخابی مہم

زہران کے حامیوں میں نوجوان ووٹرز، تارکینِ وطن اور ترقی پسند طبقات شامل ہیں۔

شہر کے جیکسن ہائٹس جیسے محلوں میں، جہاں جنوبی ایشیائی، لاطینی امریکی، اور مشرقی ایشیائی کمیونٹیز آباد ہیں، مقامی میڈیا کے مطابق ان کی مہم ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی تھی۔

ان کے لیے کام کرنے والے رضاکار انگریزی کے علاوہ ہندی، اردو، بنگلہ اور ہسپانوی زبانوں میں میں گھر گھر جا کر ان کے حمایت میں مہم چلا رہے تھے۔

ان کی انتخابی مہم کا دعویٰ ہے انھوں نے نیویارک شہر کی تاریخ کے سب سے بڑا فیلڈ آپریشن کیا ہے، جو تقریباً 40,000 رضاکاروں پر مشتمل ہے اور 10 لاکھ سے زیادہ گھروں تک پہنچے ہیں۔

کچھ تنظیموں نے بھی فلسطینیوں کے لیے ظہران کی حمایت اور اسرائیل کو ایک 'یہودی ریاست' کے طور پر تسلیم نہ کرنے کے الزام پر اعتراض کیا ہے۔

اس کے جواب میں زہران نے واضح کیا ہے کہ وہ یہود مخالف بیانیے کی مذمت کرتے ہیں اور اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ہر قوم، مذہب اور نسل کے لیے برابری کے حامی ہیں۔

ممدانی وائرل ویڈیوز اور پوڈکاسٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے ان ووٹروں تک پہنچے ہیں جو پارٹی سے مایوس ہیں، اور انھوں نے یہ سب ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کے اپنے ارکان کا اعتماد کم ترین سطح پر ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے بڑے وعدے پورے کر پائیں گے اور بغیر کسی انتظامی تجربے کے وہ ٹرمپ انتظامیہ کی مخالفت کا سامنا کیسے کریں گے۔

ان کا پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ تعلق بھی پیچیدہ ہے کیونکہ وہ بائیں بازو کے ڈیموکریٹس کے لیے قومی سطح پر نمایاں شخصیت بن چکے ہیں۔

ممدانی خود کو 'جمہوری سوشلسٹ' کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ بڑی کمپنیوں کے بجائے کارکنوں کی آواز سنائی جائے۔ یہ ویسا ہی سیاسی طرزِ عمل ہے جو برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے اپنا رکھا ہے اور ممدانی ان کے ساتھ اکثر سٹیج شیئر کر چکے ہیں۔

ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر نیویارک کے شہری 'کمیونسٹ' کو منتخب کرتے ہیں تو وفاقی فنڈز روک دیے جائیں گے۔

ممدانی کا جواب ہے کہ وہ سکینڈینیوین سیاستدان کی طرح ہیں، بس رنگ تھوڑا سانولا ہے۔