آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
11 سال کی عمر میں بین سٹوکس کو نیٹ سیشن میں آؤٹ کرنے والے انگلش بولر ریحان احمد کون ہیں؟
لیگ سپنر ریحان احمد پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں اپنا ٹیسٹ کریئر شروع کرنے کے بعد انگلینڈ کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے ہیں۔
18 سالہ نوجوان ریحان نے ٹیسٹ کرکٹ میں کم عمری میں ڈبیو کرنے کا برائن کلوز کا ریکارڈ توڑ دیا ہے جو سنہ 1949 سے قائم تھا۔
انگلینڈ کی جانب سے کراچی ٹیسٹ میں جیمز اینڈرسن اور آل راؤنڈر ول جیکس کی جگہ ریحان احمد اور وکٹ کیپر بین فوکس کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
انگلینڈ پہلے ہی سیریز جیت چکا ہے اور اب اس کی نظریں ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کرنے پر ہیں۔
کسی بھی مہمان ٹیم نے آج تک پاکستان کو اسی کے ملک میں تین صفر سے شکست دینے میں ناکام رہا ہے، جبکہ انگلینڈ نے صرف تین میچوں یا اس سے زیادہ کی غیر ملکی ٹیسٹ سیریز میں تین بار کلین سویپ حاصل کیے ہیں۔
سنیچر کے روز جب لیسٹر شائر کے ریحان احمد نے اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کیا تو ان کی عمر 18 سال اور 126 دن تھی۔ جبکہ اس سے قبل سابق کپتان کلوز کی ٹیسٹ کرکٹ کی ابتدا کے وقت عمر 18 سال 149 دن تھی جب انھوں نے 73 سال قبل اولڈ ٹریفورڈ میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا تھا۔
انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا: ’میں اُسے (ریحان) بتائے بغیر اسے قریب سے دیکھتا رہا ہوں۔‘
’یہ ریحان کے لیے فیلڈ میں اترنے کا ایک بہترین موقع ہے تاکہ وہ خود کو ظاہر کر سکیں۔ ان پر پرفارم کرنے کا بہت زیادہ دباؤ نہیں ہے، بس وہ اپنے کھیل کا مزہ لیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آپ صرف ایک بار اپنا ڈیبیو کرتے ہیں، آپ اسے دوبارہ کبھی نہیں کر سکتے۔ اگر ہم اسے یہ محسوس کرائیں کہ ان کے پاس وقت کی ایک گیند ہے، اور وہ وکٹ لیتے ہیں اور رنز بناتے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت اچھا ہو گا۔‘
ریحان احمد جمعہ کو بیمار محسوس کر رہے تھے اور انھوں نے ٹریننگ جلدی چھوڑ دی تھی مگر اس کے باوجود انھیں انگلینڈ کی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
وہ انگلینڈ کے لیے ٹیسٹ کھیلنے والے سب سے کم عمر کرکٹر نہیں ہوں گے۔ بائیں ہاتھ کی سپنر ہولی کولون کی عمر 15 سال اور 336 دن تھی جب انھوں نے سنہ 2005 میں آسٹریلیا کے خلاف ویمن ٹیم کی جانب سے میدان میں اتری تھیں۔
سٹوکس کی تعریف
ریحان احمد نے صرف تین فرسٹ کلاس میچز کھیلے ہیں اور 30 کی اوسط سے نو وکٹیں حاصل کی ہیں۔ وہ اس سال انڈر 19 ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے والی انگلینڈ کی ٹیم کا حصہ تھے اور جنوبی افریقہ کی دورہ کرنے والی ٹیم کے خلاف انگلینڈ لائنز کی جانب سے گھیرو میدان میں کھیلے تھے۔
اس کے بعد انھیں متحدہ عرب امارات میں تربیتی کیمپ کے لیے انگلینڈ لائنز سکواڈ میں شامل کیا گیا اور نومبر میں ابوظہبی میں وارم اپ میچ کے دوران مکمل سکواڈ میں شامل کیا گیا۔
ریحان احمد کو کراچی کی پچ پر دورہ کرنے والی انگلینڈ کی ٹیم میں دوسرے فرنٹ لائن سپن باؤلنگ کے آپشن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اور اس پچ پر گیند کے سپن ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔
ریحان خود کو ایک بلے باز سمجھتے ہیں اور ستمبر میں اپنے آخری فرسٹ کلاس میچ میں انھوں نے لیسٹر شائر کی جانب سے ڈربی شائر کے خلاف پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری بنائی تھی۔
بین سٹوکس نے مزید کہا کہ ’یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ ان کی بڑی طاقت کیا ہے، بیٹ یا گیند۔ وہ بیٹ کے ساتھ مظاہرہ کرنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس مختلف قسم کے بہت سے شاٹس ہیں۔ میں یہ دیکھ کر بہت پرجوش ہوں کہ وہ گیند کے ساتھ کیا حاصل کرتے ہیں۔‘
’اُن کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ ’گیند سے وکٹیں لینے کی کوشش کریں، بیٹ سے اس کو مارنے کی کوشش کریں اور میدان میں باؤنڈری کے باہر جانے سے قبل اس کا پیچھا کریں۔‘
یہ بھی پڑھیے
’وہ انگلینڈ کا خواب پورا کر رہے ہیں‘
لیسٹر شائر میں ٹیلنٹ پاتھ وے کے سربراہ جگر نائیک نے بی بی سی ریڈیو فائو لائیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یعنی ریحان انتہائی باصلاحیت ہیں۔
’مجھے لگتا ہے کہ وہ پس پردہ بہت سی چیزیں کرتے ہیں جہاں کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ وہ بہت محنت کرتے ہیں۔ یقینی طور پر ان میں ایک دلچسپ ہنر ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’جب لوگوں نے انھیں کچھ سال پہلے دیکھا تو سب نے انھیں انگلینڈ کا کرکٹر قرار دیا اور انھوں نے اس خواب کو پورا کیا۔ یہ دیکھنا بے مثال ہے۔‘
’وہ ایک شاندار کردار ہے: وہ پرمزاح ہیں، اور وہ اس کو پھیلاتے ہیں۔ میرے خیال میں جب بھی ان کے ہاتھ میں بیٹ آتا ہے، وہ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔ اور یہی بات ان کے آس پاس کے ہر شخص پر چھا جاتی ہے۔‘
ریحان احمد، اب تک کا کریئر
جولائی 2016: محض 11 سال کی عمر میں پاکستان کے خلاف انگلینڈ کے ٹیسٹ میچ سے قبل لارڈز میں ایک نیٹ پریکٹس سیشن کے دوران انھوں نے بین سٹوکس اور سر الیسٹر کک کو آؤٹ کرنے کے بعد خبروں میں اپنی جگہ بنائی تھی۔
جولائی 2021: لیسٹر شائر نے یارکشائر کے خلاف ون ڈے کپ میں انھیں ٹیم میں شامل کیا۔ سات میچ کھیلے، پانچ وکٹیں حاصل کیں اور بلے سے 44.5 کی اوسط سے رنز بنائے۔
نومبر 2021: کاؤنٹی چیمپئن شپ میں شرکت نہ کرنے کے باوجود لیسٹر شائر کے ساتھ معاہدے میں توسیع پر دستخط کیا۔
جنوری-فروری 2022: آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے لیے کھیلے، چار اننگز میں 12 وکٹیں حاصل کیں۔
اپریل 2022: دی ہنڈرڈ کے لیے سدرن بریو نے انھیں خریدا اور لیسٹر شائر کے ساتھ معاہدہ 2026 تک بڑھا دیا گیا۔
مئی 2022: لیسٹر شائر کے لیے کاؤنٹی چیمپئن شپ کا آغاز۔
ستمبر 2022: کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ڈربی شائر کے خلاف پہلی سنچری بنائی۔
نومبر 2022: پاکستان کے تین ٹیسٹ میچوں کے لیے انگلینڈ کے ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کیا گیا۔
دسمبر 2022: انگلینڈ کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بنے۔